Saturday, 16 March 2019

علی کرم اللہ وجہہ

" علی کرم اللہ وجہہ " 
میں اکثر تنہا بیٹھ کر سوچتا ہوں کہ اسلام کیلئے قربانیاں دینے میں شاید کو صحابی رسولؐ ہو گا ، جس نے عذر کیا ہو ۔ ہر کوئی تن من دھن سے فدا تھا ۔ نبیؐ کے ہر حکم پر ہر صحابی سر پر کفن باندھ لیتا تھا , جو گھر میں ہوتا ،  نبیؐ کے قدموں پر لا کر ڈھیر کر دیتا ۔ اس نظر سے صحابہؓ کے درمیان کوئی بھی تقابل قرین قیاس نہیں ۔ جو جہاں تھا ، اپنی شان سے تھا ۔ مگر جو رسولؐ کے پاس بیٹھ کر بھی بغض اور عناد کو منافقت کے پیچھے چھپائے رہا ،  رسوائی کے  درجے پہ فائز ہو گیا ۔ ایسے بھی تھے جو رسولؐ کی صحبت میں رہے مگر انکا عناد " آل رسولؐ " سے قائم رہا ۔ کئی اسلام کے دشمن مصلحت کے ساتھ اسلام کے ساتھ جڑ تو گئے مگر وہ " علیؑ " کے بغض سے باہر نہ نکل سکے ۔  جیسے یہودی جو زخم آج تک نہیں بھولے وہ " خیبر " پہ علیؑ کی دی ہوئی شکست ہے ۔ کفر کے سینے پہ جو گھاو ہیں ، ان میں بیشتر علیؑ سے منسوب ہیں ۔ آج بھی جو ذہن ذکر علیؑ پر شعلہ زن ہو جاتا ہے ، انکے اباو اجداد کو ضرور علیؑ کا دیا ہوا کوئی زخم یاد آتا ہے  ۔
نبیؐ کی مجلس میں علیؑ کا مقام ہمیشہ منفرد اور واضع رہا ۔  علیؑ اس وقت بھی منفرد تھا ، جب نبیؐ نے حجرت کی رات بستر پر سونے کا حکم دیا ، جب امانتیں سپرد کیں اور علیؑ نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ بہت ساری تلواریں اس بستر پر سونے والے کے خون کیلئے آبدار کی گئی ہیں ۔ یقین اور ایمان کی انتہا کہ امانتوں کی سپردگی کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ۔
علیؑ اسوقت بھی منفرد ، جب مواخات میں نبیؐ نے ہاتھ پکڑ کر اعلان کیا کہ میرا " اخی " علیؑ ہے ۔
علیؑ اسوقت بھی منفرد جب خیبر میں کامیابی کی ہر صورت ممکنات میں نہ رہی تو " علیؑ " کو آواز دے کر بلایا ۔ نبیؑ کو یقین تھا کہ علیؑ ہو گا تو فتح ہوگی ۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ واقعی " علیؑ " نے خیبر توڑ دیا  ۔
مجھے ایک بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ دنیا میں کوئی ایسی مثال قائم نہ ہوسکی کہ اسلام کے طلوع سے پہلے یا بعد میں ، کبھی کسی بچے کو کعبہ کے اندر ولادت نصیب ہوئی ہو ۔ کچھ تو ایسی انفرادیت ضرور ہے کہ یہ نصیب صرف علیؑ کو ملا ۔ کعبہ تو بہت دور کی بات ہے ، آج تک کوئی بچہ کسی مسجد میں ولادت کا حق نہیں پا سکا ۔
کوئی پیمانہ نظر نہیں آتا ، کوئی لفظ ایسا نہیں ملتا ، جس سے علیؑ کی شان کو بیان کرنے میں آسانی ہو جائے ۔ عجیب سی بات ہے کہ کوئی معرکہ ہو ، کوئی طاقت سے باہر کام ہو "علیؑ " کا نعرہ مارنے سے ایک عجیب سی قوت نظر آتی ہے اور اکثر اس سے استفادہ کرتے ہوئے لوگ نظر آتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٥ مارچ ٢٠١٩