Monday, 12 February 2018

زخم کیوں کریدتے ہو؟

آخر کوئی تو وجہ ہو گی کہ اپنا زخم روز کرید دیتے ہو ? تو وہ کروٹ بدل کر بولا - -بیٹا تم جس زخم کو دیکھ رہے ہو - اسے کریدنے سے تھوڑی دیر درد ہوتا ہے. اس کا درد اپنے اندر کے زخموں کے درد کو بھلا دیتا ہے- ایک دن یہ زخم میری نجات کا سبب ہو گا -- میں روز مرنے سے بچ جاؤں گا - ایک بار مروں گا - بس - کیوں - میں نے پوچھا تو اس نے ایک امیر آدمی کا نام لیتے ہوے پوچھا - اسے جانتے ہو ? وہ ایک بہت اچھا انسان ہے - الله نے اسے ہر نعمت سے نوازا ہے.  میں نے کہا - وہ میرا بیٹا ہے --- اس کی سر پر علم کی پگ میں نے مزدوری کر کی رکھی ہے - رکشہ چلا کر اسے کار میں بٹھایا ہے - - اس نے مجھے اس گھر میں اس لئے ڈال دیا کہ میں کھانستا ہوں - میری چارپائی کاٹ دی - کہ کروٹ لینے سے شور کرتی ہے - - اور بھی سناؤں ? اس نے لمبی سانس لی اور پھر زخم پہ ہاتھ رکھ دیا - - آج صبح وہ سکوں سے سو گیا - جو سب سے زیادہ رویا اس کا وہی بیٹا تھا -
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment