اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (2) "
گذشتہ تحریر میں جمہوریت پر دو سوال اور انکے ممکنہ جواب تحریر کئے تھے ، جن پر کوئی اختلاف نہیں کیا گیا اور جمہوریت کے مبلغ حقائق سے متفق نظر آتے ہیں ۔ اس تحریر میں مزید سوالات پر خیال آرائی کی کوشش ہے ۔ سوال ہے کہ
٣- کیا جمہوری نظام میں ووٹ دینے والے کی اہلیت میں عمر کے علاوہ کوئی دوسرا پیمانہ قائم ہے ؟ "
جب جمہوری عمل کا آغاز ہوا تو اس کا مرکز یونان تھا ، وہاں ووٹ دینے کا ایک پیمانہ نافذ کر دیا گیا ، جس کے تحت چند مخصوص طبقہ کے پاس یہ حق تھا ۔ عام سطح کے کسی شخص کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا ۔ طاقتور اشرافیہ کی تشکیل کیلئے مرتب کیا جانے والا یہ نظام جمہوریت کہلایا ۔ مگر رفتہ رفتہ اس کو پھیلانا شروع کیا گیا اور یورپ کے ممالک نے انسان کے بنیادی حقوق کی نفی کہہ کر اس میں ایک حد لاگو کر دی کہ ووٹ دینے والے کا بالغ ہونا اور آزاد خیال ہونا ضروری ہے ۔ وہ اپنی رائے کو آزادی سے استعمال کرنے کے اہل ہو گا۔ یہاں اہلیت ، تعلیمی قابلیت ، جنس اور کردار کی حد ختم کر دی گئی ۔ یہ اہمیت کیوں ختم کی گئی ؟ اسکے پیچھے ایک شاطرانہ چال تھی ۔ سیاست کے کھلاڑی اچھی طرح سے اگاہ تھے کہ عقلی اور کردار کی شرط عائد کر دی گئی تو سیاسی مداری اپنا کھیل کھل کر نہیں کھیل سکیں گے ۔ سیاسی گروہوں کی اجارہ داری کسی وقت بھی ختم ہو جائے گی ۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ سیاست سے متعلق لوگ خدمت خلق کا کھیل پیش کرکے اقتدار حاصل کرتے ہیں ۔ ذہین اور صاحب الرائے لوگ انکے کردار کو دیکھ کر انہیں میدان سے باہر کر سکتے ہیں ۔ سیاست پوری دنیا میں ایک پیشہ کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ آج کسی بھی ملک میں دیکھ لیں وہی لوگ اقتدار میں آتے ہیں جو بطور پیشہ سیاستدان ہیں ۔ ان سیاسی شعبدہ بازوں نے اپنے اپنے ووٹر مختلف طریقوں سے نتھی کر رکھے ہیں ۔ چونکہ ان ووٹرز کا تعلیمی معیار ، کردار ، معاشرتی رہن سہن ، معاملات کی سوجھ بوجھ مشروط نہیں ہے تو یہ ووٹر اپنے مفادات ، کم فہمی ، ذاتی تعلقات اور پارٹی یا امیدوار سے ذاتی وابستگی کو اہمیت دیتے ہیں ۔ یوں ایک مخصوص گروہ بن جاتا ہے ۔ جسے پارٹی کہہ لیا جاتا ہے جبکہ ہر پارٹی میں صاحب اختیار لوگ چند ہوتے ہیں باقی سب انکے کارندوں کا کردار کرتے ہیں اور کارکن کہلاتے ہیں ۔ چونکہ ووٹر کی اہلیت کا کوئی معیار نہیں تو عام طور پر ووٹ کے استعمال میں زیرک اور عقل و فہم والے لوگ اس جمہوری عمل سے الگ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ کسی بھی سیاستدان کیلئے اس سے اچھی بات کوئی نہیں کہ اسکا ووٹر مطلب پرست ، عقل و شعور سے پیدل ، مجرم پیشہ یا لالچی ہو ۔ یہ وہ گر ہے جو جمہوریت کے میدان میں عمل پیرا ہوتا ہے اور شاطر شخص سیٹ پر آ کر بیٹھ جاتا ہے ۔ کردار باختہ لوگ اس جھمیلے میں نہیں پڑتے کہ انکا امیدوار باکردار ہے یا نہیں ۔ انہیں صرف یہ سرو کار ہوتا ہے کہ انکے جائز اور ناجائز مفادات کیسے حاصل ہونگے ۔ اسلئے جمہوریت میں ووٹر کی اہلیت کا کوئی معیار مقرر نہیں ہے ۔ یہ ایک بنیادی خامی ہے جو بدکردار اور اقتدار پرست طبقوں کو بقا بخشے ہوئے ہے ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔ اگلی قسط ملاحظہ فرمائیں "۔۔
آزاد ھاشمی
مئی ١٢ ۔ ٢٠١٩
Tuesday, 21 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے 2
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment