Wednesday, 3 May 2017

ہم ذمہ دار ہیں



ہم ذمہ دار ہیں




اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو انکار ممکن نہیں کہ ہماری ساری بے بسی کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے - ظالم اس وقت تک ظلم کرتا ہے جب تک کوئی اسکا ہاتھ روکنے کیلیے آگے نہیں بڑھتا - مکار اپنی مکاری کیوجہ سے کامیاب نہیں ہوتا , دوسروں کی حماقت اسے کامیابی دیتی ہے - ہم اپنے ہاتھوں سے ان حکمرانوں کو اپنی تقدیر کا مالک بنا دیتے ہیں اور پھر انکی ہر بد دیانتی کو اپنا مقدر مان کر اپنے گھروں میں گھسے رہتے ہیں - سب سے زیادہ ذمہ دار وہ شریف ہیں , جو اپنی شرافت کو سمیٹے دسروں کی رسوائی دیکھتے ہیں - وہ دانشور مجرم ہیں قوم اور وطن کے جو اپنی دانش کو لیکر گونگے اور بہرے ہو گئے ہیں - جو ساری زندگی کتابیں چاٹتے رہے اور جب ضرورت پڑی تو چھپ گئے - وہ دین اور عمل سکھانے والے مجرم ہیں , جو پھیلتی ہوئی بے حیائی پر خاموش ہو کر مسجدوں میں گھسے بیٹھے ہیں - عمل کے وقت مصلحت کو جائز کہنے والے نہ الله کے ہاں سرخرو ہیں نہ اپنی نسلوں کے سامنے -
تعجب ہوتا ہے , جب ایک شخص , پوری آگاہی ہوتے ہوے کہتا ہے -
" صاحب , کچھ نہیں بدلنے والا , میں اکیلا کچھ نہیں کر سکتا " ایسے اکیلے اسوقت تناسب کے لحاظ سے 63 فیصد ہیں - یہ وہ لوگ ہیں جو عملی طور پر اس نظام جمہوریت سے باغی ہیں - جو خود کو الگ تھلگ کیے بیٹھے ہیں - یہ ایک ایک کر ناقابل شکست طاقت ہیں - مگر کون بتاۓ کہ ظالم تمھاری دہلیز پہ کھڑا ہے , تمھاری شہ رگ دبوچنے کا ارادہ کیے ہوے - اپنے اپنے حصے کا کام شروع کرو اور بھاگنے سے , چھپنے سے , مصلحت اندیشی سے جان بچنے والی نہیں - ظالم ظلم کرنے والا نہیں ظلم سہنے والا بھی ہوتا ہے - رہزن کو پہچان رہے ہو تو اسے رہبری سے روکنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالو -
شکریہ
آزاد ہاشمی 

No comments:

Post a Comment