Wednesday, 22 May 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے (9)

اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (9)
نظام کوئی بھی ہو ، ملک کی معیشت انتہائی اہم ہوتی ہے ۔ معیشت کی بہتری اس بات کی دلیل ہے کہ عوام ذہنی دباو سے آزاد رہتے ہیں اور مثبت سوچ کے ساتھ مثبت اقدام کرتے ہیں ۔ یہ وہ گر ہے جو ترقیاتی سوچ کو جنم دیتا ہے ۔ اگر معیشت متوازن نہ ہو تو بیشمار مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ بد دیانتی ، بدامنی ، لوٹ کھسوٹ وغیرہ عام ہو جاتے ہیں ۔ چونکہ عوام کی سہولیات کا گہرا تعلق ملکی معیشت سے جڑا ہوتا ہے ۔  اسلئے یہ شعبہ انتہائی اہم ہے ۔ ہم چونکہ معیشت کی نچلی سطح پر ہیں ، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا مسائل ہیں ، جو ہماری معیشت کو بہتر نہیں ہونے دیتے اور انکا حل کیا ہے ۔
ہم ایک مقروض ملک ہیں ، اور ہم پر قرضوں کے بوجھ کے مسلسل اضافہ کی ایک بڑی وجہ وہ سود ہے جو ہم ادا کرتے ہیں ۔ سود کا نظام ہمارے کاروبار کا بھی بڑا حصہ بن چکا ہے ۔
دوسری بڑی وجہ انتخابی عیاشی ہے جو ہر پانچ سال بعد روایت بن گئی ہے ۔
تیسری بڑی وجہ جمہوری طرز سے آنے والی حکومت کی شہ خرچی اور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ہے جو پارلیمان ، وزراء ، حکمران بے دریغ کرتے ہیں ۔
ان تمام اخراجات کو پورا کرنے کیلئے عوام پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ، پیداوار پر اضافی بوجھ ڈالا جاتا ہے ۔ جس بناء پر تجارت متاثر ہوتی ہے اور ملکی مصنوعات کے مقابلے میں بیرونی مصنوعات سستی ہو جاتی ہیں ۔ تجارت کا توازن دو طرح سے بگڑنے لگتا ہے ، ایک برآمدات کم ہوتی ہیں اور درآمدات بڑھ جاتی ہیں ۔ موجودہ نظام حکومت میں ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ۔
اب اسی نظام معیشت کو اسلامی طرز حکومت کے تحت دیکھیں تو ٹیکس کے نظام کی جگہ زکوٰة ، عشر اور خمس لے لیتے ہیں ۔ ان تمام طریقوں سے نہ پیداواری اخراجات بڑھتے ہیں اور نہ غریب پر بوجھ پڑتا ہے ۔ یہ
" زر مردہ" کو " زندہ معیشت " میں تبدیل کرنے کا بہترین گر ہے جو کسی دوسرے نظام میں نہیں ۔ امراء اور حکمرانوں کا احتساب ہوتا ہے اسلئے وہ ایک کلئے اور قاعدے کے تحت چلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ایک مختصر سی شوریٰ ہوتی ہے ، جس کے اخراجات واجبی سے ہوتے ہیں ۔ ٹیکس نہ ہونے کے باعث اشیائے صرف سستی ہو جاتی ہیں اور آسانی سے بین الاقوامی منڈی میں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں ۔ سود کی جگہ "مشارکہ " اور " مضاربہ " لاگو ہو جاتا ہے ۔ 
اب ان اصطلاحات کو نافذ کرنے میں کونسا جتن کرنا ہوگا ۔ کونسے فساد کا خطرہ ہے ؟
۔۔۔ جاری ہے ۔ قسط ١٠ ملاحظہ فرمائیں ۔۔
آزاد ھاشمی
٢٣ مئی ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment