Monday, 27 May 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (11)

" اسلامی نظام کیوں اور کیسے (11)
اسلامی نظام حکومت پر جو سوال عام طور پر پوچھے جاتے ہیں ،
١ ۔ حکمران کا انتخاب کیسے ہو گا ؟
٢ ۔خلافت کا قیام کیسے ممکن ہوگا؟
  ٣  ۔ اگر شوریٰ کی بات کرتے ہیں تو شوریٰ کو منتخب کون کرے گا اور کیسے کرے گا ؟
٤ ۔ اسلامی نظام حکومت کے قیام میں کونسے دور کی حکمرانی سے رہنمائی حاصل کی جائے گی ؟ 
ایسے بیشمار مبہم قسم کے سوال سامنے آتے ہیں ۔ ان تمام جوابات سے پہلے ہمیں اسلامی نظام کے تحت حکمران کیلئے جس لازمی شرط کو سامنے رکھنا ہو گا ۔ وہ جاننا اشد ضروری ہے ۔
اسلامی نظام حکومت کے تحت حکمران کی شرائط میں اسکا " صالح کردار " ہے ۔ وہ کسی کبیرہ اور صغیرہ گناہ کا مرتکب نہیں ہونا چاہئے ۔ اللہ کے احکامات کو من و عن مانتا ہو ۔ اقتدار کی خواہش رکھنے والا نہ ہو ۔ خائن اور جھوٹا نہ ہو ۔ اسلامی علوم اور امور سلطنت پر دسترس رکھتا ہو ۔
انتخاب کیلئے بہترین اور معقول طریقہ یہی ہے کہ اسے ایسے ہی صالح کردار کے لوگ منتخب کریں ، جسے شوریٰ کہا جا سکتا ہے ۔ شوریٰ کیا ہے ؟ اسکا تاریخی پس منظر کیا ہے ؟  اور اسلام میں اسکا کردار اور افادیت کیا ہے ؟
قرآن و حدیث میں اس بات کی صاف تصریح ہے کہ انھی لوگوں سے مشورہ کیا جائے جو امت کے اندر اجتہاد و استنباط کی صلاحیت رکھنے والے ہیں، جن کی حیثیت ارباب حل و عقد اور اولوالامر کی ہے اور جو علم اور تقویٰ کی صفات سے متصف ہیں۔
یہ صفتیں لفظاً بھی قرآن و حدیث میں وارد ہوئی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین نے عملاً بھی ان صفات کو اہل شوریٰ میں ملحوظ رکھا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق شوریٰ کے جتنے واقعات ملتے ہیں، ان سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ قابل مشورہ امور میں انھی لوگوں کو مقدم رکھتے تھے جو علم، راے اور لوگوں کے اعتماد کے پہلو سے فوقیت رکھنے والے ہوتے تھے۔ کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکے کہ اہل الراے اور اصحاب اعتماد کو تو نظر انداز کر دیا ہو اور کسی عام آدمی سے مشورہ کر کے کسی قابل مشورہ امر کا فیصلہ کر دیا ہو۔ یہ ارباب حل و عقد یا اصحاب الراے جن کو شریک مشورہ کیا جاتا، اگرچہ موجودہ سیاسی مفہوم میں قوم کے منتخب نمایندے نہیں ہوتے تھے، اس لیے کہ اس زمانہ میں انتخابات کا موجودہ طریقہ روشناس نہیں ہوا تھا، لیکن یہ لوگ اپنے اپنے گروہوں کے معتمد نمایندے ضرور ہوتے تھے۔ ان کے معتمد ہونے کی دلیل یہ ہوتی تھی کہ ان گروہوں کے لوگ اپنے معاملات میں انھی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ یہ تسلسل اسلام سے پہلے بھی قبائل عرب میں رائج تھا ۔
اب اصل قابل فکر معاملہ یہ ہے کہ ہم اس شوریٰ کی ابتداء کیسے کریں ؟ جمہوری عمل کی اس خامی کا تذکرہ ہم پہلے کر چکے ہیں کہ جمہوری طرز حکومت میں پارلیمنٹ کیسے لوگوں کا مجموعہ ہوتی ہے اور انکا طرز انتخاب کیونکر ناقص ہے ۔
ہمیں صاحب الرائے افراد کے ابتدائی مرحلے کیلئے مختلف مکتبہ فکر کے جید اور با کردار علماء ، دانشور ، مختلف شعبہ جات سے دیانتدار اور صالحہ افراد ، اچھی شہرت کے حامل غیر سیاسی افراد کی ایک مخصوص ٹیم تشکیل دینا ہو گی ۔ ضروری ہے کہ اس ٹیم کے افراد اقتدار کی طلب رکھنے والے نہ ہوں ، کردار آلودہ نہ ہو ۔ اس ابتدائی ٹیم میں بہترین انتخاب بتدریج ہو گا ۔ اور چند بار میں وہ شوریٰ قائم ہو جائے گی ، جو صالحہ اور با کردار " امیر " یا " حکمران " کا انتخاب کر سکے گی ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔ ملاحظہ ہو قسط ١٢ ۔۔
آزاد ھاشمی
٢٧ مئی ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment