Tuesday, 30 January 2018

مظلوم کی آواز

" مظلوم کی آواز "
اکثر سوچتا ہوں کہ اللہ پاک اپنے بندوں کی ہر آواز سنتا بھی ہے ، قبول بھی کرتا اور پوری بھی فرماتا ہے ۔ مظلوم سندھ سے آواز دیتا ہے تو محمد بن قاسم کو عرب سے مدد کیلئے بھیج دیتا ہے ۔
مگر اب مظلوم کتنی بھی آہ و بکا کرے ، نہ اللہ سننے پر آمادہ نظر  ہے ، نہ قبولیت کی شکل نظر آتی ہے اور نہ مظلوم کو عدل ملتا ہے ۔ نہ ظالم کے ہاتھ ٹوٹتے ہیں اور نہ ظالموں کی بستی پر قہر خداوندی ٹوٹتا ہے ۔ مسجدوں میں دعائیں ہوتی ہیں ، مگر کسی دعا کی قبولیت نظر نہیں آتی ۔ ایسا کیوں ہے ۔ اللہ  نے ہمیں اسقدر بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیا ۔
یوں لگتا ہے کہ ہمارے دل ایمان سے خالی ہوگئے ہیں ۔ ہم نے اللہ کے مقابلے میں شیطان کو اپنا ساتھی بنا لیا ۔ ہم اللہ کے سرکش بندوں کی قطار میں کھڑے ہو گئے  ۔ ہمارا اللہ سے تعلق محض دکھاوا رہ گیا  ۔ گویا جب ہم اللہ کے نہیں تو اللہ ہمارا ساتھ کیوں دے ۔ مظلوم ظالم کے سامنے گردن جھکائے خود کھڑا ہو جائے تو فطرت کیطرف سزا اسکا مقدر ہے ۔ جب انسانوں کا خوف حاوی کر لیا جائے تو اللہ کا خوف دل سے اٹھ جاتا ہے ۔ جب اللہ کا خوف دل میں ہو تو کسی انسان سے ڈر نہیں لگتا ۔ مظلوم کے دل میں سے اللہ کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور وہ ظالم کے خوف تلے جینا شروع کر دیتا ہے ۔ یہی وہ صورت ہے جو آج ہمیں درپیش ہے ۔ ہمیں اللہ کیطرف بڑھنا ہو گا ، اللہ کی سننی ہوگی ، اللہ کی ماننی ہوگی ۔ پھر نہ ظالم بچے گا اور نہ بھاگ سکے گا ۔ دعا اور بد دعا بھی اسی صورت میں سنی جائے گی ، جب طاقت کا مالک صرف اور صرف اللہ کو مان لیں گے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment