سیاست اور قومی تقسیم
ہمیں بہت سنجیدگی سے سوچنا ہو گا , کہ یہ سیاسی لیڈر نئی نئی پارٹیاں
بنا بنا کر ہمیں تقسیم در تقسیم کرتے جا رہے ہیں - مذہبی رہنما بھی کچھ اسی
طرح سے عمل پیرا ہیں - رہی سہی کسر پیروں نے پوری کرنے کی قسم کھا رکھی ہے -
لسانیت کی بنیادوں پر بھی کچھ ایسی ہی تحریکیں جاری ہیں - کچھ جہاد کے
نام پر متحرک ہو گئے ہیں - کچھ ثقافت کے پرچار پر کمر بستہ ہیں - اگر یہی حال رہا تو
ایک دن ہر کوئی الگ الگ ہو جایگا - صوبے , شہر , قصبے سب کے سب تقسیم در تقسیم ہو
کر معاشی طور پر مفلوج ہو جاینگے - ہر گھر میں افلاس کا بھوت بسیرا کر لے گا - یہ
معاشی بد حالی ,تشدد اور لوٹ مار کو جنم دے گی -
اور ہم سب کچھ گنوا بیٹھیں گے - اگر ہمیں زندہ رہنا ہے تو ان سب لوگوں
سے کنارہ کرنا ہو گا جو ہمیں فرقوں کے نام پر , سیاست کے نام پر , زبان اور ثقافت
کے نام پر تقسیم کر رہے ہیں -
ہمیں اخوت اور محبت کی بنیاد رکھنا ہو گی , اپنے گھر سے , اپنے محلے سے
, اپنے گاؤں سے , اپنے شہر سے اور اپنے حلقہ احباب سے - ہمیں ابتدا کرنا ہو گی ,
ایک دوسرے کے درد بانٹنے سے , ایک دوسرے کے مسائل کا حل تلاش کرنے سے - ہمیں سب
موتیوں کو ایک مالا میں پرونے کا آغاز کرنا ہو گا -
آئیے ! میں اور آپ اپنے اپنے اختلافات کو بھلا کر اپنے ارد گرد جنت
سماں پیدا کرنے کا عزم کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment