Wednesday, 3 May 2017

ناموس رسالت



ناموس رسالتStats




الله نے ایمان کی شرط رکھی کہ جب تک ہم اپنی ذات , اپنی اولاد   , اپنے ماں باپ سے الله کے حبیب سے محبت نہیں کرتے , اس وقت تک ایمان  کے کامل کے درجے تک نہیں پہنچ سکتے - کون ہے جو اپنے ماں باپ کی شان میں گستاخی کو سن سکتا ہے - غضب ہے کہ جو تحریک ناموس رسالت کے لئے ہونی چاہیے تھی , وہ ناموس رسالت کی شق ختم کرنے کے لئے شروع ہو چکی ہے - اور مغرب زدہ طبقہ پورے زور شور سے متحرک ہے - ہے  کوئی جو یہ بتا سکے کہ کتنے قادیانی قتل ہوے اور انکے کتنے قاتلوں کو پھانسی دی گئی - سر عام عیسائیوں نے حافظ قران کو جلایا , کتنے عیسائی پھانسی پہ چڑھے - ہے کوئی جو برطانیہ میں ملکہ کو برا بھلا کہہ سکے - کسی کی جرات ہے کہ بابا گورو نانک کی توہین کا سوچ سکے , ہے کوئی مائی کا لال جو کسی بھی مذھب کے رہبر کی توہین کر سکے - اسی قانون پہ اتنی شد و مد کیوں ہے -
اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ناموس رسالت پہ قتل کرنے والا بریلوی ہو , دیو بندی ہو , شیعہ ہو یا اہلحدیث -
ہماری اصل کمزوری فرقہ پرستی ہے , جس کی وجہ سے ہم اصولی باتوں پہ بھی مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں - اور قابل تحسین کاموں پہ بھی کھل کر سامنے نہیں آتے -
ناموس رسالت سب کے ایمان کا حصہ ہے , اور اس پہ کوئی بھی دوسری راۓ , ایمان کی کمزوری ہے.
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment