" کیا یہ کیفیت نہیں ہے "
قران کریم میں اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا ۔
" کہو کہ ، وہ ( اللہ) اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاوں کے نیچے سے ۔ یا تمہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے بھڑا دے اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے ۔
دیکھو کسطرح مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں واضع کررہے ہیں تاکہ یہ کچھ سمجھ سے کام لیں ۔ سورہ انعام ٦٥ "
اس آیت کریمہ کو کوئی بھی ذی عقل پڑھے یا عام فہم پڑھے ، کیا بالکل واضع نہیں کہ ہم اپنی سرکشی کے باعث اللہ کے اس عذاب کا شکار ہو چکے ہیں ۔ کیا عذاب ہمارے اوپر سے بد کردار حکمرانوں کی شکل میں نہیں آچکا ۔ کیا ہمارے معاشرتی بدامنی ، افلاس ، خوف ، رشوت خوری , قتل و غارتگری وغیرہ وغیرہ ہمارے ارد گرد کا عذاب نہیں ۔ کیا اس سیاست نے ہمیں ٹولیوں میں تقسیم نہیں کردیا ۔ جس کا اصل محرک جمہوریت ہے ۔ کیا سب ٹولیاں اپنی اپنی طاقت ظاہر کرنے کیلئے میدان میں دینگا مشتی نہیں کر رہیں ۔ کیا علماء نے مسالک کے محاذوں پہ ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہاتھ نہیں ڈال رکھا ۔ اس سے زیادہ کیا وضاحت درکار تھی ۔ اہل علم ، اللہ کے ان احکامات سے بے خبر کیوں ہیں ۔ جب سب کچھ واضع ہے تو پھر کس بات کیوجہ سے ہم اپنی وہ راہ متعین نہیں کررہے ۔ جس پر اللہ کی نصرت ملتی ہے ۔ جس پر انعامات ملتے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے اہل علم لوگ جان بوجھ کر عوام کو قرآن کی اگاہی سے دور رکھے ہوئے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
Tuesday, 13 February 2018
کیا یہ کیفیت نہیں ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment