|
الله نے ایمان کی شرط رکھی کہ جب تک
ہم اپنی ذات , اپنی اولاد , اپنے ماں باپ سے الله کے حبیب سے محبت نہیں
کرتے , اس وقت تک ایمان کے کامل کے درجے تک نہیں پہنچ سکتے - کون ہے جو
اپنے ماں باپ کی شان میں گستاخی کو سن سکتا ہے - غضب ہے کہ جو تحریک ناموس رسالت
کے لئے ہونی چاہیے تھی , وہ ناموس رسالت کی شق ختم کرنے کے لئے شروع ہو چکی ہے -
اور مغرب زدہ طبقہ پورے زور شور سے متحرک ہے - ہے کوئی جو یہ بتا سکے کہ
کتنے قادیانی قتل ہوے اور انکے کتنے قاتلوں کو پھانسی دی گئی - سر عام عیسائیوں
نے حافظ قران کو جلایا , کتنے عیسائی پھانسی پہ چڑھے - ہے کوئی جو برطانیہ میں
ملکہ کو برا بھلا کہہ سکے - کسی کی جرات ہے کہ بابا گورو نانک کی توہین کا سوچ
سکے , ہے کوئی مائی کا لال جو کسی بھی مذھب کے رہبر کی توہین کر سکے - اسی قانون
پہ اتنی شد و مد کیوں ہے -
اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ناموس
رسالت پہ قتل کرنے والا بریلوی ہو , دیو بندی ہو , شیعہ ہو یا اہلحدیث -
ہماری اصل کمزوری فرقہ پرستی ہے ,
جس کی وجہ سے ہم اصولی باتوں پہ بھی مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں - اور قابل تحسین
کاموں پہ بھی کھل کر سامنے نہیں آتے -
ناموس رسالت سب کے ایمان کا حصہ ہے
, اور اس پہ کوئی بھی دوسری راۓ , ایمان کی کمزوری ہے.
آزاد ہاشمی
|
Wednesday, 3 May 2017
ناموس رسالت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment