Tuesday, 13 February 2018

بیٹا سکول جانا چاہوگے

" بیٹا ! اسکول جانا چاہو گے "
بہت پیارا سا بچہ , جس کی عمر سات آٹھ سال ہو گی - سڑک کے کنارے بیٹھا جوتے پالش کر رہا تھا - میرا سوال سن کر بولا -
" نہیں انکل "
میں حیران تھا کہ اسکا جواب اتنا تلخ کیوں ہے - چہرے پہ بچپن کے کوئی آثار نہیں تھے - اس عمر میں سنجیدگی سے بھر پور چہرہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا - سوچا چلو بوٹ پالش کراتا ہوں اور " نہیں " کا راز پوچھتا ہوں -
میں سوچ رہا تھا ان ہاتھوں میں کتابیں اور قلم ہونا چاہیے تھا - جو برش پکڑے ہوے ہیں -
" بیٹا ! کیوں نہیں اسکول جانا چاہتے "
اس نے میری بات ان سنی کر دی اور مشین کی طرح برش چلانے لگا - میں  نے پھر سوال دہرایا - تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا -
" انکل میرے ابو ایک ماہ پہلے فوت ہو گئے تھے - میری امی بیمار ہیں , روز دوائی نہ ملی تو وہ بھی مر جائیگی - میں دوائی کے لئے جوتے پالش کرتا ہوں- اور جو بچ جاتے ہیں , اسکی روٹیاں لے جاتا ہوں - روٹیاں نہیں لے کے جاؤں گا تو میرا بھائی اور بہن مر جائیگی - سب مر گئے تو پھر میں جی کے کیا کروں گا - اسکول میرے سب کو مار دیگا جی "
اس کی بات نے میرا سینہ کاٹ دیا - میں سوچ میں پڑ گیا - کیا ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں - آخر یہ لوگ جہاں رہتے ہیں ,ان کے اڑوس پڑوس میں لوگ رہتے ہوں گے - الله کا نام لینے والے مسلمان ہوں گے - صوم و صلات کی پابندی کرنے والے بھی ہوں گے - محبت اور اخوت کے مبلغ بھی ہوں گے - سماجی بہبود کے ٹھیکدار بھی ہوں گے - سیاسی مداری بھی ہوں گے - ملا بھی ہوں گے -
ایسے کتنے  یتیم ہوں گے , کتنی بیوہ ہوں گی , کتنے معصوم ہوں گے - جو آنکھیں کھولتے ہی درد کی بھٹی کا ایندھن بن جائیں گے -
کیا میری اور آپکی ذمہ داری نہیں کہ ان کو جینے کا , علم کا حق دیں اور دلائیں -
کیا ہم سب اپنی ذمہ داری سے بے خبر نہیں ہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment