اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (14 )
سربراہ مملکت کیلئے جن چار ذاتی صفات پر اختصار سے لکھا ۔ وہ
١۔ تزکیہ نفس
٢۔ علم اور بصیرت
٣ ۔ قابلیت اور سیاسی بصیرت
٤ ۔ سلطنت گیری سے پرہیز ہیں ۔
یہاں مزید صفات کا تذکرہ ہے ۔
۵۔امانتداری
یہ قیادت اوررہبری ایک قسم کی الہی امانت ہے صحیح طریقے سے رہبری کرنا اوراسلامی قوانین کا جاری کرنا ہی امانت داری ہے ،حضرت علیؑ نے فرمایا یادرکھ عہدہ تیرے کھانے اورپینے کا وسیلہ نہیں ہے بلکہ ایک امانت ہے جو تیری گردن پر ہے ۔
امانتداری کا دوسرا رخ بیت المال کے حوالے سے ہے کہ حاکم اس میں خیانت نہ کرے اوراس کو صحیح طریقے سے خرچ کرے ۔ بیت المال کا تعلق عوام سےہے جس کو حکمران کا اپنے لئے استعمال کرنا خیانت ہے ۔ شوریٰ کے سامنے رہبر کے انتخاب کا یہ مرحلہ نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔
(٦):صداقت
صداقت کی صفت کی اہمیت رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث سے لگائی جاسکتی ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ لوگوں کی زیادہ نمازیں ،ان کے روزے ،ان کے حج اورنیکیاں اوررات کو انکی مناجات کو نہ دیکھو بلکہ ان کی صداقت اورامانت کی طرف نگاہ کرو ۔
واضح ہے کہ حاکم صرف حکومت کی سیٹ تک پہنچنے کے لیے جھوٹے وعدے اورلوگوں کو فریب نہ دے لیکن آج کی سیاست میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ اپنے مذموم اہداف تک پہنچنے کےلیے جھوٹے وعدے،فریب اوردھوکے کا سہارا لیتے ہیں اورسیاست کو اسی چیز کا نام دیتے ہیں ۔ چونکہ اسلامی نظام کا طرز انتخاب جمہوری نظام سے مختلف ہے اور کوئی بھی شخص جسے اقتدار کی خواہش ہو ، اقتدار کا اہل نہیں ہوتا ۔ اسلئے شوریٰ پابند ہے کہ مذکورہ صفت کو ملحوظ رکھے ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔ ملاحظہ ہو قسط ١۵ ۔۔
آزاد ھاشمی
Friday, 31 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ 14
Thursday, 30 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ 13
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (13)
گذشتہ تحریر میں ہم نے سربراہ مملکت ، قائد یا امیر کی دو ذاتی صفات کا تذکرہ کیا تھا ، جو ١۔ تزکیہ نفس ٢۔ علم اور بصیرت ہیں ۔ اسی تسلسل میں مزید چند اس تحریر میں لکھی جا رہی ہیں ۔
٣.ذہانت اورسیاسی بصیرت
ضروری ہے کہ جسے رہبری کیلئے منتخب کیا جائے ، وہ ذہانت اورسیاسی بصیرت میں کمال کا حامل ہو، تاکہ حسن تدبیر سے امور کو انجام سکے ، اہداف تک پہنچنے کےلیے چارہ جوئی کرے اور امور مملکت کو درست سمت میں چلا سکے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر حسن تدبیر نہ ہوتو حکومت اورحکمرانی کا نابود ہونا لازم ہے۔ اور ہم اسکا تلخ تجربہ مارشل لاء کی صورت میں بارہا کر چکے ہیں ۔
یقینا حسن تدبیر رکھنے والاحکمران کبھی پریشان نہیں ہوگا اورہر کام کو احسن طریقے سے انجام دے گا ۔ اس شرط کی اہمیت عصرحاضر میں زیادہ روشن ہوجاتی ہے جہاں داخلی اورخارجی دشمنوں اورایجنسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اورحسن تدبیر سے آراستہ حاکم کبھی مغلوب نہیں ہوتا اور بہت سی مشکلات کے مقابلے کے وقت اپنے حواس اورنفس قابو رکھ سکتا ہے ۔ ہم نے عملی طور دیکھا کہ ہمارے اکثر حکمران بیرونی دباو کے سامنے گٹنے ٹیک دیتے ہیں اور ہمیشہ ملکی مفاد کے خلاف کام کر گذرتے ہیں ۔
٤ ۔ ریاست طلبی سے پرہیز
ریاست کی خواہش کرنا نفسانی خودغرضی اور حرص ہے ۔ جو حکمران کا عیب ہے ۔
حضرت علیؑ کا قول ہے حاکم بننے کی خواہش دل کے فاسد ہونے کی نشاندہی کرتی ہے اور اس خواہش کی شدت دین اورحکومت کی نابودی کا سبب بنتی ہے ۔
ہم نے اسکا تجربہ بھی کیا کہ ہمارے مروجہ جمہوری طریقے سے اقتدار تک پہنچنے کیلئے ، کیسے کیسے اخلاق باختہ طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ عوام میں نفرت کو ہوا دے کر امن برباد کیا جاتا ہے ۔ جھوٹ اور افتراء پر گمراہ کیا جاتا ہے ۔ کردار کشی عام رویہ بن جاتی ہے ۔
اسلامی طرز انتخاب میں شوریٰ کیلئے لازم ہوتا ہے کہ وہ اس خامی پر خصوصی نظر رکھے ، کیونکہ اس فطرت کا جو بھی شخص کرسی اقتدار پہ بیٹھ جائے گا ، وہ اپنے اقتدار کو طول دینے اور اسے اپنے اقرباء تک محدود کرنے کی علت کا شکار ہو جائے گا ۔ جس سے مملکت کے مفادات مجروح ہوتے رہیں گے ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔ ملاحظہ ہو قسط ١٤ ..
آزاد ھاشمی
Tuesday, 28 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے؟ 12
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (12)
ہم نے شوریٰ کے اراکین کے ابتدائی مرحلے اور کردار پر ایک مختصر سا جائزہ لیا ہے ۔ جو سربراہ مملکت ، امیر مملکت یا جو بھی نام دے لیا جائے ، اسکا انتخاب کرے گی ۔ شوریٰ سے منتخب شدہ یہ فرد قیادت اور رہبری کی ذمہ داری پوری کرے گا ۔
قیادت عربی زبان کا لفظ ہے جو قود سے لیا گیا ہے یعنی کسی کے آگے چلنا ،رہبری اور راہنمائی کرنا وغیرہ، جیسے کہا جاتاہے، قیادۃ الجیش یعنی لشکر کی کمانڈاوررہبری کرنا یا قائد الجیش یعنی آرمی کمانڈروغیرہ جو ایک آرمی کا کمانڈر،راہنما اوررہبرہوتا ہے ۔ اسی طرح سربراہ مملکت بھی عوام کی قیادت کرتا ہے ۔ یہاں ہم ان شرائط کو دیکھیں گے جو قیادت کیلئے مشروط ہیں ۔ یعنی شوریٰ محض اکثریت رائے سے سربراہ مملکت منتخب نہیں کر لے گی بلکہ انکے سامنے واضع شرائط ہیں جن پر پورا اترنے والا ہی سربراہ مملکت بننے کا اہل ہوگا ۔ ہم ان شرائط کو اختصار کے ساتھ ایک ایک کر کے دیکھیں گے ، تاکہ کوئی ابہام نہ رہے ۔
پہلے مرحلے پر " ذاتی صفات " پر غور کرتے ہیں ۔
۱):تذکیہ نفس
تذکیہ نفس کے موضوع کو اللہ نے گیارہ قسمیں کھانے کے بعد ذکر کیا ہو
قدافلح من زکّٰھا وقدخاب من دسّٰھا؛
کہ سعادت اورکامیابی صرف اس کا مقدر بنے گی جو تذکیہ نفس کے زیور سے آراستہ ہوگا اس کی اہمیت میں ذرہ برابرشک کی گنجائش نہیں رہتی۔تذکیہ نفس ہر انسان کے لیے ضروری ہے لیکن ایک رہبر اورراہنما کے لیے اس کی ضرورت اوراہمیت دوسروں کی نسبت بڑھ جاتی ہے کیونکہ انسان کی زندگی نشیب وفرازکا نام ہے اورتذکیہ نفس انسان کو اس سعادت اورشقاوت کے نشیب وفراز سے ڈھکی وادی سے نکال کر سعادت کے ساحل پر لاکھڑا کرتا ہے کیونکہ انسان کا نفس ایک سرکش گھوڑے کی مانند ہے اگر تذکیہ نفس کے تازیانوں سے رام نہ کیا جائے تو انسان کے دامن میں بدبختی اورتباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا خصوصا ایک رہبر اورراہنما کے لیے کہ جس کے کاندھے پر اپنے بوجھ کے ساتھ عوامی قافلے کی مہار بھی موجود ہے۔
یاد رہے کہ معاشرتی زندگی کی سعادت میں قانون نافذ کرنے والوں کی لیاقت اوراہلیت خود قانون کی نسبت زیادہ موثر اوراثرانداز ہوتی ہے ۔ یہاں جمہوریت سے تقابل کریں تو معاملات متضاد نظر ْآتے ہیں ۔
٢ ۔ علم وبصیرت
ایک رہبر اورراہنما کے لیے علم وبصیرت شرط ہے اوراسلامی تعلیمات میں اس کو ایک اصل کے طورپرقبول کیاگیا ہے اورمختلف مقامات پر اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ حکومتی امور ان اشخاص کے ذمہ لگائے جائیں جو ان کی اہلیت اورقابلیت رکھتے ہوں۔
ہم ایک تلخ تجربے سے گذرے ہیں کہ ہمارے جتنے بھی رہنماء کرسی اقتدار پہ بیٹھے ، وہ نہ تو تزکیہ نفس کی شرط پر پورے اترے اور نہ ہی علمی بصیرت پر ۔ چونکہ جمہوری نظام میں پیمانہ اہلیت نہیں ووٹ ہے اور ووٹ دینے والے کا کوئی معیار نہیں ۔ اسلئے اسلامی نظام زیادہ بہتر ہے کہ سربراہ اور قائد پر شرائط لاگو ہیں ، جن کا تعلق کردار اور معاملہ فہمی سے ہے ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔ ملاحظہ ہو قسط ١٣ ۔۔
آزاد ھاشمی
٢٧ مئی ٢٠١٩
Monday, 27 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (11)
" اسلامی نظام کیوں اور کیسے (11)
اسلامی نظام حکومت پر جو سوال عام طور پر پوچھے جاتے ہیں ،
١ ۔ حکمران کا انتخاب کیسے ہو گا ؟
٢ ۔خلافت کا قیام کیسے ممکن ہوگا؟
٣ ۔ اگر شوریٰ کی بات کرتے ہیں تو شوریٰ کو منتخب کون کرے گا اور کیسے کرے گا ؟
٤ ۔ اسلامی نظام حکومت کے قیام میں کونسے دور کی حکمرانی سے رہنمائی حاصل کی جائے گی ؟
ایسے بیشمار مبہم قسم کے سوال سامنے آتے ہیں ۔ ان تمام جوابات سے پہلے ہمیں اسلامی نظام کے تحت حکمران کیلئے جس لازمی شرط کو سامنے رکھنا ہو گا ۔ وہ جاننا اشد ضروری ہے ۔
اسلامی نظام حکومت کے تحت حکمران کی شرائط میں اسکا " صالح کردار " ہے ۔ وہ کسی کبیرہ اور صغیرہ گناہ کا مرتکب نہیں ہونا چاہئے ۔ اللہ کے احکامات کو من و عن مانتا ہو ۔ اقتدار کی خواہش رکھنے والا نہ ہو ۔ خائن اور جھوٹا نہ ہو ۔ اسلامی علوم اور امور سلطنت پر دسترس رکھتا ہو ۔
انتخاب کیلئے بہترین اور معقول طریقہ یہی ہے کہ اسے ایسے ہی صالح کردار کے لوگ منتخب کریں ، جسے شوریٰ کہا جا سکتا ہے ۔ شوریٰ کیا ہے ؟ اسکا تاریخی پس منظر کیا ہے ؟ اور اسلام میں اسکا کردار اور افادیت کیا ہے ؟
قرآن و حدیث میں اس بات کی صاف تصریح ہے کہ انھی لوگوں سے مشورہ کیا جائے جو امت کے اندر اجتہاد و استنباط کی صلاحیت رکھنے والے ہیں، جن کی حیثیت ارباب حل و عقد اور اولوالامر کی ہے اور جو علم اور تقویٰ کی صفات سے متصف ہیں۔
یہ صفتیں لفظاً بھی قرآن و حدیث میں وارد ہوئی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین نے عملاً بھی ان صفات کو اہل شوریٰ میں ملحوظ رکھا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق شوریٰ کے جتنے واقعات ملتے ہیں، ان سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ قابل مشورہ امور میں انھی لوگوں کو مقدم رکھتے تھے جو علم، راے اور لوگوں کے اعتماد کے پہلو سے فوقیت رکھنے والے ہوتے تھے۔ کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکے کہ اہل الراے اور اصحاب اعتماد کو تو نظر انداز کر دیا ہو اور کسی عام آدمی سے مشورہ کر کے کسی قابل مشورہ امر کا فیصلہ کر دیا ہو۔ یہ ارباب حل و عقد یا اصحاب الراے جن کو شریک مشورہ کیا جاتا، اگرچہ موجودہ سیاسی مفہوم میں قوم کے منتخب نمایندے نہیں ہوتے تھے، اس لیے کہ اس زمانہ میں انتخابات کا موجودہ طریقہ روشناس نہیں ہوا تھا، لیکن یہ لوگ اپنے اپنے گروہوں کے معتمد نمایندے ضرور ہوتے تھے۔ ان کے معتمد ہونے کی دلیل یہ ہوتی تھی کہ ان گروہوں کے لوگ اپنے معاملات میں انھی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ یہ تسلسل اسلام سے پہلے بھی قبائل عرب میں رائج تھا ۔
اب اصل قابل فکر معاملہ یہ ہے کہ ہم اس شوریٰ کی ابتداء کیسے کریں ؟ جمہوری عمل کی اس خامی کا تذکرہ ہم پہلے کر چکے ہیں کہ جمہوری طرز حکومت میں پارلیمنٹ کیسے لوگوں کا مجموعہ ہوتی ہے اور انکا طرز انتخاب کیونکر ناقص ہے ۔
ہمیں صاحب الرائے افراد کے ابتدائی مرحلے کیلئے مختلف مکتبہ فکر کے جید اور با کردار علماء ، دانشور ، مختلف شعبہ جات سے دیانتدار اور صالحہ افراد ، اچھی شہرت کے حامل غیر سیاسی افراد کی ایک مخصوص ٹیم تشکیل دینا ہو گی ۔ ضروری ہے کہ اس ٹیم کے افراد اقتدار کی طلب رکھنے والے نہ ہوں ، کردار آلودہ نہ ہو ۔ اس ابتدائی ٹیم میں بہترین انتخاب بتدریج ہو گا ۔ اور چند بار میں وہ شوریٰ قائم ہو جائے گی ، جو صالحہ اور با کردار " امیر " یا " حکمران " کا انتخاب کر سکے گی ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔ ملاحظہ ہو قسط ١٢ ۔۔
آزاد ھاشمی
٢٧ مئی ٢٠١٩
Sunday, 26 May 2019
علیؑ سے سیکھو
" علیؑ سے سیکھو "
ہم مسلمانوں نے علیؑ کی زندگی کا صرف ایک پہلو منزل بنا لیا ۔ علیؑ کو جب بھی دیکھا ، جہاد کرتے دیکھا ، جب بھی دیکھا اللہ کے رسولؐ کی ڈھال کی شکل میں دیکھا ۔ زندگی کا یہ بے مثل نمونہ تو اپنی جگہ مسلم ہے ۔ جس سے اپنے تو اپنے ، غیر بھی معترف ہیں ۔ کوئی ایسا میدان نہیں ، جہاں علیؑ ہو اور اسلام کو شکست کا سامنا کرنا پڑے ۔ علیؑ شجاعت کی معراج ، اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ۔ علیؑ ، رسولؐ کے گھر کا حصہ کوئی اختلاف نہیں ۔ الفاظ نہیں کہ علیؑ کی شان کو بیان کرنے کی حد پائی جا سکے ۔
ایک پہلو ، جس پر خیال آرائی کی کوشش ہے کہ ہم نے علیؑ سے علم سیکھنے کی کوشش نہیں کی ۔ علم انبیاء کی میراث ہوتا ہے ۔ علم سے آدمؑ کو فرشتوں کے سامنے معتبر کیا گیا ۔ علم اللہ کا انعامات میں سے افضل ترین انعام ہے ۔ اور کائنات میں اللہ کے حبیبؐ اسکی معراج پر ہیں ۔ علم کا کمال آپؐ کی ذات پر ہوتا ہے ۔ فکر تو کریں کہ اللہ کے پیارے رسولؐ نے کیوں فرمایا ۔
" میں علم کا شہر ہوں اور علی اسکا دروازہ ہے "
شہر تک پہنچنا ہو تو دروازہ سے گذرنا ہوتا ہے ۔ مگر ہم دروازہ تک پہنچے ہی نہیں اور شہر کی عظمت کا اندازہ کرتے رہے ۔ ایک ہی راستہ تھا علم حاصل کرنے کا اور وہ تھا " علم کے شہر کا دروازہ " ۔
ہم نے علیؑ سے پوچھا ہی نہیں کہ جو رسولؐ نے کہا اسکا مطلب و معانی کیا ہیں ؟ ہم نے اس سمندر کی گہرائی کا پیمانہ کیا ہی نہیں ۔ رسولؐ کی احادیث ، اسوہ اور علم کو جاننے کیلئے دیواروں سے ٹکریں مار لیں مگر جو راستہ تھا ، اس سے گذرنے کی زحمت نہیں کی ۔ یہی وہ غلطی تھی کہ ہم نہ رسولؐ کو پہچان پائے ، نہ قرآن سمجھ آیا اور نہ اللہ تک رسائی ملی ۔ ہم ترتیب سے بے خبر ہوگئے کہ اللہ کیطرف کیسے بڑھنا ہے ۔ راستہ کیا ہے اور منزل کیسے ملے گی ۔ تو علیؑ سے سیکھو ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ مئی ٢٠١٩