Saturday, 6 April 2019

آو گائیں پیار ترانہ

چاند ستاروں کی بات کرتے ہو
حسین  بہاروں کی بات کرتے ہو
گنگناتی آبشاروں کی بات کرتے ہو
یاد کرو 
کبھی وفا کا  دور ہوا کرتا تھا 
عجب سا سرور ہوا کرتا تھا
ہر چہرے پہ نور ہوا کرتا تھا 
یاد کرو
دکھ بھی سب کے سانجھے تھے
سکھ بھی  بانٹا کرتے تھے
اک پاوں میں کانٹا چبھتا تھا
ہر دل میں ٹیس اٹھتی تھی
آو اکٹھے بیٹھ کے سوچیں اب
وہ لوگ پرانے کہاں گئے
وہ سپنے سہانے کہاں گئے
وہ ملن بہانے کہاں گئے
وہ پریت یارانے کہاں گئے
جو دور کی لایا کرتے تھے
وہ ا ن پڑھ سیانے  کہاں گئے
جو روز کہانی سناتی تھیں
وہ دادی نانی کہاں گئیں
لمبی لوری یاد تھی جس کو
وہ خالہ جانی کہاں گئیں
آو مل کے ڈھونڈہیں وقت پرانا
آو پھر  سے گائیں پیار ترانا
آزاد ہاشمی
٢٤ مارچ ٢٠١٧

رجب کے دو دن ، دو معراج "

" رجب کے دو دن ، دو معراج "
ستائیس رجب المرجب کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے حبیبؐ کیلئے سواری بھیجی کہ اپنے پاس بلایا جائے ۔ مہمان کی توقیر کی حد ہوتی ہے کہ میزبان اپنی سواری بھیجے ، اپنا قاصد بھیجے کہ میرے مہمان کو ایک احترام اور توقیر سے پاس لے آو ۔ مہمان کا اتنا خیال ، کسی حکم سنانے کیلئے نہیں کیا گیا بلکہ کسی راز داری کیلئے کیا گیا ہوگا ۔ یہ رب جانے یا پھر رب کا حبیب جانے کہ اس ملاقات کا سبب کیا تھا ۔ کہتے ہیں کہ یہ رات رسولؐ کی معراج کی رات تھی ۔ میرے سطحی علم کے مطابق یہ تو ستائیس رجب کی رات کی معراج ہے کیونکہ آپؐ تو کائنات کی تخلیق سے پہلے ہی معراج پر تھے ۔ آپؐ کی معراج ہی کو آشکار کرنے کیلئے سوا لاکھ انبیاء بھیجے گئے ،  کائنات کی تزئین و آرائش کی گئی ۔ یہ فطرت کا سارا حسن تو بنایا ہی اسی لئے گیا تھا کہ اللہ اپنے حبیبؐ کا مقام دکھانا چاہتا تھا ۔ ستائیس رجب المرجب کو معراج ملی کہ آپؐ کی رب سے ملاقات ہوئی ۔
رجب کی معراج ہے کہ اٹھائیس رجب کو " شہادت " کو عروج  دینے کیلئے اللہ نے رسولؐ کے نواسے کو ، اپنے اہل خاندان کے ساتھ کربلا کیطرف بلا لیا ۔ رسولؐ پر بھیجا ہوا دین آبیاری چاہتا تھا ۔ خون کی ضرورت تھی ، خون بھی پاک و مطہر چاہئیے تھا ۔ پوری کائنات میں حسینؑ جیسا خون نہیں تھا ۔ کوئی نہیں تھا کہ اللہ یہ منصب اسے دیتا ۔ سو حسینؑ کو منتخب کیا کہ کربلا کیطرف روانگی کاوقت ہے ۔ اطاعت کا عروج دیکھیں کہ حسینؑ صرف تنہا روانہ نہیں ہوئے ۔ بیٹوں کو بھی ساتھ لیا، بھائیوں کو بھی ، بھتیجوں کو بھی ، بھانجوں کو بھی ، مطہر ساتھیوں کو بھی ، حد تو یہ بھی کہ پردہ دار بیبیوں کو بھی ۔ اسلئے کہ جس جس کی ، جو جو قربانی دین کو درکار ہے ، دے دی جائے ۔ اللہ کے دین کے خلاف سازش کو ایسا بے نقاب کیا جائے کہ جب بھی کوئی یزید اٹھے ، بے نقاب ہو جائے ۔
آزاد ھاشمی
٦اپریل ٢٠١٩

Wednesday, 3 April 2019

ظلم مٹتا نہیں ، مٹایا جاتا ہے

" ظلم مٹتا نہیں ، مٹایا جاتا ہے "
جنگل میں بھی قانون ہوتا ہے کہ جنگل کی کوئی بھی جگہ کسی کی جاگیر نہیں ہوتی ۔ جو جنگل میں اگتا ہے ، سب کا حق ہوتا ہے کہ حسب ضرورت استعمال کرے ۔ جنگل  کا بادشاہ بھی اس قانون کی پابندی کرتا ہے کہ اسی وقت شکار کرتا ہے ، جب اسے بھوک ہو ۔ شوقیہ اور کھیل کھیل میں شکار نہیں کرتا اور نہ رعب داب کیلئے جنگل میں دہاڑتا پھرتا ہے ۔
ہاں جنگلی کتا ، ہمیشہ حرص کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ کتے کی خصلت میں شامل ہے کہ وہ حرص کرتا ہے ، اتنا کھاتا ہے کہ جتنا اسکی ضرورت سے زیادہ ہو ۔ آنکھیں نہیں بھرتیں بھلے پیٹ پھٹنے کو آجائے ۔ بھونکتا ہے تو بسا اوقات بلا سبب بھونکتا ہے ۔
مگر انسانوں کے نگر کا عجیب حال ہے ۔ خود پر نازاں ہے کہ اشرف المخلوقات ہے ۔ اللہ نے ہوش و حواس دئیے ، صحیح اور برے کی پہچان دی ، معاشرے میں رہنے کی ضرورت سے اگاہ کیا ، اپنے اور پرائے کی پہچان دی ۔ مشکل میں دوسرے انسان کا سہارا بننے کو کہا ۔ یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھنے کو عمل کی معراج بتایا ۔ اللہ نے تسلسل کے ساتھ لاکھ سوا لاکھ انبیاء مبعوث فرما دئیے ۔ رسول بھی بھیجے اور ہدایت کے لکھے ہوئے منشور بھی ۔ صرف اسلئے کہ اللہ کو اپنی اس مخلوق سے پیار تھا ۔ اللہ اس مخلوق کو کردار اور احساس کی بلندی پر دیکھنا چاہتا تھا ۔ مگر اسی انسان نے کیا کیا ؟ برائی کیطرف چلنے والے زیادہ ہوگئے اور اشرف المخلوق کا نقشہ پیش کرنے والے چند ۔ طاقتور نے کمزور کو بلاوجہ ظلم کا نشانہ بنانے کا شغل اختیار کر لیا ۔ ظلم مضبوط سے مضبوط ہوتا گیا ۔ آج انسان جس مقام پر آن کھڑا ہے ، وہاں ہر وقت جان ، مال ، عزت اور زندگی خطرات کے درمیان گھری ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔ انسان کی ہلاکت کا ہر سامان تیار کر لیا گیا ، کہ جہاں کوئی سر اٹھائے ، وہاں آگ برسا دی جائے ۔ ہم مسلمان ، جس سے ظالم کو کچھ خوف تھا ، کہ " جہاد " کا جذبہ ظالم کا ہاتھ روک بھی سکتا ہے اور توڑ بھی سکتا ہے ۔ مگر اب اس جذبے کی سسکتی ہوئی روح ، مسلمانوں کے ہاتھ میں تسبیح اور مساجد میں اللہ سے گڑگڑا کر مدد مانگنے پہ آ کر رک گئی ہے ۔ ہم اس انتظار میں لگ گئے ہیں کہ اللہ ظالم کا ہاتھ ضرور روکے گا ۔ اللہ ظالم کا ہاتھ روکنے کیلئے اپنے بندوں کا ہاتھ استعمال کرتا ہے ۔  یہی جہاد ہے ۔
مسلمان یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ مساجد میں مانگی گئی دعاوں سے ظلم  رک  جائے گا ۔ اللہ کے حکم کے تحت ظالم کا ہاتھ روکنا ہو گا ، ضرورت پڑے تو توڑنا ہو گا ۔ وہ ظالم ، مذہب کے نام پہ ہو ، یا ہماری معاشرتی زندگی کا غنڈہ ۔ سیاسی قائد ہو یا حکمران ۔ جو بھی ظلم کرے اسکا ہاتھ پکڑے بغیر خلاصی نہیں ہوگی ۔
آزاد ھاشمی
٣ اپریل ٢٠١٩

Tuesday, 2 April 2019

علم کے وارث

" علم کے وارث "
تخلیق آدمؑ کے وقت بحث یہ تھی کہ شیطان سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس نئی تخلیق کی ضرورت کیوں آن پڑی ۔ پھر اس تخلیق کے بعد " عزازیل " کے عہدے پہ فائز کو اس نئی تخلیق کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم بھی ہوا تو اسے پہلے سے خبط تھا کہ اسکی تخلیق میں جو عنصر استعمال ہوا ہے وہ آدمؑ کی مٹی سے افضل ہے ۔ مگر اس دلیل پر کہ آدمؑ کو علم کی دولت دی جا رہی ہے ، جو مقام کے لحاظ سے بہت بلند ہے ۔ آدمؑ کی فضیلت علم ہے ، جس نے اسے سب کائنات میں اشرف المخلوقات بنا دیا ۔
یہ بات سمجھ لینی چاہئیے ، کہ جس علم پر فضیلت ہے ، وہ تخریبی علم نہیں ۔  اللہ کو پہچاننے ، اسکی رضا پر چلنے ،انسان کی بہتری اس انداز سے جس انداز سے خالق پسند کرے ،  یہ وہ علم ہے جس کی بناء پر انسان اشرف المخلوقات ہے ۔ ایک علم تجارت اور حصول جاہ و حشمت کیلئے ہے اور ایک علم انسان کی فلاح کیلئے ۔ پہلا علم وہ نہیں کہ جس پر انسان کو دوسری سب مخلوق پہ برتری ہے بلکہ دوسرا علم ہے جس پر اللہ انبیاء اور رسولوں کو بھیجتا ہے ۔ اس علم کی معراج پر اللہ پاک نے اپنے حبیبؐ کو مسند نشین کیا ۔ علم وراثت ہے آپؐ کی ۔ 
میرے شعور میں جب بھی یہ سوال آتا ہے کہ کہ ہر وراثت تو وارثین میں تقسیم ہوتی ہے ۔ تو آپؐ کی اس وراثت کے وارثین کون ہیں ۔ ایک بنیادی مسلہ تو آپؐ نے اپنی حیات طیبہ ہی میں طے فرما دیا کہ
" انا مدینتہ العلم و علی بابہا "
یہاں دو باتیں واضع ہوگئیں ، اول یہ کہ نبیؐ کے بعد علم کی معراج پہ علیؑ مسند نشین ہیں ۔ دوسری یہ کہ علیؑ کو حق وراثت دیا گیا ، اور علیؑ وارث نبیؐ ہیں ۔ تاریخ اسلام اور تاریخ علوم کائنات کو دیانت کے ساتھ دیکھا جائے کہ علیؑ سے علم کا سلسلہ بالترتیب اولاد علیؑ سے منسلک نظر آتا ہے ۔ جو حکمت و معرفت اولاد علیؑ سے ملتی ہے وہ کسی بھی دوسرے محقق و مفسر ، فلاسفر اور عالم سے قطعی ممکن نظر نہیں آتی ۔ یہاں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جو عناد شیطان کو علم سے تھا ،  وہی عناد آل رسولؐ اور اولاد علیؑ سے اقتدار کی حرص میں اندھے آل امیہ کو رہا ۔  جو سلوک علم کے ان روشن وجودوں کو ختم کرنے کیلئے جاری رہا ، آج اسی کی پاداش ہے کہ مسلمان علم و آگہی سے دور ہو گیا ۔ مسالک کی جنگ میں " امت مسلمہ " ہونے کا تصور مفقود ہو گیا ۔ گویا شیطان چاہتا تھا کہ تخریب ہو اور ابن آدم اس تخریب کا شکار ہو جائے ۔ یہی ہوا کہ تخریبی علوم کو عروج اور تعمیری علوم کو پتھر کے زمانے کی کہانیاں کہا جاتا ہے ۔  جو ننگے ہوگئے وہ مہذب ٹھہرے اور مستور ہوئے وہ احمق ۔ اگر ہم علم کے حقیقی وارثوں سے جڑے رہتے تو آج دنیا کہ بہترین امت اور اشرف المخلوقات کی تصویر ہوتے ۔
آزاد ھاشمی
یکم اپریل ٢٠١٩