سمجھ نہیں آتا کہ ہماری قوم کی تقسیم کہاں جا کے رکے گی - مذھب کے نام
پہ ان گنت فرقے پہلے ہی سے ایک کبھی نہ سلجھنے والا مسلہ بن چکا تھا - جس نے
مذھب سے دلچسپی رکھنے والوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض کی ایسی آگ
بھر دی ہے - کہ کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی بات پہ فساد کھڑا ہو جاتا ہے - امن کا
پیامبر دین دہشت کے کی شناخت بن چکا ہے - جس کا ایک نقصان تو یہ ہوا کہ غیر مسلم
لوگوں کو اسلام پہ تنقید کا موقع مل گیا , اور دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے وطن
میں اس نظام کو لاگو کرنے کی راہ بند ہو گئی -اب ایک طرف مذہبی
رحجان والے چاہتے ہیں کہ جن بنیادوں پر ملک وجود میں آیا , وہی نظام کے لئے سوچا
جاے , دوسری طرف مغربی اور آزاد خیال لوگ اسے دقیا نوسی رحجان گردانتے ہیں -
عدالتیں , اسمبلیاں , ماڈرن دانشور اور خوشحال لوگ چاہتے ہیں کہ اسلام کی رٹ لگانے
والوں کو دیوار میں چن دیا جاے , اور چونکہ یہی لوگ طاقتور ہیں , وہ عملی طور پر
متحرک ہیں - دوسری طرف فیصلہ ہی نہیں ہو پا رہا کہ اصل منزل ہے کونسی -
اس کشمکش نے عملی زندگی جامد کر دی ہے - پوری قوم کو پتہ ہی نہیں کہ
انکا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے - اس سے موقع پرست سیاستدان , ملا , سماجی لٹیرے اور
متعصب گروہ فائدہ اٹھا رہے ہیں - بیس کروڑ کی آبادی میں کوئی ایک لیڈر ایسا نہیں ,
جو اصل منزل کی طرف لے کر چلے. اور قوم بہتری کی طرف آ سکے.
ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا کر رہے ہیں , کوئی بتانے والا نہیں - جو آتا
ہے کرسی مانگتا ہے اور اپنے اقتدار میں قوم کے لئے ایک نئی دلدل تیار کر کے چلا
جاتا ہے - اہل فکر کو خوف کی کیفیت سے نکلنا ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment