" شکر کا عادی "
گرمی اپنے عروج پر تھی ۔ چھوٹے چھوٹے اوزار لئے بہت سارے مزدور قطار میں بیٹھے کسی گاہک کے منتظر تھے ۔ سب کی امیدیں ماند پڑ رہی تھیں کہ مزدوری کا وقت جا رہا تھا ۔ ان سب سے الگ تھلگ ایک نحیف سا عمر رسیدہ مزدور کسی یاد میں گم بیٹھا تھا ۔ میں نے اس کے قریب جاکر کہا ۔
" گھر کا سامان شفٹ کرنا ہے ۔ دو تین دن کا کام ہے ۔ کیا دیہاڑی لو گے "
وہ اٹھا ، اور بولا ۔
" چلیں صاحب ۔ جو نصیب میں ہو گا مل جائے گا ۔ جو اللہ نے آپ کے دل میں ڈالا وہ دے دینا "
میں اسکی بات سن کر حیران بھی ہوا اور سوچنے بھی لگا کہ یہ کیسا جواب ہے ۔
" اگر اللہ نے میرے دل میں ڈال دیا کہ کچھ نہ دوں تو پھر "
میں نے از راہ تفنن پوچھا
" اللہ رحیم ہے ، اللہ کبھی ایسا نہیں کرتا کہ کسی کی مزدوری کو اپنے پاس رکھے ۔ اللہ جانتا ہے میری ضرورت کو ۔ اس نے آپ کو بھیجا ہو گا تو آپ آئے میرے پاس ۔ انسان کسی کو کچھ نہیں دیتا بابو جی ۔ اللہ دیتا ہے اللہ "
"گذر اوقات کیسے ہوتی ہے ۔ اس تھوڑی سی مزدوری سے کیسے گذارہ کرتے ہو " میں نے پوچھا ۔
" بابو جی ! جب خواہشات کی ماننے لگو تو ایک ایک پل مشکل ہے ۔ جینا محال ہو جاتا ہے ۔ جب شکر کی عادت ڈال لو تو آسانیاں مل جاتی ہیں ۔ مزدوری مل جاتی ہے تو چولہا جل جاتا ہے ، نہیں ملتی تو شکر کر کے سو جاتے ہیں ۔ میری معصوم سی بچی بھی روئے بنا سو جاتی ہے ۔ عادت ہو گئی ہے اسی زندگی کی بابو جی ۔ پچھلے دو دن سے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہے ۔ آج جلے گا انشاءاللہ "
" اس پہ بھی اللہ سے کوئی شکایت نہیں ۔ اس پہ بھی شکر "
میں نے کہا ۔ تو وہ میری طرف غور سے دیکھنے لگا
" شکر کی بات تو ہے نا بابو جی ۔ روٹی نہیں صحت تو سلامت ہے نا ۔ گھر میں کوئی ناچاقی تو نہیں ۔ اللہ کی یاد تو دلوں میں زندہ ہے نا ۔ یہ شکر کرنے کے لئے کافی ہے ، بہت کافی ۔ دل کا سکون بڑی دولت ہے بابو جی ۔ "
میں عجیب مخمصے میں پڑ گیا ۔ کیوں نہ اسے کچھ پیسے دے دوں تاکہ پہلے یہ گھر کا چولہا جلا لے اور پھر سکون سے کام کرے ۔ میں نے ایسا ہی کیا ۔ مگر اس نے انکار کر دیا
" کام کئے بغیر پیسے نہیں لوں گا ۔ یہ بھیک ہو گی اور بھیک لعنت ہے میرے نزدیک - بھیک اللہ سے شکایت ہے کہ ہاتھ دوسروں کے آگے پھیلا دیا جائے ۔ "
میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا کروں ۔ میں خود کو بہت چھوٹا اور اس مزدور کو بہت عظیم دیکھ رہا تھا ۔
ازاد ھاشمی
Monday, 1 May 2017
شکر کی عادت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment