اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟( (5 ) "
جمہوریت پر ایک ایسا سوال ہے ، جو عوام کی معاشی ترقی سے متعلق ہے ۔ سوال ہے کہ
٦ ۔ کیا جمہوری عمل معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ نہیں ؟
ایک دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ
٧ ۔ پارلیمان کا دائرہ عمل ہے کہ وہ قانون سازی کریں تاکہ عوام کو سہولیات کی راہ ہموار ہو ۔ کیا قانون سازی کیلئے ایک فوج کی ضرورت ہے یا چند زیرک اور معاملہ فہم قانون دانوں کی ؟ "
اسراف ہمارے دین میں ایک ناقابل قبول خرابی ہے اور قرآن میں واضع الفاظ میں کہا گیا کہ اللہ پاک اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اسراف وہ اخراجات ہیں جو اپنی استطاعت اور ضرورت سے باہر ہو کر کئے جائیں ۔ جمہوری عمل کھلا اسراف ہے ، جو ملک کی معیشت کو معذور کر کے رکھ دیتا ہے ۔ وہ ملک جہاں لوگ صاف پانی کو ترس رہے ہوں ، عورتیں سڑکوں پر بچے جننے لگیں ، غریب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے ہوں ، بچے درختوں کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہوں ، وہاں ہر پانچ سال اربوں روپے کا ضیاع اسلئے کر دیا جائے کہ چور اچکے منتخب کر کے اسمبلی کی سیٹیں رونق افروز کی جائیں ۔ سینکڑوں ممبران کو منتخب کیا جائے اور پھر انہیں ہر ماہ اربوں روپے تنخواہ اور مراعات دی جائیں ۔ ان ممبران کی افادیت کیا ہے؟ ستر سال سے کونسی قانون سازی ہوئی ، کونسی دستوری پیچیدگیاں درست کی گئیں ، عوام کی سہولیات کے کتنے قانون بنے ؟ نظام حکومت میں کیا تبدیلی آئی ؟
اگر تجزیہ کیا جائے تو سینکڑوں ممبران میں کتنے صاحب الرائے ہوتے ہیں اور کتنے ہاتھ کھڑا کرنے والے ؟
جمہوری عمل کا بد ترین پہلو یہ ہے کہ ہر قانونی اور دستوری تبدیلی کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اکثریت کی رائے شامل ہو ۔ جس وجہ سے کوئی بھی عوامی مفاد کی تجویز رد ہو سکتی ہے ۔ بڑی خامی یہ ہے کہ جتنے لوگ زیادہ ہونگے ، کسی رائے پہ اتفاق کے اتنے ہی کم چانس ہونگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
جمہوریت پر بیشمار سوال باقی ہیں ۔ مگر موضوع کی طوالت کے پیش نظر اگلی قسط میں یہ بحث زیر غور ہوگی کہ " اسلامی نظام کا نفاذ کیسے "
آزاد ھاشمی
١٥ مئی ٢٠١٩
Tuesday, 21 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے 5
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment