Tuesday, 2 May 2017

قوم کی تقسیم





سمجھ نہیں آتا کہ ہماری قوم کی تقسیم کہاں جا کے رکے گی - مذھب کے نام پہ ان گنت فرقے پہلے ہی سے ایک  کبھی نہ سلجھنے والا مسلہ بن چکا تھا - جس نے  مذھب سے دلچسپی رکھنے والوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض کی ایسی آگ بھر دی ہے - کہ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی بات پہ فساد کھڑا ہو جاتا ہے - امن کا پیامبر دین دہشت کے کی شناخت بن چکا ہے - جس کا ایک نقصان تو یہ ہوا کہ غیر مسلم لوگوں کو اسلام پہ تنقید کا موقع مل گیا , اور دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے وطن میں اس  نظام   کو  لاگو کرنے کی راہ بند ہو گئی -اب ایک طرف مذہبی رحجان والے چاہتے ہیں کہ جن بنیادوں پر ملک وجود میں آیا , وہی نظام کے لئے سوچا جاے , دوسری طرف مغربی اور آزاد خیال لوگ اسے دقیا نوسی رحجان گردانتے ہیں - عدالتیں , اسمبلیاں , ماڈرن دانشور اور خوشحال لوگ چاہتے ہیں کہ اسلام کی رٹ لگانے والوں کو دیوار میں چن دیا جاے , اور چونکہ یہی لوگ طاقتور ہیں , وہ عملی طور پر متحرک ہیں - دوسری طرف فیصلہ ہی نہیں ہو پا رہا کہ اصل منزل ہے کونسی -
اس کشمکش نے عملی زندگی جامد کر دی ہے - پوری قوم کو پتہ ہی نہیں کہ انکا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے - اس سے موقع پرست سیاستدان , ملا , سماجی لٹیرے اور متعصب گروہ فائدہ اٹھا رہے ہیں - بیس کروڑ کی آبادی میں کوئی ایک لیڈر ایسا نہیں , جو اصل منزل کی طرف لے کر چلے. اور قوم بہتری کی طرف آ سکے.
ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا کر رہے ہیں , کوئی بتانے والا نہیں - جو آتا ہے کرسی مانگتا ہے اور اپنے اقتدار میں قوم کے لئے ایک نئی دلدل تیار کر کے چلا جاتا ہے - اہل فکر کو خوف کی  کیفیت  سے نکلنا ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment