Sunday, 19 August 2018

ہالینڈ اور بد دعائیں

" ہالینڈ اور بد دعائیں "
ہالینڈ میں ہمارے ہادی و رہبر حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کے خاکوں کا مقابلہ کروایا جا رہا ہے ۔ ایک ارب سے زیادہ ماننے والے لوگوں کی حریت اور ایمان کا امتحان ہے ۔
ہم نے کیا کیا ؟
ہمارے حکمرانوں نے کیا کیا ؟
ہمارے سیاستدانوں نے کیا کیا ؟
ہمارے میڈیا اور دانشوروں نے کیا کیا ؟ ہمارے علماء نے کیا کیا؟
بد دعائیں کرکے بری الذمہ ہوگئے ۔ اللہ سے کہہ دیا کہ
" اے اللہ ! ہالینڈ کو تباہ و برباد کر دے ۔ ہالینڈ کو صفحہ ہستی سے مٹا دے وغیرہ وغیرہ "
اللہ کو خبر دے دی کہ
" اے اللہ دیکھ تیرے حبیبؐ کی شان میں گستاخی ہونے جا رہی ہے ، اسے روک دے "
کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور ہماری بحیثیت ایک مسلمان کیا ذمہ داری ہے ؟ میں اور آپ تلوار نہیں اٹھا سکتے ، ہالینڈ پر بم نہیں برسا سکتے ، ہالینڈ کے سفیر کو ملک سے نہیں بھگا سکتے ۔ اتنا تو کر سکتے ہیں کہ ہالینڈ سے مقاطعہ کر لیں ۔ اسکی اشیاء سے مقاطعہ کر لیں ۔ ایک ارب سے زائد مسلمان اگر آپ کے اور میرے ساتھ نہیں تو نہ سہی ۔ میں اور آپ تو اسکی مصنوعات کو اپنے اوپر حرام کر سکتے ہیں ۔ ہم سے اسکو چند سکے منافع نہیں ملے گا تو اسکی معیشت برباد نہیں ہوگی ۔ مگر میں نے اور آپ نے ہالینڈ سے دشمنی اور اپنے نبیؐ پاک سے عقیدت کا حصہ تو ڈالا ۔ اسکے بعد اگلے مرحلے میں کسی دوسرے مسلمان بھائی کو قائل کیا ۔ یوں ایک کے ساتھ ایک مل کر ایک طاقت بن ہی جائیگی ۔ کیا ہم ایسا کریں گے ؟ اگر نہیں تو بد دعا کرنا بھی مبافقت ہے ۔ اللہ منافقوں کی نہیں سنتا ۔
کیا آپ یہ پیغام دوسرے بھائی کو دیں گے ؟
آزاد ھاشمی
١٨ اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment