" جا بیٹا ! پریشان نہ کر "
بازار سے بالکل دور ، فٹ پاتھ پہ دیوار کے سائے تلے وہ چھوٹی سی ٹوکری میں چند ماچس کی ڈبیاں ، چند فینائل کی گولیاں ، شیونگ ریزر اور پنسلیں رکھے بیچ رہی تھی ۔ بوڑھی ہڈیوں سے گوشت لٹک چکا تھا ۔ بالوں میں کئی روز سے کنگھی نہیں کی گئی تھی ۔ مگر پھر بھی چہرے پر ایک وقار اور آنکھوں میں ایک چمک تھی ۔ ایسی جگہ بیٹھی کہ شاید ہی کسی کی نظر پڑے اور کچھ خریدنے کو آئے ۔ اسی جگہ چند دن پہلے میں نے اس سے ضرورت کے بغیر بہت ساری چیزیں خریدی تھیں ۔ اور چند روپے زاید دینے کی کوشش کی تھی ۔ وہ بضد تھی کہ وہ صرف سامان کے پیسے لے گی ۔ میں اضافی پیسے چھوڑ کے آگے بڑھا تھا تو اس نے میرے پیسے زمین پر دور رکھ دئے تھے ۔ آج بھی ایسا ہی ہوا ۔
میں اس عمر رسیدہ عورت کو " ماں " کہنے میں خوشی محسوس کر رہا ہوں ، کہ اس عمر میں بھی ، سخت ضرورت میں بھی اپنا وقار برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ آج میں پوچھنے بیٹھا کہ وہ یہ سامان کیوں بیچتی ہے اور پھر ایسی ویران جگہ پہ کیوں بیٹھتی ہے ۔
" بیٹا ! مجھے اپنی روٹی کیلئے جتنے پیسے چاہئیے ہوتے ہیں ۔ اتنے اس جگہ مل جاتے ہیں ۔ سارا دن بیٹھی رہتی ہوں اللہ ایسے گاہک بھیجتا ہے جن کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ وہ اس زمین پر بیٹھ کر مجھ سے چیزیں خرید لیتے ہیں ۔ میں بہت خوش ہوتی ہوں جب ایسے گاہک چیز خریدتے ہیں ۔ پتہ کیوں ۔ اسلئے کہ میرا رب میرا خیال رکھے ہوئے ہے ۔ یہ گاہک اسکے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اسی بہانے سے اپنے رب سے باتیں بھی کر لیتی ہوں "
ماں جی کی بات سنتے ہی میرے آنسو بہہ نکلے ۔ ایمان کی یہ حد ۔ شکر کا یہ مقام ۔
" آپ تھوڑا مارکیٹ کے قریب اور ایسی جگہ بیٹھیں جہاں نظر آسکیں "
میں نے رائے دی تو وہ نہ جانے کب سے آنسووں کا طوفان روکے بیٹھی تھی ۔ زار و قطار رونے لگی ۔
" سڑک پر سے میرے بچے گاڑیوں میں گزرتے ہیں ۔ وہ دیکھ لیں گے تو انہیں دکھ ہوگا ۔ "
میرے پاوں سے زمین نکل گئی ۔
" بد بخت اولاد "
میرے منہ سے بے اختیار نکلا ۔
" نہ بابو ۔ ایسے نہ بول ۔ اللہ نے انہیں بخت لگائے ہیں ۔ بس ڈرتی رہتی ہوں اللہ انکی پکڑ نہ کر لے ۔ اللہ سے انکے حق کی معافی بھی مانگتی رہتی ہوں ۔ اولاد دکھی ہو تو ماں کا سینہ پھٹ جاتا ہے ۔ میرا کیا ہے کچھ دنوں کی مہمان ہوں ۔ کسی روز یہاں سے ہی چلی جاوں گی ۔ میں انکے ساتھ رہتی تھی تو انکے گھروں میں لڑائیاں ہوتی تھیں ۔ اب سکون سے ہونگے ۔ ماں کا یہی ارمان ہوتا ہے کہ اولاد خوش رہے ۔ بس میری روٹی اللہ بھیج دیتا ہے ۔ "
" پھر بھی ۔۔۔۔ " میں کچھ اور کہنے ہی والا تھا کہ ماں جی نے ٹوک دیا
" بس بیٹا بس ۔ ماوں کر زخم نہیں کریدنا چاہیئے ۔ بہت درد ہوتی ہے ۔ اب رہنے دو ۔ میں ٹھیک ہوں ۔ "
اس نے آنسو روکنے کی بے سود کوشش کرتے ہوئے کہا ۔
" ماں جی میرے ساتھ چلیں ۔ اپنا بیٹا سمجھ لیں "
میں نے اصرار کیا تو وہ غصے میں آ گئیں
" جا بیٹا ! پریشان نہ کر "
آزاد ھاشمی
Wednesday, 31 January 2018
جا بیٹا پریشان نہ کر
کیسا شکوہ
" کیسا شکوہ "
چہرے کے شکن اور رنگت کی زردی گواہ تھی کہ اسکی عمر کس کشاکشی سے گذری ہو گی ۔ مگر چہرے کا سکون اور لہجہ میں ظرافت اسکے حوصلے اور توکل کی عکاس تھی ۔ گذشتہ کئی سال کی شناسائی میں کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے کبھی اللہ سے گلہ کاایک لفظ بھی بولا ہو ۔ جب بھی کہا الحمدوللہ ہی کہا ۔ آج بھی بخار میں تپتا ہوا بدن ، مگر چند سکوں کی تلاش میں ، تاکہ جینے کی ضروریات پوری کر سکے ، وہ پورے انہماک سے مصروف تھا ۔ میں نے طبیعت کا پوچھا ۔ وہی لہجہ وہی اظہار تشکر ۔
" بابا جی ! کبھی اللہ سے شکایت بھی کی ، زندگی میں کبھی تو تھکن ہوتی ہو گی ، کبھی تو احساس مایوسی غالب آتا ہو گا ۔"
بابا جی مسکرائے ۔
" کرتا ہوں ، بہت کرتا ہوں ۔ جب کسی بہکے ہوئے مسلمان کو دیکھتا ہوں ۔ کہتا ہوں اللہ سے ، اے قادر مطلق ، تیرے اختیار میں ہے ، تو اسکا دل بدل سکتا ہے ، کیوں نہیں بدل رہا ۔ اسے اس لذت سے آشنا کیوں نہیں کر رہا ، جس سے اپنے پسندیدہ لوگوں کو کرتا ہے ۔ اپنے لئے کیا مانگوں ، اطمینان کی جس دولت سے اس کریم نے نواز دیا ہے ، اسکے بعد کچھ مانگنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ بیٹا ! دنیا مانگنا کوئی دانشمندی نہیں ، حماقت ہے ۔ میں اور آپ تو مسافر ہیں پھر کیوں حرص و ہوس کی غلامی کریں ۔ کیوں نہ اطمینان سے سفر کاٹیں ۔ یہ دنیا تو ایسی دلدل ہے جس میں گھسنے کے بعد انسان ایسے ڈوبتا ہے کہ بدبودار کیچڑ اسکے گلے میں گھس جاتا ہے ۔ کیا اس دلدل سے بچے رہنے پہ شکر کرنا چاہئے یا شکوہ ۔ بھوک لگتی ہے تو روٹی مل جاتی ہے ، پیاس لگے تو پانی ۔ پھر کیا شکوہ کروں رب سے ۔ سیانے کہتے ہیں کہ بیماری تو گناہوں کا بوجھ کم کرتی ہے ، پھر بیماری کا گلہ کیوں کروں ۔ "
بابا جی کی انوکھی منطق کو کیا نام دیا جائے ۔ لگتا ہے وہ ٹھیک کہتے ہیں ۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے اطمینان قلب ممکن ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Tuesday, 30 January 2018
ایک چبھتا ہوا سوال
" ایک سوال "
"کیا ملکی خزانہ لوٹ کر باہر منتقل ہوجانے والوں کی تیسری نسل عیسائی یا لادین ہوجاتی ہے؟"
ایک چبھتا ہوا سوال اور فکر انگیز سوچ ۔ ہم نے ایک سوچ پر پختہ یقین کر رکھا ہے کہ ہر وہ شخص مسلمان ہے ، جس نے کلمہ پڑھ لیا ، جس نے مسلمان گھر میں جنم لیا ۔ اور پختہ یقین کر رکھا ہے کہ امت محمدیہ ہونے کے ناطے سے شفاعت حبیب اللہ کے حقدار ہیں ۔ جو بھی کریں گے اللہ کی رحمت کی چادر ہمارے سروں پر رہے گی ۔ یہ سوچتے ہی نہیں کہ اللہ کے حبیب کی کونسی بات ہم نے مانی ۔ کونسا عمل اختیار کیا ۔ اللہ ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے اپنے بندے سے ۔ مان لیا ۔ اور ایمان کا حصہ بنا لیا کہ بخشش پکی ہے ، جنت ہماری ہوئی ۔ یہ سوچنا چھوڑ دیا کہ جو رب مسلمانوں کا ہے وہی رب ہندو کا ہے ، یہودی کا ہے ، عیسائی کا ہے ، لا دین کا ہے ، آتش پرست کا ہے ۔ پھر ہم سے منفرد سلوک کی کیا وجہ ۔
ایمان کو عملی زندگی کا حصہ بنائے بغیر کچھ نہیں ملے گا ، نہ رسول کی شفاعت نہ رب کا کرم ۔
وطن کی مٹی سے بےوفائی ایمان کا کھلم کھلا انکار ہے ۔ جو ملک کو لوٹتا ہے ، وہ حقوق العباد سے انحراف کرتا ہے ، وہ حکم ربی کا منکر ہے ، وہ اسوہ حسنہ کا منکر ہے ۔ ایسا ہر شخص لا دین ہے ۔
یہ تعلیم نہ عیسائیت کی ہے ، نہ یہودیت کی اور نہ کسی دوسرے مذہب کی ۔ بہت کم ایسے عیسائی یہودی ، ہندو اور لادین ملیں گے جو اپنی دھرتی ، اپنی قوم اور اپنے ہم مذہب لوگوں سے غداری کا ارتکاب کرتے ہوں ۔ مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی اکثریت کیوں ہے ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے ، جسکا شاید یہی جواب ہے کہ ہم صرف نام کے مسلمان ہیں ۔ نہ اللہ کے احکامات کی پرواہ ہے نہ رسول سے کوئی انسیت ہے ۔
ملک لوٹنے میں جو لوگ ملوث ہیں صرف وہی مجرم نہیں ، جو انکا ہاتھ نہیں روکتے ، اور جو انکو منتخب کرتے ہیں وہ بھی اتنے ہی مجرم ہیں ۔ جس میں آپ بھی ہو سکتے ہیں اور میں بھی ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
دس پھل دس فوائد
|
دس پھل دس فوائد
|
|||||||||
|
|||||||||
The Amazing Collection Of Holy Quran.General Knowledge Of Holy Quran |
THE AMAZING COLLECTION OF HOLY QURAN.GENERAL KNOWLEDGE OF HOLY QURAN.
Underneath The Useful And The Valuable Collection About The Holy Quran Is Given In Form Of Questions And Answers . The Aim Is To Know More About The Holy Book Of God With A One Glance ;
S.No. QUESTION ANSWER
1. How Many Sura Are In Holy Quran ? 114
2. How Many Verses Are In Holy Quran ? 6666.
3. How Many Dots Are In Holy Quran ? 1015030.
4. How Many Over Bar (Zaber) Are In Holy Quran ? 93243
5. How Many Under Bar ( Zaer ) Are In Holy Quran ? 39586
6. How Many Raque Are In Holy Quran ? 1000.
7. How Many Stop ( Waqf ) Are In Holy Quran ? 5098.
8. How Many Thashdeed Are In Holy Quran ? 19253.
9. How Many Letters Are In Holy Quran ? 323671
10 How Many Pash Are In Holy Quran ? 4808.
11. How Many Madd Are In Holy Quran ? 1771
12 How Many Words Are In Holy Quran ? 77701.
13 How Many Parts Of Holy Quran ? 30.
14 How Many Time Besmillah Al-Rahmaan Al-Raheem Is Repeated ? 114.
15 How Many Sura Start With Besmillah Al-Rahmaan Al-Raheem ? 113.
16 How Many Time The Word 'Quran' Is Repeated In Holy Quran ? 70.
17 Which Is The Longest Sura Of Holy Quran ? Al-Baqarah.
18 Which Is The Best Drink Mentioned In Holy Quran ? Milk.
19 The Best Eatable Thing Mentioned In Holy Quran Is ? Honey.
20 Which Is The Shortest Sura Of Holy Quran ? Qausar.
21 The Longest Verse Of Holy Quran Is In Which Sura? Al-Baqarah No.282
22 The Most Disliked Thing By The God Though Halal Is ? Divorce
23 Which Letter Is Used For The Most Time In Holy Quran.? Alaph
24 Which Letter Is Used For The Lest Time In Holy Quran ? Zaa.
25 Which Is The Best Night Mentioned In Holy Quran ? Night Of Qadar.
26 Which Is The Best Month Mentioned In Holy Quran ? Ramzan.
27 Which Is The Biggest Animal Mentioned In Holy Quran ? Elephant.
28 Which Is The Smallest Animal Mentioned In Holy Quran ? Mosquito
29 How Many Words Are In The Longest Sura Of Holy Quran ? 25500.
30 How Many Words Are In The Smallest Sura Of Holy Quran ? 42
31 Which Sura Of Holy Quran Is Called The Mother Of Quran ? Sura Hamd
32 How Many Sura Start With Al-Hamdullelah ? Five_ Hamd, Inaam, Kahf, Saba Fatr.
33 Which Sura Has The Same Number Of Verses As The Number Of Sura Of Holy Quran ? Taqveer, 114 Verses.
34 How Many Sura's Name Is Only One Letter ? Three, Qaf, Sad Noon.
35 How Many Sura Start With Word " Inna " ? Four Sura - Fatha, Nuh,Qadr, Qausar.
36 Which Sura Has The Number Of Its Verses Equal To The Number Of Masumeen ? Saf, 14 Verses.
37 Which Sura Are Called Musabbahat ? Esra, Hadeed, Hsar, Juma, Taghabun Aala.
38 How Many Sura Are Makkahi And How Many Are Madni ? Macci 86, Madni 28.
39 Which Sura Is On The Name Of Tribe Of Holy Prophet ? Quresh
40 Which Sura Is Called The Heart Of Holy Quran ? Yaseen.
41 In Which Sura The Name Of Allah Is Repeated Five Time ? Sura Al-Haj.
42 Which Sura Are Named Azaiam ? Sajdah, Fusselat, Najum Alaq.
43 Which Sura Is On The Name Of One Holy War ? Sura Ahzaab.
44 Which Sura Is On The Name Of One Metal ? Sura Hadeed
45 Which Sura Does Not Starts With Bismellah ? Sura Tauba.
46 Which Sura Is Called ' Aroos-Ul-Quran ? Sura Rehman.
47 Which Sura Is Considered As 1/3 Of Holy Quran ? Sura Tauheed.
48 The Name Of How Many Sura Are With Out Dot ? Hamd, Raad, Toor, Room, Masad.
49 In Which Sura Besmillah Came Twice ? Sura Naml.
50 How Many Sura Start With The Initials ( Mukette'at ) 29 Sura.
51 Which Sura Was Revealed Twice ? Sura Hamd.
52 In Which Sura The Back Biter Are Condemned ? Sura Humzah.
53 In Which Sura The Name Of Allah Is Repeated In Every Verse ? Sura Mujadala.
54 In Which Sura The Letter 'Fa' Did Not Come ? Hamd.
55 Which Sura Are Called Muzetain ? Falk Nas.
56 Which Are Those Sura If Their Name Are Reversed Remain The Same ? Lael Tabbat.
57 Which Is That Sura If Its First Letter Is Remove Becomes The Name Of One Of The City Of Saudi Arab? Sajdah
58 Which Sura Start With Word ' Tabara Kallazi' ' Mulk Furkan
59 Macci Sura Were Revealed In How Many Years ? 13 Years
60 Madani Sura Were Revealed In How Many Years ? 10 Years.
61 Which Sura Start With Word Kad ? Mujadala Momenoon.
62 Which Sura Is Related To Hazrat Ali ? Sura Adiat.
63 How Many Sura Are In 30th. Chapter ? 37.
64 Which Sura Every Verse Ends With Letter 'Dal ' ? Tauheed.
65 Which Sura Is Revealed In Respect Of Ahllelbayet ? Sura Dahr.
66 Which Sura Every Verse Ends With Letter ' Ra ' Qauser.
67 In Which Sura The Creation Of Human Being Is Mentioned ? Sura Hijr V-26.
68 In Which Sura The Regulations For Prisoner Of War Is Mentioned ? Sura Nesa
69 Which Sura Is Having The Laws About Marriage ? Sura Nesa.
70 Which Sura If Its Name Is Reversed Becomes The Name Of One Bird ? Sura Room.
71 In Which Sura The Story Of The Worship Of Cow Of Bani Esra'iel Is Mentioned ? Sura Taha.
72 In Which Sura The Law Of Inheritance Is Mentioned? Sura Nesa.
73 In Which Sura The Hegira Of Holy Prophet Is Mentioned ? Sura Infall.
74 In Which Sura The 27 Attributes Of God Are Mentioned ? Sura Hadeed.
علماء ہوش میں آئیں
" علماء ہوش میں آئیں "
ایک محقق نے پوسٹ لگائی ہے
(حرفِ عام ہے کہ
اسلامی تاریخ اپنے ابتدائی سو سال
خاموش ہے , پھر قرآن کا یوں محفوظ رہنا محض دعوٰی نہیں ؟ )
دوسرے محقق نے کمنٹس لکھے ہیں ۔
(قرآن کے محفوظ رہنے کی وضاحت درکار ہے کیا ہم مسلمانوں کے پاس اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت موجود ہے )
یہ ایک علمی بحث نہیں ، ایک غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کا آغاز ہے کہ قران بالکل وہی ہے جو نازل ہوا یا کوئی تبدیلی ہوئی ۔ کیونکہ پورے سو سال کا عرصہ تاریخی ابہام کا عرصہ ہے ۔
ایک بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ کیسے مسلمان ہیں ، جو اپنے دین ، مذہب ، ایمان میں خود شکوک پیدا کرنے کے درپے ہیں ۔ یہ کیسی تحقیق ہے جو اللہ پر ، اللہ کے رسول پر اور اللہ کی کتاب میں خامیاں ڈھونڈھنے کی طرف مائل کرتی ہے ۔ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ جاہل دانشور ۔ یہ کفار کی نمائندگی سے کیا حاصل کر لیں گے ۔ اللہ کا غضب اور قہر ۔
علماء کرام کو ان باتوں کو حماقت پہ محمول نہیں کرنا چاہئیے ، یہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کی کوششیں ہیں ۔ انہیں ابتداء میں روکنا ہوگا ۔
وگرنہ انکے جواب کیلئے صرف اتنا کافی ہے کہ قران کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لے رکھا ہے ۔ اسی لئے قرآن ابتداء ہی میں حفظ ہونا شروع ہو گیا تھا ۔ اور اسی وقت سے حفظ ہوتا چلا آرہا ہے ۔ ایک نقطے ، ایک زیر ، ایک زبر کی تبدیلی کے بغیر ۔
آزاد ھاشمی
مظلوم کی آواز
" مظلوم کی آواز "
اکثر سوچتا ہوں کہ اللہ پاک اپنے بندوں کی ہر آواز سنتا بھی ہے ، قبول بھی کرتا اور پوری بھی فرماتا ہے ۔ مظلوم سندھ سے آواز دیتا ہے تو محمد بن قاسم کو عرب سے مدد کیلئے بھیج دیتا ہے ۔
مگر اب مظلوم کتنی بھی آہ و بکا کرے ، نہ اللہ سننے پر آمادہ نظر ہے ، نہ قبولیت کی شکل نظر آتی ہے اور نہ مظلوم کو عدل ملتا ہے ۔ نہ ظالم کے ہاتھ ٹوٹتے ہیں اور نہ ظالموں کی بستی پر قہر خداوندی ٹوٹتا ہے ۔ مسجدوں میں دعائیں ہوتی ہیں ، مگر کسی دعا کی قبولیت نظر نہیں آتی ۔ ایسا کیوں ہے ۔ اللہ نے ہمیں اسقدر بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیا ۔
یوں لگتا ہے کہ ہمارے دل ایمان سے خالی ہوگئے ہیں ۔ ہم نے اللہ کے مقابلے میں شیطان کو اپنا ساتھی بنا لیا ۔ ہم اللہ کے سرکش بندوں کی قطار میں کھڑے ہو گئے ۔ ہمارا اللہ سے تعلق محض دکھاوا رہ گیا ۔ گویا جب ہم اللہ کے نہیں تو اللہ ہمارا ساتھ کیوں دے ۔ مظلوم ظالم کے سامنے گردن جھکائے خود کھڑا ہو جائے تو فطرت کیطرف سزا اسکا مقدر ہے ۔ جب انسانوں کا خوف حاوی کر لیا جائے تو اللہ کا خوف دل سے اٹھ جاتا ہے ۔ جب اللہ کا خوف دل میں ہو تو کسی انسان سے ڈر نہیں لگتا ۔ مظلوم کے دل میں سے اللہ کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور وہ ظالم کے خوف تلے جینا شروع کر دیتا ہے ۔ یہی وہ صورت ہے جو آج ہمیں درپیش ہے ۔ ہمیں اللہ کیطرف بڑھنا ہو گا ، اللہ کی سننی ہوگی ، اللہ کی ماننی ہوگی ۔ پھر نہ ظالم بچے گا اور نہ بھاگ سکے گا ۔ دعا اور بد دعا بھی اسی صورت میں سنی جائے گی ، جب طاقت کا مالک صرف اور صرف اللہ کو مان لیں گے ۔
آزاد ھاشمی
صبر اور نماز
" صبر اور نماز "
جتنی بھی تدبیریں ، جتنی بھی دعائیں ، جتنا بھی شور و غوغا ممکن تھا ۔ درد دل رکھنے والے لوگ ایک تسلسل سے کر رہے ہیں ۔ ظلم کی آندھی رکنے کی بجائے اور تیز ہوتی جارہی ہے ۔ مجرم طاقتور ہیں اور مظلوم مجبور اور کمزور ۔ حکومت یا تو مجرموں کی پشت پناہی کرتی ہے یا قطعی بے بس ہے کہ اس لہر کو روک نہیں پا رہی ۔ ہر مجرم گرفت میں آ کر بھی آسانی سے نکل جاتا ہے ، اسکی ایک ہی وجہ ہے کہ مجرموں کی چین اہل اقتدار لوگوں سے جڑی ہوئی ہے ۔ بد قسمتی سے عدالتی نظام اسقدر فرسودہ ہے کہ مجرم اسکے شکنجے میں آ ہی نہیں سکتا ۔ وکلاء کی جیب بھر دی جائے تو وہ جج کے چیمبر میں جج کو خرید لیتے ہیں ۔ یہ جتنے جج بھڑکیں مارتے ہیں اتنے ہی ناکارہ ثابت ہوئے ہیں ۔ انکے اپنے مفادات حکومت میں رہتے ہوئے اور کرسی سے ہٹنے کے بعد تک پیش نظر ہوتے ہیں ۔ اپنی اپنی عاقبت کی فکر میں یہ صرف شطرنج کھیلتے رہتے ہیں ۔ فوجی جرنیل بھی اس پلاننگ میں رہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کونسی بہتر پوسٹ مل سکتی ہے ۔ اسکا ثبوت سفیروں کی شکل میں موجود ہے ۔
سوال ہے کہ اب عوام کیا کرے ۔ اللہ نے اسکا واضع حل دیا ہے کہ نماز اور صبر سے مدد طلب کرو ۔ قوم نماز سے کنارہ کش ہے ۔ ریا کے سجدے تو کرتے ہیں ، مگر ایمان کا سجدہ مفقود ہے ۔ جب نماز اور صبر کو پکڑ لیں ، اللہ ان درندوں کو زمین کی تہوں سے نکال کر عبرت کا نشان بنا دے گا
۔انسان کا قاتل کبھی نہیں بچ پاتا ۔ یہ چند دنوں کی دراز رسی پر مایوس نہیں ہونا چاہئیے ۔ اللہ سے خضوع اور خشوع سے اپنی اپنی بپتا کہنا شروع کردو اور انتظار کرو ، اللہ اپنا انصاف اسی دنیا میں دکھا دے گا ۔ اگر ہم سب چاہتے ہیں کہ ظالم کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو پورے ایمان کے ساتھ نماز پڑھو اور صبر کرو ۔ یہ حل اللہ نے بتایا ہے اور اللہ کا بتایا ہوا حل کبھی ناکام نہیں ہوتا ۔
آزاد ھاشمی
Monday, 29 January 2018
صحافی اور گپ شپ
" صحافی اور گپ شپ "
صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جو قوموں کے بہتے دریا کو گپ شپ ہی میں الٹا چلا سکتا ہے ۔ اس کا اصل رخ بے خبر لوگوں کو اگاہ کرنا ہوتا ہے ، کہ وقت کی گنگا کس رفتار اور کس رخ پر بہہ رہی ہے ۔ صحافی لوگ اپنے پیشے کے اعتبار سے بہت معتبر لوگ ہوتے ہیں ۔ حق و صداقت کیلئے ڈٹ جانا ، انکا طرہ امتیاز ہوا کرتا ہے ۔ اس اعلی درجے کے صحافی ہوا کرتے تھے ، اب بھی شاید اکا دکا ہونگے ۔ صحافت کے بڑے بڑے نام آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں ۔ وہ بھی ہیں جنہوں نے صحافت عبادت سمجھ کر کی اور اسکا حق بھی ادا کیا ۔ جب وہ لکھتے تھے تو ایک ایک لفظ کو تقدس کے لحاظ سے رکھتے تھے ، دلیل سے لکھتے تھے اور ناقابل تردید ثبوت کے ساتھ لکھتے تھے ۔ مگر آج کی صحافت گپ شپ تک محدود ہو گئی ہے یا سنسنی خیز من گھڑت داستانوں تک ۔ جو زیادہ دبنگ صحافی ہیں وہ اپنی مرضی کا ریٹ مقرر کرتے ہیں ۔ اپنی قیمت خود لگاتے ہیں ۔ جو مسکینڑے ہیں وہ کبھی کبھی خوش فہمی میں سچ بول لیتے ہیں اور پھر کئی سال تک ایک سچ کا خمیازہ بھگتتے رہتے ہیں ۔ جب سے صحافت گپ شپ بنی ہے ، عوام کو نفسیاتی مریض کر دیا ہے ۔ سمجھ ہی نہیں آتا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ۔
کرسی پہ بیٹھا ہو اکڑی گردن والا پولیس والا ، جو اللہ سے بھی نہیں ڈرتا ، جس کو عاقبت سے بھی خوف نہیں آتا ۔ صحافی کے سامنے گردن جھکا کر چائے بھی پلاتا ہے اور اپنے لائق خدمت بھی پوچھتا ہے ۔ پہلے صحافت زرد ہوتی تھی اب سرخ ہو گئی ہے ۔ جو من میں آئے چھاپ دو ، ریٹ مل جائے تو گول مول کر دو ، نہ ملے تو مسالہ لگاتے رہو ۔ یہ ہے صحافت ۔
آزاد ھاشمی
سب سے بڑا حاکم
" سب سے بڑا حاکم "
" الیس اللہ باحکم الحٰکمین "
قرآن پاک میں انسانوں سے سوال کیا گیا ۔
کیا اللہ سارے حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ؟
ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اس بات کی عملی گواہی دے ، کہ وہی اصل حکمران ہے ، اسی کی اصل حکمرانی ہے ۔ وہی اقتدار کا مالک ہے ۔
اگر ہم اس کو قبول کرتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں ۔ تو پھر اسکے دستور ، اسکی حدود اور اسکے احکام کو کیوں نہیں مانتے ۔
مگر ایسا نہیں ہے ۔ ہم مسلمان عملی طور پر اس سے انحراف کرتے ہیں ۔ اللہ کے متبادل دنیا کے زور آور لوگوں کو خدا بنائے بیٹھے ۔ یہی سبب ہے کہ ہم انہی دنیا کے آقاوں کی اطاعت کرتے ہیں ، انہی کے قوانین کے تابع زندگیاں گذارتے ہیں ، انہی کے حکم مانتے ہیں ۔ ہم نے کبھی توجہ ہی نہیں کہ یہ دنیا میں زور آور خالی ہاتھ منوں مٹی تلے دفن کر دئیے جاتے ہیں ۔ صرف حقیقی حاکم کے ایک حکم پر جو احکم الحاکمین ہے ۔ دنیا کا سارا نظام اسی حاکم کے حکم کے تابع ہے ۔ پھر ہم انسان اسے کیوں نہیں مانتے ۔ اسکی کیوں نہیں سنتے ، اسکے احکامات کو اپنے اوپر لاگو کیوں نہیں کرتے ۔ کیا یہ کہنا غلط ہو گا کہ ہمارا ظاہر اور باطن مختلف ہے ۔ ہم اوپر سے اللہ کو مانتے ہیں مگر اندر سے اس پر عمل پیرا نہیں ہیں ۔ یہ وہ دوغلا پن ہے ، جس کیوجہ سے اللہ نہ ہماری سنتا ہے اور نہ ہماری نصرت فرماتا ہے ۔ ہماری رسوائی اسی سبب ہے کہ ہم نے اللہ کی حاکمیت کو ماننے سے گریز کیا ۔
آزاد ھاشمی