Friday, 31 May 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ 14

اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (14 )
سربراہ مملکت کیلئے جن چار ذاتی صفات پر اختصار سے لکھا ۔ وہ
١۔  تزکیہ نفس
٢۔  علم اور بصیرت
٣ ۔ قابلیت اور سیاسی بصیرت
٤ ۔ سلطنت گیری سے پرہیز ہیں ۔
یہاں مزید صفات کا تذکرہ ہے ۔
۵۔امانتداری
یہ قیادت اوررہبری ایک قسم کی الہی امانت ہے صحیح طریقے سے رہبری کرنا اوراسلامی قوانین کا جاری کرنا ہی امانت داری ہے ،حضرت علیؑ نے فرمایا یادرکھ  عہدہ تیرے کھانے اورپینے کا وسیلہ نہیں ہے بلکہ ایک امانت ہے جو تیری گردن پر ہے ۔
امانتداری کا دوسرا رخ بیت المال کے حوالے سے ہے کہ حاکم اس میں خیانت نہ کرے اوراس کو صحیح طریقے سے خرچ کرے ۔ بیت المال کا تعلق عوام سےہے جس کو حکمران کا اپنے لئے استعمال کرنا خیانت ہے ۔ شوریٰ کے سامنے رہبر کے انتخاب کا یہ مرحلہ نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔
 (٦):صداقت
صداقت کی صفت کی اہمیت رسول اکرم  صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث سے لگائی جاسکتی ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ لوگوں کی زیادہ نمازیں ،ان کے روزے ،ان کے حج اورنیکیاں اوررات کو انکی مناجات کو نہ دیکھو بلکہ ان کی صداقت اورامانت کی طرف نگاہ کرو ۔
واضح  ہے کہ حاکم صرف حکومت کی سیٹ تک پہنچنے کے لیے جھوٹے وعدے اورلوگوں کو فریب نہ دے لیکن آج کی سیاست میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ اپنے مذموم اہداف تک پہنچنے کےلیے جھوٹے وعدے،فریب اوردھوکے کا سہارا لیتے ہیں اورسیاست کو اسی چیز کا نام دیتے ہیں ۔ چونکہ اسلامی نظام کا طرز انتخاب جمہوری نظام سے مختلف ہے اور کوئی بھی شخص جسے اقتدار کی خواہش ہو ، اقتدار کا اہل نہیں ہوتا ۔ اسلئے شوریٰ پابند ہے کہ مذکورہ صفت کو ملحوظ رکھے ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔ ملاحظہ ہو قسط ١۵ ۔۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment