" علیؑ سے سیکھو "
ہم مسلمانوں نے علیؑ کی زندگی کا صرف ایک پہلو منزل بنا لیا ۔ علیؑ کو جب بھی دیکھا ، جہاد کرتے دیکھا ، جب بھی دیکھا اللہ کے رسولؐ کی ڈھال کی شکل میں دیکھا ۔ زندگی کا یہ بے مثل نمونہ تو اپنی جگہ مسلم ہے ۔ جس سے اپنے تو اپنے ، غیر بھی معترف ہیں ۔ کوئی ایسا میدان نہیں ، جہاں علیؑ ہو اور اسلام کو شکست کا سامنا کرنا پڑے ۔ علیؑ شجاعت کی معراج ، اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ۔ علیؑ ، رسولؐ کے گھر کا حصہ کوئی اختلاف نہیں ۔ الفاظ نہیں کہ علیؑ کی شان کو بیان کرنے کی حد پائی جا سکے ۔
ایک پہلو ، جس پر خیال آرائی کی کوشش ہے کہ ہم نے علیؑ سے علم سیکھنے کی کوشش نہیں کی ۔ علم انبیاء کی میراث ہوتا ہے ۔ علم سے آدمؑ کو فرشتوں کے سامنے معتبر کیا گیا ۔ علم اللہ کا انعامات میں سے افضل ترین انعام ہے ۔ اور کائنات میں اللہ کے حبیبؐ اسکی معراج پر ہیں ۔ علم کا کمال آپؐ کی ذات پر ہوتا ہے ۔ فکر تو کریں کہ اللہ کے پیارے رسولؐ نے کیوں فرمایا ۔
" میں علم کا شہر ہوں اور علی اسکا دروازہ ہے "
شہر تک پہنچنا ہو تو دروازہ سے گذرنا ہوتا ہے ۔ مگر ہم دروازہ تک پہنچے ہی نہیں اور شہر کی عظمت کا اندازہ کرتے رہے ۔ ایک ہی راستہ تھا علم حاصل کرنے کا اور وہ تھا " علم کے شہر کا دروازہ " ۔
ہم نے علیؑ سے پوچھا ہی نہیں کہ جو رسولؐ نے کہا اسکا مطلب و معانی کیا ہیں ؟ ہم نے اس سمندر کی گہرائی کا پیمانہ کیا ہی نہیں ۔ رسولؐ کی احادیث ، اسوہ اور علم کو جاننے کیلئے دیواروں سے ٹکریں مار لیں مگر جو راستہ تھا ، اس سے گذرنے کی زحمت نہیں کی ۔ یہی وہ غلطی تھی کہ ہم نہ رسولؐ کو پہچان پائے ، نہ قرآن سمجھ آیا اور نہ اللہ تک رسائی ملی ۔ ہم ترتیب سے بے خبر ہوگئے کہ اللہ کیطرف کیسے بڑھنا ہے ۔ راستہ کیا ہے اور منزل کیسے ملے گی ۔ تو علیؑ سے سیکھو ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ مئی ٢٠١٩
Sunday, 26 May 2019
علیؑ سے سیکھو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment