" سکون صرف اللہ کی رضا میں "
میں نے جب سے اسے دیکھا حیران تھا کہ پکوڑے بیچنے والا بابا اتنی اچھی اچھی باتیں کیسے کر لیتا ہے -
" بابا جی ! کیسے گزر رہی ہے "
یہ وہ سوال تھا جو میں روز پوچھتا تھا اور وہ ہر بار ایک ہی جواب دیتا تھا -
" الله کے شکر کا حق ادا نہیں کر سکتا - مزے ہی مزے ہیں "
" حیران ہوں بابا جی - سارا دن آگ اور گرمی میں پکوڑے بناتے ہیں - کیا کما لیتے ہونگے آپ " میرا سوال اسکو اچھا نہیں لگا - مجھے اپنی بے تکلفی پہ ندامت ہو رہی تھی -
" الله کی رضا پہ راضی رہنا سیکھو - پھر جو بھی ملے گا تمھاری ضرورت سے زیادہ ہو گا - دن کو چین بھی ملے گا اور رات کو نیند بھی آئیگی "
" جانتے ہو الله کی رضا کیا ہوتی ہے - کیسے ملتی ہے - کب ملتی ہے اور کس کو ملتی ہے "
مجھے لگ رہا تھا کہ میں نے غلطی کر لی ہے -
" الله بہت راضی ہوتا ہے جب خالی پیٹ رہ کر بھی اسکا شکر ہی ادا کیا جاے - پھر وہ بھوک بھی مزہ دیتی ہے - الله بہت راضی ہوتا ہے جب اسکے حبیب اور اسکے حبیب کے پیاروں سے محبت کی جاے - الله بہت راضی ہوتا جب اس کے سامنے اپنی حاجات رکھی جائیں - جب اسکی ذات پہ توکل کریں "
" بیٹا , ہم دن رات انسانوں کی رضا ڈھونڈھتے رہتے ہیں اور یہی عمل ہمیں بے سکون رکھتا ہے - ہم نے اپنی خواہشات کی پیروی شروع کر رکھی ہے - الله کے احکام کو بھول چکے ہیں - ہم نے اپنے رستوں کا تعین خود کرنا شروع کر دیا ہے - اور مادیت ہماری منزل بن گئی ہے "
ایک پکوڑے بیچنے والا یہ سوچ رکھتا ہے , میں اسکی باتیں بھی سن رہا تھا اور اسکے چہرے کو ٹکٹکی باندھے دیکھ بھی رہا تھا
" جاؤ بیٹا ! الله کی رضا کو اپنا رستہ بنا لو , سکون خود بخود پا لو گے "
آزاد ہاشمی
Thursday, 15 February 2018
سکون صرف اللہ کی رضا میں
کربلا بھی جایا کرو
" کربلا بھی جایا کرو "
کبھی وقت ملے تو چند لمحوں کے لئے کربلا چلے جانا- وہاں بے وطن قافلہ خیمہ زن ہے - پردہ دار بیبیاں ہیں , جن کے ننگے سر کبھی فلک نے بھی نہیں دیکھے - معصوم بچے ہیں , چند سن رسیدہ مرد ہیں اور چند کڑیل جوان ہیں - مختصر سا قافلہ ہے اور ایک جم غفیر فوج نے روک رکھا ہے - تیر تفنگ سے لیس لشکر اپنی پوری رعونت سے اٹھکیلیوں میں مگن ہے - سلام کہنا اور سالار قافلہ سے حسب و نسب پوچھنا - اور پوچھنا یہ کون ہیں جنہوں نے آپ کا راستہ روک رکھا ہے اور آپ بے سر و سامانی والے کون ہو - اگر حسن خلق سے جواب ملے تو سمجھ لینا کہ رسول کا گھرانہ ہے - سالار قافلہ میں خوف کی کوئی علامت نہ ملے تو جان لینا علی کا بیٹا ہو گا -خیموں میں ہو کا عالم ملے تو سمجھ جانا کہ پس خیمہ فاطمہ کی بیٹیاں ہوں گی -
سخی گھرانہ ہے - جو چاہے مانگ لینا - ایک اجازت اپنے لئے , ایک اجازت میرے لئے بھی - رونے کی مظلومین کربلا کی بے بسی پہ اجازت مانگ لینا - قربان ہونے کی اجازت مانگ لینا اہل بیت کی ناموس پہ - محبت مانگ لینا شهیدان کربلا کی - سجدے کی لذت مانگ لینا - اپنی بیٹیوں کے چادریں مانگ لینا - عباس کی وفا مانگ لینا - جو من چاہے مانگ لینا - کبھی خالی نہیں لوٹو گے -
آزاد ہاشمی
Tuesday, 13 February 2018
کیا یہ کیفیت نہیں ہے
" کیا یہ کیفیت نہیں ہے "
قران کریم میں اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا ۔
" کہو کہ ، وہ ( اللہ) اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاوں کے نیچے سے ۔ یا تمہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے بھڑا دے اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے ۔
دیکھو کسطرح مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں واضع کررہے ہیں تاکہ یہ کچھ سمجھ سے کام لیں ۔ سورہ انعام ٦٥ "
اس آیت کریمہ کو کوئی بھی ذی عقل پڑھے یا عام فہم پڑھے ، کیا بالکل واضع نہیں کہ ہم اپنی سرکشی کے باعث اللہ کے اس عذاب کا شکار ہو چکے ہیں ۔ کیا عذاب ہمارے اوپر سے بد کردار حکمرانوں کی شکل میں نہیں آچکا ۔ کیا ہمارے معاشرتی بدامنی ، افلاس ، خوف ، رشوت خوری , قتل و غارتگری وغیرہ وغیرہ ہمارے ارد گرد کا عذاب نہیں ۔ کیا اس سیاست نے ہمیں ٹولیوں میں تقسیم نہیں کردیا ۔ جس کا اصل محرک جمہوریت ہے ۔ کیا سب ٹولیاں اپنی اپنی طاقت ظاہر کرنے کیلئے میدان میں دینگا مشتی نہیں کر رہیں ۔ کیا علماء نے مسالک کے محاذوں پہ ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہاتھ نہیں ڈال رکھا ۔ اس سے زیادہ کیا وضاحت درکار تھی ۔ اہل علم ، اللہ کے ان احکامات سے بے خبر کیوں ہیں ۔ جب سب کچھ واضع ہے تو پھر کس بات کیوجہ سے ہم اپنی وہ راہ متعین نہیں کررہے ۔ جس پر اللہ کی نصرت ملتی ہے ۔ جس پر انعامات ملتے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے اہل علم لوگ جان بوجھ کر عوام کو قرآن کی اگاہی سے دور رکھے ہوئے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
بیٹا سکول جانا چاہوگے
" بیٹا ! اسکول جانا چاہو گے "
بہت پیارا سا بچہ , جس کی عمر سات آٹھ سال ہو گی - سڑک کے کنارے بیٹھا جوتے پالش کر رہا تھا - میرا سوال سن کر بولا -
" نہیں انکل "
میں حیران تھا کہ اسکا جواب اتنا تلخ کیوں ہے - چہرے پہ بچپن کے کوئی آثار نہیں تھے - اس عمر میں سنجیدگی سے بھر پور چہرہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا - سوچا چلو بوٹ پالش کراتا ہوں اور " نہیں " کا راز پوچھتا ہوں -
میں سوچ رہا تھا ان ہاتھوں میں کتابیں اور قلم ہونا چاہیے تھا - جو برش پکڑے ہوے ہیں -
" بیٹا ! کیوں نہیں اسکول جانا چاہتے "
اس نے میری بات ان سنی کر دی اور مشین کی طرح برش چلانے لگا - میں نے پھر سوال دہرایا - تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا -
" انکل میرے ابو ایک ماہ پہلے فوت ہو گئے تھے - میری امی بیمار ہیں , روز دوائی نہ ملی تو وہ بھی مر جائیگی - میں دوائی کے لئے جوتے پالش کرتا ہوں- اور جو بچ جاتے ہیں , اسکی روٹیاں لے جاتا ہوں - روٹیاں نہیں لے کے جاؤں گا تو میرا بھائی اور بہن مر جائیگی - سب مر گئے تو پھر میں جی کے کیا کروں گا - اسکول میرے سب کو مار دیگا جی "
اس کی بات نے میرا سینہ کاٹ دیا - میں سوچ میں پڑ گیا - کیا ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں - آخر یہ لوگ جہاں رہتے ہیں ,ان کے اڑوس پڑوس میں لوگ رہتے ہوں گے - الله کا نام لینے والے مسلمان ہوں گے - صوم و صلات کی پابندی کرنے والے بھی ہوں گے - محبت اور اخوت کے مبلغ بھی ہوں گے - سماجی بہبود کے ٹھیکدار بھی ہوں گے - سیاسی مداری بھی ہوں گے - ملا بھی ہوں گے -
ایسے کتنے یتیم ہوں گے , کتنی بیوہ ہوں گی , کتنے معصوم ہوں گے - جو آنکھیں کھولتے ہی درد کی بھٹی کا ایندھن بن جائیں گے -
کیا میری اور آپکی ذمہ داری نہیں کہ ان کو جینے کا , علم کا حق دیں اور دلائیں -
کیا ہم سب اپنی ذمہ داری سے بے خبر نہیں ہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
دل کا غریب
" دل کا غریب "
" اللہ رزق میں فراوانی دیتا ہے تو ، مستحق لوگوں پر خرچ کرنے حکم بھی اللہ ہی دیتا ہے ۔ بہت سارے لوگوں کو دولت کی ریل پیل بھی امیر نہیں کر پاتی ۔ وہ بہت بد نصیب ہوتے ہیں ، جو دولت ہوتے ہوئے بھی غریب ہی رہتے ہیں ۔ ان اجل اجل کے غریبوں کے کسی ضرورت مند کی ہتھیلی پر چند سکے رکھتے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں "
مفلوک الحال بوڑھا ، سڑے ہوئے پھلوں کی ڈھیری سے پھل تلاش کر رہا تھا ۔ جسے دیکھتے ہوئے ایک باریش شخص کے یہ الفاظ سن کر مجھے بھی احساس ہوا کہ ہمارا تو سارا معاشرہ ہی غربت زدہ ہے ۔ کار میں بیٹھا شخص بھی بھکاری ہی لگتا ہے ۔ اگر دل امیر ہو جاتے تو کوئی سوال کرنے والا ہاتھ نہ ہوتا ۔ ہم ایک فقیر کی ہتھیلی پر چند سکے رکھتے ہوئے ، اسکی شخصیت کا پورا ایکسرے کرتے ہیں ۔ حقارت سے دیکھتے ہیں ۔ احسان کرتے ہیں اس پر ۔ ثواب کیلئے سرمایہ کاری کرتے ہیں ، ان چند سکوں سے ۔ بدلے میں ڈھیر ساری دعاوں کی طلب رکھتے ہیں ۔ گویا اس سے سستی بخشش کی کوئی دوسری راہ ہی نہیں ۔ کبھی سوچتے ہی نہیں کہ جسے ہم نے اللہ کی عطا سمجھ رکھا ہے ، کہیں انہی غریبوں کا چھینا ہوا حق تو نہیں ۔
بوڑھا شخص اپنی جھولی میں ڈالے یہ پھل لیکر اٹھا اور وہیں گر گیا ۔ اب ایک ہجوم تھا جو اسکی طرف بڑھ رہا تھا ۔ مگر کوئی نہیں تھا جو اسوقت اسکی طرف بڑھتا جب وہ گلے سڑے پھل اکٹھے کر رہا تھا ۔ میں بھی اسی ہجوم کا حصہ تھا ۔
" میں بھی کبھی امیر تھا ۔ میرے ہاتھ بھی غریب کو کچھ دیتے کانپتے تھے ۔ مجھے بھی غریبوں سے گھن آتی تھی ۔ دولت حواس چھین لے تو انجام یہی ہوتا ہے ۔ "
بوڑھے کے آخری الفاظ تھے اور ایک ہچکی سے وہ چل بسا ۔ وہ اکیلا نہیں مرا ، پورے معاشرہ کی موت کا پیغام تھا ۔
آزاد ھاشمی
Monday, 12 February 2018
نواز شریف کے کارنامے
محترم نواز شریف کے کارنامے قوم کبھی نہیں بھول سکتی - جناب نے جو ترقیاتی تصور قوم کو دیے وہ کسی بھی دوسرے لیڈر کی بساط میں نہیں تھا - پہلا دور کہ قرضوں کی دلدل میں پھنسی ہوئی قوم کو چندہ اکٹھا کر سرخرو کر دیا - اور قرضے لینے والے کشکول کو کچرے دان میں پھینک دیا - آج قوم پہ ایک پائی قرضہ نہیں - دوسرا دور اقتدار بھی کمال دانشمندی سے بیروزگاری کا خاتمہ ہے کہ قوم کے ہونہار تعلیم یافتہ طبقے کو ٹیکسی دے کر روزگار فراہم کر دیا - تیسرا دور اور بھی بہترین سوچ کا مظاہرہ کیا کہ ہر شہر میں میٹرو بس کے منصوبے لگا دیے - یہ بجلی , انڈسٹری , تجارت میں بہتری کوئی خاص اہم ضرورت نہیں - لوگ گرمی برداشت کر سکتے ہیں , کارخانے بند ہو جائیں گے تو ہر شے عالمی مارکیٹ سے خریدی جا سکتی ہے - تجارت بھی کوئی اہم شعبه نہیں - بس لوگوں کو آنے جانے میں تکلیف تھی سو دور کر دی -
یہ ہوتا ہے کمال اچھے لیڈروں کا -
اب ایک اور مہربانی فرمائی کہ قومی اتحاد کی خاطر اپنی مخالف مضبوط پارٹی سے مک مکا کر لیا کہ اقتدار کی کرسی کے باری باری مزے لیں گے اور ایک دوسرے سے پنگا نہیں لیں گے - اور دونوں مل کر کسی تیسرے کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گے -
یہ ہوتی ہے لیڈرشپ کہ الیکشن کا جھنجھٹ , ووٹروں کے نخرے , کارکردگی دکھانے کا خوف اور مخالف پارٹی کے جیتنے کے سارے امکانات سرے سے ختم - بس
سارے اہم اداروں کے سربراہ خرید لو , کرسی آپ کی ہوئی - اور یہ کمال بھی محترم کی دانش کا نتیجہ ہے -
چند بڑے بڑے منصوبے شروع کرو اور آرام سے کک بیک کھاؤ - نہ کرپشن میں پکڑے جانے کا خوف نہ بدنامی کا ڈر - اور قوم کی خدمت کا تمغہ منافع میں -
یہ ہوتی ہے ذھانت - اور میاں صاحب میں اتم موجود ہے -
اب چین سے پھجے کے پاۓ ہیلکوپٹر میں منگواؤ یا شہنشاہ اکبر کا دستر خواں بچھاؤ - سب آپ کی مرضی -
رہی عوام تو ان میں عقل ہوتی تو میاں صاحب تین بار اقتدار میں کیوں آتے -
آج بھی کل بھی میاں صاحب زندہ باد -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ایک سبق
ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﯾﺮ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ؛
ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻣﺎﺭﮐﯿﭩﻨﮓ ﮐﯽ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺟﮭﻮﭦ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮑﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﻮ ﺍﻣﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮧ ﻧﮑﻠﻮﺍﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ Iphone ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮭﺮﻭﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ
ﻣﺠﮭﮯ ﺫﮨﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﻣﺎﻧﯿﮟ؟
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ Mac ﯾﺎ Kfc ﮐﮭﺎﺅﮞ ﺗﺎﮐﮧ
ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﻧﺎ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻨﺠﻮﺱ ﮨﻮﮞ؟
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭨﮭﮏ
ﺑﯿﭩﮭﮏ Downtown Cafe ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ
ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﺭﺋﯿﺲ ﮨﻮﮞ؟
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ Gucci,Lacoste, Adidas ﯾﺎ
Nike ﺳﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﻟﯿﮑﺮ ﭘﮩﻨﻮﮞ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﭩﻞ ﻣﯿﻦ ﮐﮩﻼﯾﺎ ﺟﺎﺅﮞ
ﮔﺎ؟
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﻟﻔﻆ ﭨﮭﻮﻧﺴﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﮩﺬﺏ ﮐﮩﻼﺅﮞ؟
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ Adele ﯾﺎ Rihanna ﮐﻮ ﺳﻨﻮﮞ ﺗﻮ
ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ؟
ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺭ !!!
ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﻋﺎﻡ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﮍﮮ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ،
ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﭨﮭﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻋﺎﺭ
ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﺎﺩﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﭼﺎﮨﻮﮞ
ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﺐ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ Adidas ﺳﮯ
ﺧﺮﯾﺪﯼ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﻤﯿﺺ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﺎ
ﺭﺍﺷﻦ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﮏ Mac
ﺑﺮﮔﺮ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺭﺍﺯ ﭘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ،
ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ
ﻓﻮﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ۔ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﺱ ﮐﺎ
ﺍﺧﻼﻕ، ﺑﺮﺗﺎﺅ، ﻣﯿﻞ ﺟﻮﻝ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ، ﺻﻠﮧ ﺭﺣﻤﯽ، ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﺍﻭﺭ
ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﮨﮯ۔ ﻧﮧ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺷﮑﻞ ﻭ ﺻﻮﺭﺕ۔
ماں اللہ کا پہلا انعام
ماں الله کا پہلا انعام ہے جو ہر انسان کو الله کی طرف سے دیا جاتا ہے - ماں کی آغوش دوسرا انعام ہے جس کی تپش اور ٹھنڈک وجود کو ہمیشہ ملتی رہتی ہے - ماں کے روح میں جو پیار کا تلاطم موجزن رہتا ہے وہ کسی سمندر میں بھی نہیں - ماں کے کندھے سے زیادہ مضبوط سہارہ کوئی نہیں اور آغوش سے زیادہ اچھی پناہ گاہ ممکن نہیں - ماں وہ ہستی ہے جس کی رب بھی قریب آ کر سنتا ہے - اے الله سب کی ماؤں کو سلامت رکھنا - اے الله ہر ماں کو اولاد کے ہر دکھ سے محفوظ رکھنا - آمین
آزاد ھاشمی
سب بکتا ہے
میں بھی بکتا ھوں ۔ توبھی بکتا ھے
دام ھوں تو سارا جہاں بکتا ھے
خریدنے تو نکلو ۔ دنیا کے بازار میں
انمول تھا جو ۔ وہ بھی انسان بکتا ھے
بکتی ھیں اخلاص کے نام سے ساری وفائیں
چاھت بکتی ھے یہاں ۔ ایمان بکتا ھے
پنڈت بھی دوکان سجائے بیٹھا ھے
آؤ خرید لو کہ ۔ بھگوان بکتا ھے
سب بک رہا ھے ملاء کی دوکان پر
دعا لے لو ۔ اقوال لے لو ۔قرآن بکتا ھے
بول دے گا جو چاھوگے واعظ سر مجلس
کلام بکتاھے۔ وعظ بکتی ھے۔ بیاں بکتا ھے
رھزنوں نے پہن لیا ھے سیاست کا پیرھن
وطن بکتا ھے کہ زمین و آسمان بکتا ھے
بک رھے ھیں رشتوں کے سارے تقدس
کیا بتاوں کہ یہ سب کہاں کہاں بکتا ھے
آزاد ھاشمی
زخم کیوں کریدتے ہو؟
آخر کوئی تو وجہ ہو گی کہ اپنا زخم روز کرید دیتے ہو ? تو وہ کروٹ بدل کر بولا - -بیٹا تم جس زخم کو دیکھ رہے ہو - اسے کریدنے سے تھوڑی دیر درد ہوتا ہے. اس کا درد اپنے اندر کے زخموں کے درد کو بھلا دیتا ہے- ایک دن یہ زخم میری نجات کا سبب ہو گا -- میں روز مرنے سے بچ جاؤں گا - ایک بار مروں گا - بس - کیوں - میں نے پوچھا تو اس نے ایک امیر آدمی کا نام لیتے ہوے پوچھا - اسے جانتے ہو ? وہ ایک بہت اچھا انسان ہے - الله نے اسے ہر نعمت سے نوازا ہے. میں نے کہا - وہ میرا بیٹا ہے --- اس کی سر پر علم کی پگ میں نے مزدوری کر کی رکھی ہے - رکشہ چلا کر اسے کار میں بٹھایا ہے - - اس نے مجھے اس گھر میں اس لئے ڈال دیا کہ میں کھانستا ہوں - میری چارپائی کاٹ دی - کہ کروٹ لینے سے شور کرتی ہے - - اور بھی سناؤں ? اس نے لمبی سانس لی اور پھر زخم پہ ہاتھ رکھ دیا - - آج صبح وہ سکوں سے سو گیا - جو سب سے زیادہ رویا اس کا وہی بیٹا تھا -
آزاد ھاشمی