Tuesday, 21 May 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے 3

اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (3) "
اس ضمن میں دو اقساط پیش کر چکاہوں  جس میں جمہوریت کے حقائق پر لکھنے کی اشد ضرورت محسوس کی گئی کیونکہ جب تک جمہوریت سمجھ نہیں آئے گی تب تک اسلامی نظام کے نفاذ کا طریقہ سمجھ نہیں آ سکتا ۔ یہاں پہ یہ واضع کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ جمہوریت کا طریقہ اتحاد ملت کو کسطرح شکست و ریخت سے دوچار کرتا ہے ۔
سوال ہے کہ
٤ ۔ کیا جمہوریت  گروہ بندیوں کو جنم دینے کا باعث نہیں بنتی ؟
جمہوری عمل کی سب بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں شامل ہر گروہ اپنے مخصوص نعرے استعمال کر کے اپنے ہم خیال لوگوں کو پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے اور پھر اسی پلیٹ فارم سے دوسرے لوگوں کے ذہن پراگندہ کئے جاتے ہیں ۔ یہاں مودی کا بھارت کی سیاست میں کردار اس کی ایک زندہ مثال ہے کہ اس نے مذہب کو اشتعال میں لاکر اقتدار حاصل کیا. گو اسکا یہ عمل اپنے ملک کے اندر ایک انارکی کا سبب بنے گا. ٹرمپ کا اقتدار میں آنا بھی ایسی ہی ایک کڑی ہے ۔ اب جب ہم پاکستان کے جمہوری عمل کو دیکھتے ہیں تو بہت ساری جماعتیں لسانی تعصب کو ہوا دیتی نظر آتی ہیں ۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں ہی نہیں ، سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی لسانیت کے نام پر جو قتل و غارت گری ہوئی ، اور جو یکجہتی اور اتحاد کو نقصان پہنچا کہ علاقوں میں نو گو ایریاز بن گئے ۔ اسکے پیچھے وہ طاقت کار فرما تھی جو جمہوریت کے نام پر حاصل کرکے پارلیمانی نظام پر غلبہ حاصل کر لیا گیا ۔ لسانی تعصب کے نام پر پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کئی پارٹیاں پوری قوت سے متحرک ہیں ۔ علاقائی سوچ بھی نہائت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے ۔ جو مزید گروہ بندی کرے گی ۔ یہی حال کچھ مسالک کا ہے ۔ کئی ایک پارٹیاں مسلک کو استعمال کر کے بھی ووٹ لینے کی کوشش کرتی ہیں ۔ تعجب خیز ہے کہ اس جمہوری نظام میں ذات برداری کو بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ کسی برادری کا کوئی معتبر شخص اگر کسی سیاستدان سے منسلک ہے تو پوری برادری کو امیدوار کی ہر برائی کے باوجود اس بات قائل کرتا ہے کہ اسے ووٹ دیا جائے ۔ کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ جتنی پارٹیاں ہونگی ، اتنے گروہ ہونگے اور ہر گروہ کے اپنے اپنے مفادات اولیت پر ہونگے ۔
۔۔۔" مزید ملاحظہ ہو اگلی قسط میں "۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٣ مئی ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment