Tuesday, 21 May 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے 8

اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (8)
گذشتہ قسط میں حکومتی نظام کے دو شعبے زہر بحث تھے ، جس میں ایک عدل و قانون اور دوسرا محکمہ داخلہ ۔
حدود اور تعزیرات کے ضمن میں بالکل واضع ہے کہ اسلامی نظام نہایت مساویانہ اور سخت گیر رویہ رکھتا ہے ۔ جرم کی بیخ کنی کیلئے مجرم جو بھی ہو اسے سزا لازمی دی جاتی ہے اور استثنیٰ کسی کو نہیں ملتا ۔
مگر جمہوریت میں جب معاشرے کے بد ترین لوگ مل کر کسی کو منتخب کریں گے تو اس منتخب شدہ فرد کو احسانمندی کے طور پر اپنے ووٹر کے جرائم کی پشت پناہی کرنا پڑتی ہے ۔ یہ وہ خرابی ہے جو جرائم کو ختم نہیں ہونے دیتی ۔ اسلامی تعزیرات اور حدود کے لاگو کرنے میں ، تجزیہ نگار بہت شدومد سے اعتراض کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بیشمار مسالک ہیں اور ہر مسلک کا  اپنا اپنا الگ فقہ ہے ۔  ایسی صورت میں کونسا فقہ نافذ العمل ہوگا اور کس فقہ کی حدود اور تعزیرات لاگو ہونگی ؟ اکثر محققین کے خیال میں یہ  ایک بڑی رکاوٹ ہے جو ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہونے دیگی  ۔ کسی حد تک یہ خدشہ درست ہے مگر اس خدشے کا بہت آسان حل ہے کہ ہر مجرم کو اسی کے فقہ کی سزا دے دی جائے تو یہ ابہام از خود ختم ہو جائے گا  ۔ فقہی اختلافات کیوجہ سے اسلامی نظام کے اصولی فیصلوں سے فرار کوئی مثبت سوچ نہیں ہے ۔ ہر فقہ کے ماننے والے پر حدود و تعزیرات اسی فقہ کے مطابق لاگو کر دینے میں نہ کوئی قباحت ہے اور نہ کوئی مسلہ کہ اسلامی نظام سے انکار کر دیا جائے ۔
نظام سلطنت میں ہر شہری کے بنیادی حقوق نہایت اہم ہوتے ہیں ۔ ہر حکومت کے فرائض منصبی میں ہے کہ ہر شہری کو زندگی تمام سہولیات کا مساویانہ اور معقول بندوبست کرے ۔ کسی شہری کی قابلیت اور ذہنی استعداد کو نظر انداز نہ کرے کہ اسکی حق تلفی ہو ۔ شہری حقوق کا جو نظریہ اور دستور و قاعدہ اسلام پیش کرتا ہے وہ کسی  دوسرے نظام کا خاصہ نہیں ۔  اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ اس امر کی واضع گواہی ہے کہ ایک عام شہری کو حق ہے کہ وہ سربراہ مملکت سے پوچھ سکے کہ اسکا لباس کم کپڑے میں کیسے بن گیا ۔ یعنی احتساب کا حق ہر شہری کے پاس ہوتا ہے ۔ یہ ہے وہ حکمرانی جس کی ضرورت ہر معاشرے کو ہے مگر یہ اختیار اسلام کے سوا کوئی دوسرا نظام پیش نہیں کرتا ۔
یہ سمجھنے میں شاید کوئی غلط فہمی باقی نہیں رہ جاتی کہ عدل و انصاف ، قانون اور جان ، عزت و مال کا تحفظ اسلامی نظام کے تحت لاگو کرنے سے کسی بہت بڑے امتحان سے گذرنے کا خوف بے معنی ہے ۔ خلوص نیت ہو تو ایک دن میں اسے لاگو کیا جا سکتا ہے ۔
۔۔۔۔جاری ہے ۔ ملاحظہ ہو قسط (9)
آزاد ھاشمی
٢١ مئی ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment