Monday, 29 January 2018

صحافی اور گپ شپ

" صحافی اور گپ شپ  "
صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جو قوموں کے بہتے دریا کو گپ شپ ہی میں الٹا چلا سکتا ہے ۔ اس کا اصل رخ بے خبر لوگوں کو اگاہ کرنا ہوتا ہے ، کہ وقت کی گنگا کس رفتار اور کس رخ پر بہہ رہی ہے ۔ صحافی لوگ اپنے پیشے کے اعتبار سے بہت معتبر لوگ ہوتے ہیں ۔ حق و صداقت کیلئے ڈٹ جانا ، انکا طرہ امتیاز ہوا کرتا ہے ۔ اس اعلی درجے کے صحافی ہوا کرتے تھے  ، اب بھی شاید اکا دکا ہونگے ۔ صحافت کے بڑے بڑے نام آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں ۔ وہ بھی ہیں جنہوں نے صحافت عبادت سمجھ کر کی اور اسکا حق بھی ادا کیا ۔ جب وہ لکھتے تھے تو ایک ایک لفظ کو  تقدس کے لحاظ سے  رکھتے تھے ، دلیل سے لکھتے تھے اور ناقابل تردید ثبوت کے ساتھ لکھتے تھے ۔ مگر آج کی صحافت گپ شپ تک محدود ہو گئی ہے یا سنسنی خیز من گھڑت داستانوں تک ۔ جو زیادہ دبنگ  صحافی ہیں وہ اپنی مرضی کا ریٹ مقرر کرتے ہیں ۔ اپنی قیمت خود لگاتے ہیں ۔ جو مسکینڑے ہیں وہ کبھی کبھی خوش فہمی میں سچ بول لیتے ہیں اور پھر کئی سال تک ایک سچ کا خمیازہ بھگتتے رہتے ہیں ۔ جب سے صحافت گپ شپ بنی ہے ، عوام کو نفسیاتی مریض کر دیا ہے ۔ سمجھ ہی نہیں آتا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ۔
کرسی پہ بیٹھا ہو اکڑی گردن والا پولیس والا ، جو اللہ سے بھی نہیں ڈرتا ، جس کو عاقبت سے بھی خوف نہیں آتا ۔ صحافی کے سامنے گردن جھکا کر چائے بھی پلاتا ہے اور اپنے لائق خدمت بھی پوچھتا ہے ۔  پہلے صحافت زرد ہوتی تھی اب سرخ ہو گئی ہے ۔ جو من میں آئے چھاپ دو ، ریٹ مل جائے تو گول مول کر دو ، نہ ملے تو مسالہ لگاتے رہو ۔ یہ ہے صحافت ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment