Wednesday, 3 April 2019

ظلم مٹتا نہیں ، مٹایا جاتا ہے

" ظلم مٹتا نہیں ، مٹایا جاتا ہے "
جنگل میں بھی قانون ہوتا ہے کہ جنگل کی کوئی بھی جگہ کسی کی جاگیر نہیں ہوتی ۔ جو جنگل میں اگتا ہے ، سب کا حق ہوتا ہے کہ حسب ضرورت استعمال کرے ۔ جنگل  کا بادشاہ بھی اس قانون کی پابندی کرتا ہے کہ اسی وقت شکار کرتا ہے ، جب اسے بھوک ہو ۔ شوقیہ اور کھیل کھیل میں شکار نہیں کرتا اور نہ رعب داب کیلئے جنگل میں دہاڑتا پھرتا ہے ۔
ہاں جنگلی کتا ، ہمیشہ حرص کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ کتے کی خصلت میں شامل ہے کہ وہ حرص کرتا ہے ، اتنا کھاتا ہے کہ جتنا اسکی ضرورت سے زیادہ ہو ۔ آنکھیں نہیں بھرتیں بھلے پیٹ پھٹنے کو آجائے ۔ بھونکتا ہے تو بسا اوقات بلا سبب بھونکتا ہے ۔
مگر انسانوں کے نگر کا عجیب حال ہے ۔ خود پر نازاں ہے کہ اشرف المخلوقات ہے ۔ اللہ نے ہوش و حواس دئیے ، صحیح اور برے کی پہچان دی ، معاشرے میں رہنے کی ضرورت سے اگاہ کیا ، اپنے اور پرائے کی پہچان دی ۔ مشکل میں دوسرے انسان کا سہارا بننے کو کہا ۔ یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھنے کو عمل کی معراج بتایا ۔ اللہ نے تسلسل کے ساتھ لاکھ سوا لاکھ انبیاء مبعوث فرما دئیے ۔ رسول بھی بھیجے اور ہدایت کے لکھے ہوئے منشور بھی ۔ صرف اسلئے کہ اللہ کو اپنی اس مخلوق سے پیار تھا ۔ اللہ اس مخلوق کو کردار اور احساس کی بلندی پر دیکھنا چاہتا تھا ۔ مگر اسی انسان نے کیا کیا ؟ برائی کیطرف چلنے والے زیادہ ہوگئے اور اشرف المخلوق کا نقشہ پیش کرنے والے چند ۔ طاقتور نے کمزور کو بلاوجہ ظلم کا نشانہ بنانے کا شغل اختیار کر لیا ۔ ظلم مضبوط سے مضبوط ہوتا گیا ۔ آج انسان جس مقام پر آن کھڑا ہے ، وہاں ہر وقت جان ، مال ، عزت اور زندگی خطرات کے درمیان گھری ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔ انسان کی ہلاکت کا ہر سامان تیار کر لیا گیا ، کہ جہاں کوئی سر اٹھائے ، وہاں آگ برسا دی جائے ۔ ہم مسلمان ، جس سے ظالم کو کچھ خوف تھا ، کہ " جہاد " کا جذبہ ظالم کا ہاتھ روک بھی سکتا ہے اور توڑ بھی سکتا ہے ۔ مگر اب اس جذبے کی سسکتی ہوئی روح ، مسلمانوں کے ہاتھ میں تسبیح اور مساجد میں اللہ سے گڑگڑا کر مدد مانگنے پہ آ کر رک گئی ہے ۔ ہم اس انتظار میں لگ گئے ہیں کہ اللہ ظالم کا ہاتھ ضرور روکے گا ۔ اللہ ظالم کا ہاتھ روکنے کیلئے اپنے بندوں کا ہاتھ استعمال کرتا ہے ۔  یہی جہاد ہے ۔
مسلمان یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ مساجد میں مانگی گئی دعاوں سے ظلم  رک  جائے گا ۔ اللہ کے حکم کے تحت ظالم کا ہاتھ روکنا ہو گا ، ضرورت پڑے تو توڑنا ہو گا ۔ وہ ظالم ، مذہب کے نام پہ ہو ، یا ہماری معاشرتی زندگی کا غنڈہ ۔ سیاسی قائد ہو یا حکمران ۔ جو بھی ظلم کرے اسکا ہاتھ پکڑے بغیر خلاصی نہیں ہوگی ۔
آزاد ھاشمی
٣ اپریل ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment