" اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (1) "
موضوع کی طوالت کے تحت چند حصوں میں لکھنے کی کوشش ہے تاکہ موضوع کی وضاحت ہو سکے ۔
اسلامی نظام کا قیام کیوں ضروری ہے ، یہ سمجھنے سے پہلے ہمیں مروج نظام کو دیکھنا ہوگا ۔ اس بارے میں جمہوریت پر چند نا گزیر سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ انہیں پرکھ لیا جائے تو معاملات زیادہ آسانی سے سمجھ آجاتے ہیں ۔
١- کیا جمہوریت نظام حکومت ہے یا اقتدار کے حصول کی سیڑھی ؟
شاید اس میں کسی کو شک و شبہ نہیں کہ جمہوریت قطعی طور پر نظام حکومت نہیں ۔ یہ ایک طریقہ ہے ، راستہ ہے اور سیڑھی ہے جو اقتدار پر پہنچنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۔ اس سیڑھی کے استعمال کے بعد ایک مخصوص وقت تک یہ سسٹم غیر فعال ہو جاتا ہے ۔ اس جمہوری عمل کی ایک ناکامی یہ ہے ۔ اگر کسی دوسرے نے سو میں سے گیارہ ووٹ حاصل نہیں کئے تو گیارہ ووٹ حاصل کرنے والا فاتح ہے ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ تین فیصد ،چار فیصد اور پانچ فیصد اکٹھے مل بیٹھیں اور اقتدار بانٹ لیں ۔ جمہوری عمل کا سب سے ناقص اور کمزور پہلو یہی ہے ۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ
٢ ۔ کیا جمہوریت کے تحت حکمران کیلئے کردار کا کوئی معیار قائم ہے ؟ "
کسی بھی ریاست کا حکمران اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ عوام کے حقوق کوکماحقہ پورا کرے گا ۔ ریاست کے مفادات کا تحفظ کرے گا ، عادل اور منصف ہو گا ، ریاستی مذاہب اور عقائد کو انکی حدود میں رکھے گا ۔ یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے کہ اسکا کردار صالح اور عیب دار نہ ہو ۔ عادی مجرم اور معاشرتی برائیوں سے آلودہ شخص کو اقتدار دینا قرین قیاس نہیں ہے ۔ اسکے لئے اسکا ماضی اور اسکے روز مرہ معمولات بہت اہم ہوتے ہیں ۔ جمہوریت میں کردار کوئی شرط نہیں ، اسکے معاشرتی اور سماجی معاملات سے کوئی سروکار نہیں ۔ اگر معاشرے کے کسی حصے میں بدقماش لوگوں کی اکثریت ہے تو وہ کسی بدقماش کے سر پر کامیابی کی ٹوپی رکھ سکتے ہیں ۔ اسطرح اقتدار پر پہنچنے والے چوں چوں کا مربہ بن جاتے ہیں ۔ اور وہ عوام کے مسائل سے زیادہ اپنے مسائل میں الجھے رہتے ہیں ۔ مثبت نتائج مبہم ہو جاتے ہیں ۔ جمہوریت کا بہت منفی پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ شاید ہم نے اس تلخ تجربے کا ذائقہ چکھا ہے ، چکھ رہے ہیں اور چکھتے رہیں گے ۔
۔۔۔۔مزید اگلی پوسٹ میں جاری ہے ۔ ۔۔۔
آزاد ھاشمی
مئی ١١ ۔ ٢٠١٩
No comments:
Post a Comment