"آخر کیوں اور کب تک
"
ایک معمولی سا تجزیہ ان لوگوں کیلیے جن کو اپنے ایمان سے زیادہ
جمہوریت کی دیوی سے پیار ہے - اور جن لوگوں نے جمہوریت کی عینک پہن رکھی ہے - ہمیں
یہ باور کرایا جاتا ہے کہ انتخابات کے دیوانے لیڈروں کے پیٹ میں عوام کا درد رہتا
ہے اور اس درد کا علاج صرف اسمبلیوں کی سیٹ ہے - اس کے پیچھے اصل عوامل کیا
ہیں - آئیے دیکھتے ہیں -
ایک قومی اسمبلی کا ممبر جن مراعات سے مستفید ہوتا ہے , وہ شاید
بڑے سے بڑا صنعتکار یا تاجر بھی نہیں ہو سکتا -
ایک جائزہ لیں کہ ہمارا ایک مخلص نمائندہ کسقدر ہمارے لئے بوجھ
ہے - اس میں فقیر منش لوگ بھی ہیں جو اپنی مفلسی کا رونا بھی روتے رہتے ہیں - یہ
بھی کہتے ہیں کہ انکے پاس نہ گھر ہے نہ گاڑی - کون پوچھے کہ حضرت قومی
اسمبلی کی یہ مراعات سب کو ملتی ہیں تو آپ کو کیوں نہیں - ماہانہ ملنے
والی تنخواہ کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار , قانون سازی کرنے کی ایک لاکھ , دفتری
اخراجات کی مد میں ایک لاکھ چالیس ہزار , آمدو رفت کیلیے اڑتالیس ہزار ایک دورہ ,
ریل گاڑی ایئر کنڈیشنڈ فری جتنی بار بھی دل چاہے , چالیس بار سالانہ بیوی بچوں
سمیت فری ہوائی سفر , پچاس ہزار بجلی کا فری استعمال , ایک لاکھ ستر ہزار کے فون بل
فری یعنی ایک قومی اسمبلی کا خدمتگار قوم اور وطن کو صرف حکومتی خزانے سے تھوک
لگاتا ہے -
وہ پانچ سال میں سولہ کروڑ روپے کا اضافی بوجھ خدمت کے نام
پر ہمارے سروں پہ لاد دیتا ہے - ایسے 534 خدمتگار صرف قومی اسمبلی میں بیٹھ کر ایک
دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے لئے قومی خزانے کا 85 ارب روپیہ اڑا رہے ہیں -
یہ جمہوریت کے احسانات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے -
کیا یہ گھناؤنا کھیل جاری رہنا چاہیے - اگر ہم لوگوں کو آج بھی ہوش
نہیں آئ تو ہماری کئی نسلیں قرض کے بوجھ میں دب جائینگی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment