Tuesday, 21 May 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے 6

اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟( 6 ) "
گذشتہ اقساط میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جمہوریت کسی بھی اعتبار سے نہ تو نظام ہے اور نہ اقتدار تک رسائی کا مناسب طریقہ ۔ کوئی ایک ایسی خوبی نظر نہیں آتی کہ ہم اس سے چپکے رہیں ۔
اس قسط میں ہم ان اعتراضات کو دیکھتے ہیں جو عام طور اسلامی نظام کے نفاذ کی بات پر کئے جاتے ہیں ۔
١  ۔ کہا جاتا ہے کہ اسلامی نظام جمہوریت کے بغیر ممکن ہی نہیں اور ناقابل نفاذ ہے ۔
٢- یہ بھی سوال ہوتا ہے کہ جمہوریت کے بغیر سربراہ مملکت کا کیا طریقہ ہو گا ؟
٣ ۔ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ آج تک کب اور کہاں اسلامی نظام نافذ ہوا ، جسے ہم بطور رہنمائی دیکھ سکیں ؟
٤ ۔ اگر شوریٰ کا تقرر کیا جائے تو شوریٰ میں لوگوں کا انتخاب کیسے ہو گا ؟
٥ ۔ ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ کونسا اسلامی نظام نافذ ہوگا ؟ سعودی یا ایرانی ؟
٦ ۔ یہ خوف بھی ہے کہ اگر جمہوریت کے بغیر اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو بہت قتال ہو گا ۔
٧ ۔ یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ اسلامی نظام میں مسالک کے الگ الگ فقہ ہیں ، تو کونسا فقہ نافذ العمل ہو گا ؟  ۔
ایسے بیشمار خدشات اور سوالات سامنے آتے ہیں ، جو یہ یقین دلانے کی کوشش میں کئے جاتے ہیں کہ اگر کسی ذہن میں یہ فتور ہے کہ اسلامی نظام لازم ہے تو وہ فتور نکل جائے ۔ تعجب خیز امر یہ ہے کہ یہ سوالات لبرل کم اور اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے زیادہ کرتے ہیں ۔ تاویلات بے ہنگم اور بے معنی سی ہوتی ہیں ۔  بے دلیل بحث اور چند رٹے ہوئے سوالات کی بھرمار ہو جاتی ہے ۔
اصل الجھن یہ ہے کہ ہم اسلامی نظام کو " خلافت " کے ساتھ نتھی کر کے دیکھتے ہیں ۔ خلافت کے تصور کو ناقانل عمل کہا جا سکتا ہے ، کیونکہ خلافت کیلئے تمام امت مسلمہ پر واحد حکمران کا تصور ہے ۔ جو جغرافیائی حدود بندی کی وجہ  سے ناقابل عمل ہے ۔ مگر کسی ایک خطے کیلئے کوئی بھی نام منتخب ہو سکتا " امیر " بھی کہا جا سکتا ہے یا کوئی دوسری اصطلاح استعمال کی جا سکتی ہے ۔ لہذا یہ موضوع بے معنی ہے کہ خلافت کیسے قائم ہو گی ۔
جب ہم آصطلاح " اسلامی نظام " استعمال کرتے ہیں ۔ تو جو امر سمجھنے کی ضرورت ہے وہ " نظام " ہے ۔
ہم انشاء اللہ اگلی قسط میں " اسلامی نظام " اور دیگر " نظام  ہائے سلطنت " پر سرسری تقابل دیکھیں گے ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٥ مئی ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment