Saturday, 6 May 2017

جلدی سویا کریں

*جلدی سونے کے لیے اس بات کو ذہن میں رکھیں.

کہ اس طریقہ سے اللہ نے ہمیں بنایا...رات کو سوئیں اور دن میں کام کریں..

*آج مجھے کچھ نیا پتہ چلا....ایک قدرتی کینسر وکسین کا۔*

اللہ فرماتا ہے:(ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشکل میں ہوں)20:2

اللہ نے ہم سب کے دماغ میں ایک *گلینڈ* رکھا ہے جسے *پاینیل گلینڈ* کہتے ہیں,اسے *انسانی جسم کا حیاتیاتی گھڑیال* بھی کہتے ہیں اور یہ ہمارے بصری اعصاب سے منسلک ہوتا ہے.یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے جتنا ایک مٹر.

*ہر روز عشاء کے بعد یہ گلینڈ ایک مادہ تیار کرنا شروع کر دیتا ہے جسے میلاٹونین کہتے ہیں جو خون کی نالیوں میں بہتا ہےاور جسم کو کینسر سے بچاتا ہے.*

*یہ صرف اندھیرے میں کام کرتا ہےاگر محض آنکھ ہی روشنی میں رہے تو بھی یہ کام نہیں کرتا کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ ابھی رات نہیں ہوئی...*

پھر اگر آپ رات کو بھی روشنی میں رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خود کو قدرتی ویکسین سے محروم کر رہے ہیں...

اللہ فرماتا ہے:(ہم نے رات کے آثار ختم کیے اور روشن دن بنایا)17:12

بدقسمتی سے,ہم نے آجکل رات کے آثار کو دن کی نسبت زیادہ دیدنی کر دیا ہے کہ ہم رات بھر جاگتے ہیں اور سارا دن سوتے ہیں.۔
۔
ہمارے آباواجداد جو رات کو جلد سونے اور جلدی جاگنے کے عادی تھےوہ کینسرکا شکار نہ ہوتے اور نہ ہی ایسی کسی بیماری کا جن کا آجکل ہم سنتے ہیں

*فارمی مرغیوں پر ایک تحقیق کی گئی,ایک قدرتی طور پر پلتی مرغی جو جلدی سوتی ہے اور کھانے کے لیے جلدی جاگتی ہے جبکہ مصنوعی طریقے سے رکھی گیی مرغی کو کھانا رات کو جاگتا رکھ کر کھلایا جاتا ہے*

*%30کینسر مصنوعی طریقے سے پالی گئی مرغیوں کی وجہ سے ہوا جبکہ قدرتی طریقہ سے پالی گئی مرغیاں کسی بھی بیماری سے پاک تھیں..*

اللہ نے ہماری حفاظت کے لیے یہ قدرتی ویکسین ہمارے اندر رکھی ہے آئیں جلدی سو کر اس سے فائدہ حاصل کریں..

*یہ گلینڈ عشاء کے فوراً بعد اپنا کام شروع کرتا ہے جو فجر سے دو گھنٹے پہلے تک جاری رہتا ہے!!!*

سبحان اللہ جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ فجر سے دو گھنٹے پہلے تک جو رات کا تیسرا پہر ہے

اپنے ہدایت نامہ(قرآن) پہ عمل کریں اور ہمیشہ تندرست رہیں
ان شاءاللہ

کینسر کا علاج احادیث سے بھی ثابت ہے اور سائنس سے بھی...

اس شاندار علاج (جسے اللہ نے انسان کے اندر رکھا ہے...)کو لازمی پڑھیں اور آگے شئیر کریں

امور خارجہ کی تباہی

" امور خارجہ کی تباہی "
کسی بھی ملک کے استحکام ، ترقی اور امن میں خارجہ تعلقات کی اہمیت مسلم ہے ۔ جو ملک اپنی خارجہ پالیسی میں مات کھا جاتے ہیں ، انکے دشمن ہمیشہ ان پر حاوی ہو جاتے ہیں ۔ اقتصادی مشکلات بڑھتی جاتی ہیں اور کرتے کرتے دنیا میں اکیلے رہ جانا مقدر بن جاتا ہے ۔
ہم آج اسی مقام پہ کھڑے ہیں ، کبھی شکوہ کرتے ہیں کہ عربوں نے بھارت کو ترجیحی بنیادوں پر اپنانا شروع کر دیا ہے ۔ کبھی رونے لگتے ہیں کہ ترکی ہمارا دوست ہو کر بھارت سے پینگیں بڑھا رہا ہے ۔
شکوے اور شکایات عوامی سطح پر ابھرتے ہیں , اور وہ لوگ چیختے ہیں ، جن کے دل میں وطن کا درد ہوتا ہے مگر ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز سے زیادہ نہیں ہوتی ۔
وہ لوگ جو دیار غیر میں ہوتے ہیں , وہ گواہ ہیں کہ ہمارے سفارتی اہلکار ایک الگ تھلگ سوچ کے لوگ ہوتے ہیں ۔ کیونکہ وہ عملی طور پر زیادہ فعال نظر نہیں آتے ۔ اسکی کی وجوہات تو وہی جانتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہی ہے ۔
اگر ان سفارتی اہلکاروں کے زخم دیکھو تو یہ لوگ عام شہری سے زیادہ دکھی ہیں ۔ شاید وہ بھی سچ ہی کہتے ہوں کہ انہیں وہ وسائل ہی مہیا نہیں کئے جاتے جن کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور فنڈز کی مد میں دیا جانے والا سرمایہ محض ایمبیسی کو زندہ رکھنے کے لئے ہوتا ہے کام کرنے کے لئے نہیں ۔
اس سارے حقائق و واقعات سے اندازہ لگانا نہایت آسان ہے کہ ملک دشمنی کی جڑیں بہت گہرائی میں ہیں ۔ اور اسکی آبیاری ہر حکمران کرتا رہا ہے ۔
ازاد ھاشمی

آل رسول کا کیا قصور تھا

" آل رسول کا کیا قصور تھا  "
زمانہ کتنی  بھی پردہ پوشی کرے حقائق کو کوئی بھی رنگ دیا جائے ۔ اس حقیقت سے قطعی فرار ممکن نہیں کہ آل رسول سے دشمنی کی وجہ , اقتدار کی ہوس تھی ۔ خاندانی رقابت تھی اور کینہ تھا ، جسکا آغاز اسلام کے طلوع ہونے پر شروع ہو گیا تھا ۔
خاندان امیہ کے جانشین , اپنی تمام تر توانائیوں کو آل رسول کے خلاف استعمال کرنے پر عمل پیرا تھے ۔ علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کے خلاف ریشہ دوانیوں سے  ہٹ کر  کھلی بغاوت پر اتر آنا ، اس سوچ کی عکاس تھی . کربلا میں شہادت حسین علیہ السلام کے بعد جو بربریت , انسانی تاریخ کا  بد ترین  سلوک پردہ دار بیبیوں ، معصوم بچوں سے  کیا گیا ۔ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ایمان کی ایک معمولی سے رمق  ان لوگوں میں باقی نہ تھی ۔ انسان کے لباس میں ان درندوں نے ، آل رسول کو تاراج کرنے میں ہر حربہ اختیار کیا ۔ اسکے بعد تسلسل سے تمام امام , جن کی علمی قابلیت مسلم تھی ، جو صرف اسلام کی تعلیم کو فروغ دینے کی سعی کرنے کو اپنی زندگی کا حاصل سمجھتے تھے ۔ اموی جانشینوں نے جینے کا حق چھین لیا ۔ اور ایک کے بعد ایک مکتبہ فکر کو پروان چڑھاتے رہے ۔ امامت کو حکومتی سرپرستی میں لے آنے کی قبیح کوشش کا نتیجہ ہے کہ آج اسلام فروعی اختلافات کا مذہب بن کر رہ گیا ۔ قران سے دوری اسی سوچ سے شروع ہوئی ، یہ تصور اسی لئے وجود میں آیا کہ قران کو سمجھنا ، ایک عام ذہن کے بس میں ہی نہیں ، اس غرض  سے ان گنت مفروضوں نے جنم لیا ۔ ان گنت حوالہ جات  جمع ہوئے ۔ اور یہی فقہ بن گئی ، یہی اجتہاد ہو گیا ۔ اسے ہی دین سمجھا جانے لگا ۔
صرف اور صرف آل رسول کو خارج کیا گیا ۔
سوال یہ ہے کہ آل رسول سے جو امام تھے ، ان سے آخر دشمنی کیا تھی ، کیوں تھی ۔
سوال یہ ہے کہ اسکے اثرات مثبت نکلے یا منفی ۔ 
ازاد ہاشمی

ازدواجی زندگی

امام احمد ابن حنبل رح کی اپنے بیٹے کو خوشگوار ازدواجی زندگی کیلئے ۱۰ قیمتی نصیحتیں*

امام احمد ابن حنبل رح نے اپنے صاحب زادے کو شادی کی رات ۱۰ نصیحتیں فرمائیں

ہر شادی شدہ مرد کو چاہیئے کہ انکو غور سے پڑھے اور اپنی زندگی میں عملی طور پر اختیار کرے

*میرے بیٹے، تم گھر کا سکون حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملے میں ان ۱۰ عادتوں کو نہ اپناؤ*

لہذا ان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ کرو

*پہلی دو* تو یہ کہ عورتیں تمھاری توجہ چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہو

لہذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اسکو بتاؤ کہ وہ تمہارے لئے کس قدر اہم اور محبوب ہے
(اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی، رشتوں کو اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے)

یاد رکھو اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسی سے کام لیا تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخ دراڑ آجائے گی جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت کو ختم کردے گی

۳- عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے

لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بےجا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں

لہذا ان دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا تاکہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو

۴- عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رکھتی ہیں جو شوہر اپنی بیوی سے رکھتا ہے

یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم

لہذا ہمیشہ اسکا خیال رکھنا

۵- یاد رکھو گھر کی چار دیواری عورت کی سلطنت ہے، جب وہ وہاں ہوتی ہے تو گویا اپنی مملکت کے تخت پر بیٹھی ہوتی ہے

اسکی اس سلطنت میں بےجا مداخلت ہرگز نہ کرنا اور اسکا تخت چھیننے کی کوشش نہ کرنا

جس حد تک ممکن ہو گھر کے معاملات اسکے سپرد کرنا اور اس میں تصرف کی اسکو آزادی دینا

۵- ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت کرنا چاہتی ہے لیکن یاد رکھو اسکے اپنے ماں باپ بہن بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع جائز ہے

لہذا کبھی بھی اپنے اور اسکے گھر والوں کے درمیان مقابلے کی صورت پیدا نہ ہونے دینا کیونکہ اگر اسنے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ بھی دیا تب بھی وہ بےچین رہے گی اور یہ بےچینی بالآخر تم سے اسے دور کردے گی

۷- بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اسی میں اسکا حسن بھی ہے

یہ ہرگز کوئی نقص نہیں، وہ ایسے ہی اچھی لگتی ہے جس طرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں

لہذا اسکے ٹیڑھپن سے فائدہ اٹھاؤ اور اسکے اس حسن سے لطف اندوز ہو

اگر کبھی اسکی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو اسکے ساتھ سختی اور تلخی سے اسکو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی، اور اسکا ٹوٹنا بالآخر طلاق تک نوبت لے جائے گا

مگر اسکے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ کرنا کہ اسکی ہر غلط اور بےجا بات مانتے ہی چلے جاؤ ورنہ وہ مغرور ہو جائے گی جو اسکے اپنے ہی لئے نقصان دہ ہے

لہذا معتدل مزاج رہنا اور حکمت سے معاملات کو چلانا

۸- شوہر کی ناقدری اور ناشکری اکثر عورتوں کی فطرت میں ہوتی ہے

اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں کرتے رہو لیکن کبھی کوئی کمی رہ گئی تو وہ یہی کہے گی تم نے میری کونسی بات سنی ہے آج تک

لہذا اسکی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا اور نہ ہی اسکی وجہ سے اس سے محبت میں کمی کرنا

یہ ایک چھوٹا سا عیب ہے اس کے اندر

لیکن اسکے مقابلے میں اسکے اندر بے شمار خوبیاں بھی ہیں

بس تم ان پر نظر رکھنا اور اللہ کی بندی سمجھ کر اس سے محبت کرتے رہنا اور حقوق ادا کرتے رہنا

۹- ہر عورت پر جسمانی کمزوری کے کچھ ایام آتے ہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالٰی نے بھی اسکو عبادات میں چھوٹ دی ہے، اسکی نمازیں معاف کردی ہیں اور اسکو روزوں میں اس وقت تک تاخیر کی اجازت دی ہے جب تک وہ دوبارہ صحتیاب نہ ہو جائے

بس ان ایام میں تم اسکے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا جیسے اللہ تعالٰی نے اس پر مہربانی کی ہے

جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اسکی کمزوری کا لحاظ رکھتے ہوئے اسکی ذمہ داریوں میں کمی کردو، اسکے کام کاج میں مدد کرادو اور اس کے لئے سہولت پیدا کرو

۱۰- آخر میں بس یہ یاد رکھو کہ تمہاری بیوی تمہارے پاس ایک قیدی ہے جسکے بارے میں اللہ تعالٰی تم سے سوال کرے گا۔ بس اسکے ساتھ انتہائی رحم و کرم کا معاملہ کرنا

Thursday, 4 May 2017

DO YOU KNOW

Basic information *DO YOU KNOW*?

1. *Your shoes are the first thing people subconsciously notice about you. Wear nice shoes.*

2. *If you sit for more than 11 hours a day, there's a 50% chance you'll die within the next 3 years.*

3. *There are at least 6 people in the world who look exactly like you. There's a 9% chance that you'll meet one of them in your lifetime.*

4. *Sleeping without a pillow reduces back pain and keeps your spine stronger.*

5. *A person's height is determined by their father, and their weight is determined by their mother.*

6. *If a part of your body "falls asleep", you can almost always "wake it up" by shaking your head.*

7. *There are three things the human brain cannot resist noticing - Food, attractive people and danger.*

8. *Right-handed people tend to chew food on their right side.*

9. *Putting dry tea bags in gym bags or smelly shoes will absorb the unpleasant odour.*

10. *According to Albert Einstein, if honey bees were to disappear from earth, humans would be dead within 4 years.*

11. *There are so many kind of apples, that if you ate a new one everyday, it would take over 20 years to try them all.*

12. *You can survive without eating for weeks, but you will only live 11 days without sleeping.*

13. *People who laugh a lot are healthier than those who don't.*

14. *Laziness and inactivity kills just as many people as smoking.*

15. *A human brain has a capacity to store 5 times as much information as Wikipedia*

16. *Our brain uses same amount power as 10-watt light bulb!!*

17. *Our body gives enough heat in 30 mins to boil 1.5 litres of water!!*

18. *Stomach acid (conc. HCl) is strong enough to dissolve razor blades!!*

19. *Take a 10-30 minute walk every day. & while you walk, SMILE. It is the ultimate antidepressant.*

20. *✋Fwd‬ this to everyone ☝on your list...a worthy information for people to be aware of.*👍

Wednesday, 3 May 2017

کرپشن کیا ہے



کرپشن کیا ہے




کرپشن کیا ہے ? ہم رشوت لینے اور دینے کو کرپشن سمجھتے ہیں -   کرپشن کا مفھوم پوری طرح معلوم ہی نہیں -
ہر وہ عمل جو قانونی , سماجی , معاشرتی , اخلاقی اور مذہبی قوانین و ضوابط سے ہٹ کر ہو , کرپشن کے زمرے میں آتا ہے -
ایک وکیل جو اچھی طرح سے جانتا کہ اسکا کلائنٹ غلط ہے اور قانون شکنی کا مرتکب ہے , اسے بچانے کی ہر کوشش کرپشن ہے - یہ وہ ایسی کرپشن ہے جس نے عدالتی نظام کی بنیاد کھوکھلی کر دی ہے - یہی وہ مہارت ہے جو ایک وکیل کو بڑا وکیل بناتی ہے - جج بھی سب جانتے ہوۓ انصاف سے ہٹ کر فیصلہ کرے تو یہ بھی کرپشن ہے -
ہم جانتے ہوۓ  بھی کہ ہمارا حمایت یافتہ امیدوار بد دیانت , شرابی , زانی اور بد کردار ہے - ووٹ دیتے ہیں تو یہ بھی کرپشن ہے -
ایک مذہبی جماعت اگر مذہب کے نام پر حاصل کیے گئے وسائل کو سیاست کے  لئے استعمال کرے تو یہ بھی کرپشن ہے -
اگر اسمبلیاں قانون سازی میں جھول رکھیں تو اسے بھی کرپشن ہی کہا جاے گا -
ایک مزدور اگر اپنی ڈیوٹی پوری طرح سے نہیں کرے گا یا کارخانہ دار مزدور کو پوری اجرت نہیں دیتا , تو یہ سب بھی کرپشن ہی ہے -
اگر ہم کرپشن کے اصل مفھوم کو سمجھ جایں تو اندازہ کرنا مشکل نہیں , کہ ہم سب کسی نہ کسی طرح کرپشن کا حصہ ہیں -
سوال یہ ہے کہ اب اس بیماری کا علاج کیسے ہو -
اسلام ایک ایسا نظام ہے , جو ایک معاشرے کی اجتماعی اور انفرادی اصلاح کرتا ہے - مگر ہم نے اسلام کو نماز , روزہ , حج اور دیگر عبادات تک محدود کر دیا ہے -
اگر ہم حقیقی طور پر کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی اپنی ذات کا احتساب کرنا ہو گا -
کسی ایک ادارے کی اصلاح کرنے سے کچھ نہیں ہو گا -
اے کاش ! ہم سمجھنے کی کوشش کریں -
آزاد ہاشمی

وی وی آئی پی کون



وی وی آئی پی کون




"وی آئ پی" یا "وی وی آئ پی " کا کلچر اصل میں غلام قوموں کی پہچان ہوا کرتا ہے - جس میں حاکم وقت کی فرعونیت کو برقرار رکھنا مقصود ہوتا ہے -اور مغلوب قوم کے افراد کو غیر اہم کر دیا جاتا ہے - سمجھ نہیں آتا کہ یہ کلچر مسلمان مملکتوں میں کیسے رواج پا گیا - چلیں مان لیا کہ جن ملکوں میں بادشاہت رائج ہے وہاں کا نظام ایسا ہوتا ہو گا , مگر جہاں محترمہ جمہوریت براجمان ہے وہاں یہ کلچر کیوں - جمہوریت میں تو حکمران کے گھر چولہا , گاڑی کا ٹائر , محل کی روشنی تو غریب کی کمائی سے چھینی جانے والی دولت سے چلتی ہے - پھر ایسے حکمرانوں کو VVIP کا درجہ کیسے حاصل ہو جاتا ہے - یہ مقام تو اس مزدور کا ہے جو دن بھر چلچلاتی دھوپ میں , یا یخ بستہ ہواؤں میں چتھڑے پہنے رزق حلال کماتے ہیں - یہ حق تو اس استاد کا ہے جو علم کی روشنی بانٹتا ہے - یہ حق تو اس محافظ کا ہے جو جان ہتھیلی پر رکھ حفاظت کی ذمہ داری نبھاتا ہے - یہ حق تو ان  ماؤں کا ہے جو  اپنے جگر گوشے سرحدوں کی حفاظت پہ بھیجے ہوۓ ہیں -
ہم مسلمان ہیں , ہم میں عزت و احترام کا حقدار وہ ہے , جو کردار میں , اخلاق میں , اطوار میں اور عمل میں بلندی پہ ہے - مگر ہمارے وطن , قوم اور معاشرے کے بدترین لوگ , ہماری سادگی , جہالت , غفلت اور بے خبری میں سیاسی چالبازیوں سے , سازش اور دھکم پیل کرتے ہوۓ حکمران بن جاتے ہیں - پھر وہ ملک کو لوٹتے ہیں , امن برباد کرتے ہیں , بنیادی حقوق چھین لیتے ہیں اور اپنی فرعونیت کو تسکین کی خاطر VVIP بن بیٹھتے ہیں -
کیا ہم غلام ہیں اور یہ بدیشی آقا -
شکریہ
آزاد ہاشمی