ہم ذمہ دار ہیں
|
اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو
انکار ممکن نہیں کہ ہماری ساری بے بسی کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے - ظالم اس وقت
تک ظلم کرتا ہے جب تک کوئی اسکا ہاتھ روکنے کیلیے آگے نہیں بڑھتا - مکار اپنی
مکاری کیوجہ سے کامیاب نہیں ہوتا , دوسروں کی حماقت اسے کامیابی دیتی ہے - ہم
اپنے ہاتھوں سے ان حکمرانوں کو اپنی تقدیر کا مالک بنا دیتے ہیں اور پھر انکی ہر
بد دیانتی کو اپنا مقدر مان کر اپنے گھروں میں گھسے رہتے ہیں - سب سے زیادہ ذمہ
دار وہ شریف ہیں , جو اپنی شرافت کو سمیٹے دسروں کی رسوائی دیکھتے ہیں - وہ
دانشور مجرم ہیں قوم اور وطن کے جو اپنی دانش کو لیکر گونگے اور بہرے ہو گئے ہیں
- جو ساری زندگی کتابیں چاٹتے رہے اور جب ضرورت پڑی تو چھپ گئے - وہ دین اور عمل
سکھانے والے مجرم ہیں , جو پھیلتی ہوئی بے حیائی پر خاموش ہو کر مسجدوں میں گھسے
بیٹھے ہیں - عمل کے وقت مصلحت کو جائز کہنے والے نہ الله کے ہاں سرخرو ہیں نہ
اپنی نسلوں کے سامنے -
تعجب ہوتا ہے , جب ایک شخص , پوری
آگاہی ہوتے ہوے کہتا ہے -
" صاحب , کچھ نہیں بدلنے والا
, میں اکیلا کچھ نہیں کر سکتا " ایسے اکیلے اسوقت تناسب کے لحاظ سے 63 فیصد
ہیں - یہ وہ لوگ ہیں جو عملی طور پر اس نظام جمہوریت سے باغی ہیں - جو خود کو
الگ تھلگ کیے بیٹھے ہیں - یہ ایک ایک کر ناقابل شکست طاقت ہیں - مگر کون بتاۓ کہ
ظالم تمھاری دہلیز پہ کھڑا ہے , تمھاری شہ رگ دبوچنے کا ارادہ کیے ہوے - اپنے
اپنے حصے کا کام شروع کرو اور بھاگنے سے , چھپنے سے , مصلحت اندیشی سے جان بچنے
والی نہیں - ظالم ظلم کرنے والا نہیں ظلم سہنے والا بھی ہوتا ہے - رہزن کو پہچان
رہے ہو تو اسے رہبری سے روکنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالو -
شکریہ
آزاد ہاشمی
|
No comments:
Post a Comment