" اسلامی نظام کیوں اور کیسے (10)
تجارت وہ شعبہ ہے ، جو کسی بھی حکومت کی معیشت میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ دنیا میں جتنے بھی ممالک ترقی یافتہ ہیں یا ترقی پذیر ہیں ، ان سب کی معاشی بیساکھی " تجارت " ہے ۔ جو ملک جتنا دیانتدار ہے ، اسکی تجارتی ساکھ اتنی ہی مضبوط ہے ۔ تجارت میں دیانتدار اور رویہ کسی بھی قوم کے کردار کا غماض ہوتا ہے ۔ شومئی قسمت سے ہم اس شعبے میں اچھی شہرت نہیں رکھتے ۔ ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی ، بد عہدی ، وزن میں کمی ، کوالٹی پر مصالحت وغیرہ وغیرہ ، وہ عام برائیاں ہیں جو ہمارا معمول ہیں ۔ ہمارا مزاج ہے کہ اپنے گاہک سے دھوکہ کر کے زیادہ منافع حاصل کیا جائے ۔ اس رحجان نے ہمیں بین الاقوامی منڈیوں میں بدنام کر رکھا ۔ اس پر طرہ یہ کہ حکومت میں اس پر نہ کوئی پکڑ ہے ، نہ متحرک قانون اور نہ ہی کنٹرول پر توجہ ۔ شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ادارے رشوت کو حق سمجھ چکے ہیں ۔ شاید یہ وجہ بھی ہے کہ تاجر اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں اور وہ سیاسی پارٹیوں کے فنانسر بھی ہوتے ہیں ۔ وہ اسطرف توجہ ہی نہیں ہونے دیتے ۔
وجہ جو بھی ہے ، قابل قبول نہیں کیونکہ اس برائی کے اثرات پورے معاشرے پر ہوتے ہیں ۔ تجارت میں ایک رحجان ، ذخیرہ اندوزی کا ہے ، جو عام ہے ۔ تجارت میں سود عملی طور پر شامل ہے ، جو قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ، اسی طرح بے ہنگم ٹیکس بھی ہمیں بین الاقوامی منڈیوں سے دور کر رہا ہے ۔ پچھلے ستر سال سے ہم اپنی تجارتی نیک نامی حاصل کرنے میں ناکام ہیں ۔ چونکہ جمہوری عمل میں پارلیمنٹ اور حکومت تک پہنچنے والے کسی نہ کسی طرح سے تاجر ہی ہیں ۔ اور یہ شعبہ ناکام ہو گیا ۔
اب اسی شعبے کو اسلامی نظام کے تحت دیکھتے ہیں ، تو تمام مذکورہ خرابیاں ، حرام ہیں اور قابل گرفت ہیں ۔ اسلام میں ذخیرہ اندوزی نہ صرف برائی ہے بلکہ قابل گرفت جرم اور ناجآئز ہے ۔
تاجر کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنی شے کے عیب نہ چھپائے ۔ باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے سوال کیا گیا کہ منافع کی شرح کیا ہونی چاہئے ؟ آپؑ نے فرمایا ۔
" پچیس فیصد جس میں تجارت اخراجات شامل ہوں ، جائز ہے ۔ چالیس فیصد زیادتی ہے اور اسی فیصد ظلم ہے ، واپس لوٹانا پڑے گا " یعنی اگر آپ کا منافع غیر منطقی ہے تو کسی نہ کسی صورت میں آپ کی دسترس سے نکل جائے گا ۔
اسلامی نظام میں جو تجارتی حدود نافذ ہوتی ہیں ، وہ تجارت کی بہترین شکل ہے ۔ اب ان اسلامی شرائط کو تجارت پر لاگو کرنے میں کونسی رکاوٹ ہے؟ کونسا جہاد ضروری ہے کہ اس شعبے کو اسلامی نظام سے مربوط کر دیا جائے ؟
محض عذر بے معنی ہے ۔
۔۔جاری ہے ۔۔ ملاحظہ ہو قسط ١١ ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ مئی ٢٠١٩
Friday, 24 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (10)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment