Tuesday, 13 February 2018

دل کا غریب

" دل کا غریب "
" اللہ رزق میں فراوانی دیتا ہے تو ، مستحق لوگوں پر خرچ کرنے حکم بھی اللہ ہی دیتا ہے ۔ بہت سارے لوگوں کو دولت کی ریل پیل بھی امیر نہیں کر پاتی ۔ وہ بہت بد نصیب ہوتے ہیں  ، جو دولت ہوتے ہوئے بھی غریب ہی رہتے ہیں ۔ ان اجل اجل کے غریبوں کے کسی ضرورت مند کی ہتھیلی پر چند سکے رکھتے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں "
مفلوک الحال بوڑھا ، سڑے ہوئے پھلوں کی ڈھیری سے پھل تلاش کر رہا تھا ۔ جسے دیکھتے ہوئے ایک باریش شخص کے یہ الفاظ سن کر مجھے بھی احساس ہوا کہ ہمارا تو سارا معاشرہ ہی غربت زدہ ہے ۔ کار میں بیٹھا شخص بھی بھکاری ہی لگتا ہے ۔ اگر دل امیر ہو جاتے تو کوئی سوال کرنے والا ہاتھ نہ ہوتا ۔ ہم ایک فقیر کی ہتھیلی پر چند سکے رکھتے ہوئے ، اسکی شخصیت کا پورا ایکسرے کرتے ہیں ۔ حقارت سے دیکھتے ہیں ۔ احسان کرتے ہیں اس پر ۔ ثواب کیلئے سرمایہ  کاری کرتے ہیں ، ان چند سکوں سے ۔ بدلے میں ڈھیر ساری دعاوں کی طلب رکھتے ہیں ۔ گویا اس سے سستی بخشش کی کوئی دوسری راہ ہی نہیں ۔ کبھی سوچتے ہی نہیں کہ جسے ہم نے اللہ کی عطا سمجھ رکھا ہے ، کہیں انہی غریبوں کا چھینا ہوا حق تو نہیں ۔
بوڑھا شخص اپنی جھولی میں ڈالے یہ پھل لیکر اٹھا اور وہیں گر گیا ۔ اب ایک ہجوم تھا جو اسکی طرف بڑھ رہا تھا ۔ مگر کوئی نہیں تھا جو اسوقت اسکی طرف بڑھتا جب وہ گلے سڑے پھل اکٹھے کر رہا تھا ۔ میں بھی اسی ہجوم کا حصہ تھا ۔
" میں بھی کبھی امیر تھا ۔ میرے ہاتھ بھی غریب کو کچھ دیتے کانپتے تھے ۔ مجھے بھی غریبوں سے گھن آتی تھی ۔ دولت حواس چھین لے تو انجام یہی ہوتا ہے ۔ "
بوڑھے کے آخری الفاظ تھے اور ایک ہچکی سے وہ چل بسا ۔ وہ اکیلا نہیں مرا ، پورے معاشرہ کی موت کا پیغام تھا ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment