Saturday, 25 May 2019

علیؑ کی شہادت

" علیؑ کی شہادت "
شہادت گواہی کو بھی کہتے ہیں اور شہادت اللہ کی راہ میں جان دینے کو بھی ۔ اگر ہم ان دونوں معانی کو حیدر کرارؑ کی ذات سے جوڑ کر دیکھیں تو دونوں عظیم تر درجے پر ہیں ۔ نہایت کم عمری میں ، جب لڑکپن کا وقت ہوتا ہے ، جس وقت کی گواہی معتبر نہیں ہوتی ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے علیؑ سے گواہی دلائی اور بہت عظیم گواہی دلائی ۔ اللہ کے نبیؐ کی بعثت کی گواہی ۔ اللہ کے نبیؐ کی صداقت کی گواہی ۔ وحی کے نزول کی گواہی ۔ الہام کی گواہی ۔ قرآن کی پہلی آیت کی گواہی ۔ آج اس گواہی کی صداقت پر دنیا قائم ہے اور ایمان لا چکی ہے کہ
" محمد اللہ  کے رسول " ہیں ۔
عرب کے بت پرستوں کو ، شیطان کے پجاریوں کو ، گمراہی میں گھرے سرداروں کو اس گواہی سے بھی عناد تھا اور گواہ سے بھی عناد رہا ۔
مگر رسولؐ کو اس گواہی سے بھی پیار تھا اور گواہ سے بھی ۔ جہاں ضرورت پڑی ، جب ضرورت پڑی ، اس ننھے گواہ کو آواز دے لی ۔ پھر اس گواہ کی طاقت کے سامنے بڑے بڑے پہاڑ بے بس ہوگئے ۔ دشمن تلملاتے رہے ، انتظار کرتے رہے کہ کب اس روشن چراغ کو بجھا دیں ۔ مجرم ہمیشہ اس کھوج میں رہتا ہے کہ اسکے جرم کا پردہ کھولنے والے کو کب نشانہ ستم بنائے ۔ علیؑ کی عظمت اور شان کچھ مجرم خصلت لوگوں کیلئے حسد کا سبب بھی تھی اور یہ خوف بھی کہ علیؑ ہو گا تو انکی سرداری قائم نہیں ہو پائے گی ۔ یہ وہ سبب تھا کہ  بد بخت ابن ملجم کے ہاتھ میں زہر میں بجھا ہتھیار تھما دیا کہ  اگر وار کارگر نہ ہوا تو زہر کا اثر جان لے لے گا ۔
اب دوسری شہادت کا وقت تھا۔ اللہ کی راہ میں جان دینے کا وقت ۔ اللہ کے دین کو خون سے آبیاری کا وقت ۔ وہ علیؑ جس کے سامنے عرب و عجم کے بڑے بڑے شہ زور بھی کانپنے لگتے تھے  ۔ کس کی مجال تھی کہ علیؑ پر تلوار سونت لے ۔ کون تھا جو سامنے آکر مقابلے کی جرات کرتا ۔  کم ظرف جانتے تھے کہ علیؑ کا سجدہ ، علیؑ  کا رکوع ، اور علیؑ کی نماز اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کی شکل تھی ۔ دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہو کر سجدہ ریز ہونا ، علیؑ کی شان تھی ، تربیت تھی اور مزاج تھا ۔ اسلام کے لبادے میں منافق مشاہدہ کر چکے تھے کہ جب بھی شیر خدا کے جسم سے نیزے ، تیر یا بھالے کا پھل نکالا ، سجدے میں نکالا تو آپؑ کی زبان سے کبھی درد کے احساس کی آواز نہیں سنی گئی ۔ ابن ملجم نے اسی لئے مسجد کا انتخاب کیا ۔ عقب سے وار کرنا ، نہایت بزدل کی نشانی ہوا کرتی ہے ۔
" اللہ کے گھر میں پیدا ہونا اور اللہ کے گھر سے واپس جانا " پوری کائنات میں صرف علیؑ کی شان ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ مئی ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment