" آل رسول کا کیا قصور تھا "
زمانہ کتنی بھی پردہ پوشی کرے حقائق کو کوئی بھی رنگ دیا جائے ۔ اس حقیقت سے قطعی فرار ممکن نہیں کہ آل رسول سے دشمنی کی وجہ , اقتدار کی ہوس تھی ۔ خاندانی رقابت تھی اور کینہ تھا ، جسکا آغاز اسلام کے طلوع ہونے پر شروع ہو گیا تھا ۔
خاندان امیہ کے جانشین , اپنی تمام تر توانائیوں کو آل رسول کے خلاف استعمال کرنے پر عمل پیرا تھے ۔ علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کے خلاف ریشہ دوانیوں سے ہٹ کر کھلی بغاوت پر اتر آنا ، اس سوچ کی عکاس تھی . کربلا میں شہادت حسین علیہ السلام کے بعد جو بربریت , انسانی تاریخ کا بد ترین سلوک پردہ دار بیبیوں ، معصوم بچوں سے کیا گیا ۔ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ ایمان کی ایک معمولی سے رمق ان لوگوں میں باقی نہ تھی ۔ انسان کے لباس میں ان درندوں نے ، آل رسول کو تاراج کرنے میں ہر حربہ اختیار کیا ۔ اسکے بعد تسلسل سے تمام امام , جن کی علمی قابلیت مسلم تھی ، جو صرف اسلام کی تعلیم کو فروغ دینے کی سعی کرنے کو اپنی زندگی کا حاصل سمجھتے تھے ۔ اموی جانشینوں نے جینے کا حق چھین لیا ۔ اور ایک کے بعد ایک مکتبہ فکر کو پروان چڑھاتے رہے ۔ امامت کو حکومتی سرپرستی میں لے آنے کی قبیح کوشش کا نتیجہ ہے کہ آج اسلام فروعی اختلافات کا مذہب بن کر رہ گیا ۔ قران سے دوری اسی سوچ سے شروع ہوئی ، یہ تصور اسی لئے وجود میں آیا کہ قران کو سمجھنا ، ایک عام ذہن کے بس میں ہی نہیں ، اس غرض سے ان گنت مفروضوں نے جنم لیا ۔ ان گنت حوالہ جات جمع ہوئے ۔ اور یہی فقہ بن گئی ، یہی اجتہاد ہو گیا ۔ اسے ہی دین سمجھا جانے لگا ۔
صرف اور صرف آل رسول کو خارج کیا گیا ۔
سوال یہ ہے کہ آل رسول سے جو امام تھے ، ان سے آخر دشمنی کیا تھی ، کیوں تھی ۔
سوال یہ ہے کہ اسکے اثرات مثبت نکلے یا منفی ۔
ازاد ہاشمی
Saturday, 5 May 2018
آل رسول ؐ کا کیا قصور تھا؟
Friday, 4 May 2018
فوج اور سیاست
"فوج اور سیاست "
کچھ دوستوں کو بہت اچھا لگتا ہے کہ فوج پر تسلسل کے ساتھ منفی لکھا جائے ۔ اور سیاسی حکومتوں کی پذیرائی کی جائے تاکہ جمہوری عمل مضبوط ہو ۔ فوج کے منفی پہلو یہی رہے کہ ملک میں کئی بار مارشل لاء آیا اور مارشل لاء لانے والے جرنیل ، کئی کئی سال حکومت کا مزہ لیتے رہے ۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستانی معیشیت کی بد حالی اور ترقی میں اصل رکاوٹ یہی فوج ہے ۔ میں بھی مانتا ہوں کہ فوج کو اپنے پیشہ ورانہ معاملات پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔ مشرقی پاکستان میں جو سبکی ہوئی وہ کوئی شاندار فوج کی دلیل نہیں ۔ نوے ہزار فوجی اپنے ہتھیار ڈال کر جس داغ کو ماتھے پہ سجا بیٹھے ہیں ، اسکا ازالہ قیامت تک ممکن نہیں ۔ نوے ہزار فوجی اگر دشمن کا ایک ایک فوجی بھی جہنم واصل کرتے تو شاید دشمن آج تک اپنے زخم دھو رہا ہوتا ۔ مانتا ہوں کہ سرحدوں پر کمزور کنٹرول کے باعث دشمن ملک کے اندر دہشت پھیلانے میں کامیاب ہوا ۔ مانتا ہوں کہ اسامہ بن لادن کو گھر میں آکر مار دینا بھی فوج کے کنٹرول پر بہت بڑاسوال ہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ جب بھی فوجی حکومت آئی ، بہتر نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ کوئی ایک مستقل پریشانی بھی قوم کو تحفہ میں ملی ۔ ایوب خان ، سندھ طاس معاہدے میں پانی کے وسائل برباد کر گیا ، یحی خان نے ہتھیار ڈال کر بہت بڑا داغ دیا ، ضیاء الحق نے افغانی مستقل پاکستان کا حصہ بنا دئیے ، کراچی کا امن برباد کیا ۔ پرویز مشرف نے امریکہ کی مداخلت بڑھا دی ۔ ان منفی نتائج سے انکار ممکن نہیں ۔ فوج پر بہت بڑا الزام ہے کہ وہ سیاسی معاملات کو " ڈکٹیٹ " کرتے ہیں ۔ پاکستان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے فوج کی آشیرباد سے ہوتا ہے ۔ اگر ان سب باتوں کو من و عن مان لیا جائے ۔ تو بھی کچھ گنجائش باقی رہ جاتی ہے ۔ کیونکہ اسوقت جس ادارے کو بھی سول انتظامیہ کنٹرول نہیں کر پاتی ، اسکی اصلاح کیلئے فوج کو حکومت بلاتی ہے ۔ کراچی اسکا واضع ثبوت ہے ۔ فوج کو شہروں میں کس نے بلایا ؟ ایوب خان کو کس نے کمانڈر انچیف بنایا ، ضیاء کو کس نے چھلانگ لگا کر چیف بنایا ، پرویز مشرف کو بھی میرٹ کراس کس نے کرایا ۔ یہ سول حکمران ہی تھے جو میرٹ کی دھجیاں اڑاتے رہے ۔ کوئی سیاسی حکمران ، بھٹو کے سوا ، جو اقتدار پر قابلیت کیوجہ سے آیا ہو ؟۔ حعلی ووٹنگ میں افسران کو کون ملوث کرتا ہے ۔ آج تک کتنے حکمران صحیح اکثریت آئے ، جنہوں نے گپلہ نہ کیا ہو ۔ آجکل جسے خلائی مخلوق کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ انتخابات فوج کی مرضی سے ہوتے ہیں ، جو پارٹی حکومت بناتی ہے اسے فوج مدد کرتی ہے ۔ جمہوریت کے نام پر اس فراڈ کا ذمہ دار کون ؟ یقینی وہ لوگ ، جو فوج سے مدد طلب کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے جب فوج سے مدد لیکر اقتدار میں آو گے تو بدلے میں کچھ تو دینا پڑتا ہو گا ۔ پھر ان جرنیلوں کو کچھ تو غیر اصولی دیا جاتا ہو گا ۔ یہ اصل خوف ہے جو سیاست کی جڑیں کھوکھلی کر چکا ہے ۔ اور جس وجہ سے خلائی مخلوق انتخابات پر آ جاتی ہے ۔ جب خلائی مخلوق کو عادت ڈالی تھی اسوقت کیوں خیال نہیں آیا ۔ جب خلائی مخلوق کی جھولی میں بیٹھ کر دوسروں کی حق تلفی کی جاتی ہے تو اس میں سیاستدان ہی اصل محرک ہوتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٦ مئی ٢٠١٨
اہم ترین سوال۔
"اہم ترین سوال"
کسی نے سوشل میڈیا پہ سوال پوچھا ہے ۔
"کیا میاں نواز شریف، عمران خان یا بلاول کی محبت آخرت میں ہمارے کسی کام آئے گی؟؟؟ "
پوچھنے والے کے ذہن میں ایک طنز بھی ہو سکتی ہے اور سنجیدگی بھی ۔ پڑھنے والے اسے فضول سوال بھی کہیں گے اور کچھ اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ بھی کریں گے ۔ یہ سب ایک سوچ کا محور ہوتا ہے ، جدھر گھوم جائے ۔ مگر حقیقت کے قریب سوال کو اپنے ایمان کے ترازو پر تولا جائے تو سوال محض ظرافت نہیں بلکہ لمحہ فکر ہے ۔ ہم نے سیاست اور شخصیت پرستی کی حد کر دی ہے ۔ برائی کی تقلید کبھی فلاح کیطرف نہیں جاتی ۔ اکثریت نے سیاسی لوگوں کو اپنا رہبر و ہادی مان لیا ہے ۔ جبکہ یہ تمام سیاسی لوگ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونا چاہتے ہیں ۔ اور اقتدار کی ہوس کوئی قابل قدر خصلت نہیں ۔ وہ شخص جو خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہے ، اور سمجھتا ہے کہ اقتدار پر براجمان ہونا اسکا حق ہے ، کسی قدر خود پرستی کا مریض ہے ۔ خدمت کا جذبہ الگ عمل اور الگ سوچ ہے ۔ یہی خود پرستی وہ برائی ہے, جس نے اسلام کے نظام کو بہت بری زک پہنچائی ہے ۔ اسی خود پرستی نے مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا ۔ نواز شریف ، عمران خان ، سراج الحق ، مولانا فضل الرحمن ، بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی لوگ ایک ہی گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم سے جو سوال کیا جائے گا ، یہی پوچھا جائے گا کہ کیا ہم اللہ پر ایمان لائے ؟ اگر لایا تو ہم نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ؟ ہم نے وہ سنا جو رسولؐ نے کہا اگر سنا تو کیا اطاعت کی ؟ ہم تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان سیاسی لیڈروں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ناچو تو ہم ناچنے لگتے ہیں ۔ وہ کہتے کہ دوسروں کی پگڑیاں اچھالو تو ہم اچھالتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری تقدیر بدل دیں گے تو ہم یقین کرتے ہیں ۔ ہم نےاپنے فرائض چھوڑ کر انکے جلسے کامیاب کرانے کا قصد کر لیا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٥ مئی ٢٠١٨
Thursday, 3 May 2018
منسوب روایات
" منسوب روایات "
ہمارا المیہ ہے کہ جس کا جو دل چاہتا ہے , کسی نہ کسی مسلمان مفکر کے نام سے منسوب کر کے کچھ بھی لکھ ڈالتا ہے . اس رحجان نے حقائق اور جھوٹ کے درمیان فرق ختم کر دیا ہے . بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی بلکہ بے شمار کتب انہی بے سروپا حوالوں سے بھری پڑی ہیں .
احادیث کے حوالوں سے بھی یہی صورت حال بنا دی گئی کہ تمام مسالک کے پاس اپنے مسلک کی ترویج کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں . اور ان ثبوتوں پر بے شمار کتب لکھ ڈالیں . ایسا بندوبست کر دیا کہ اب کسی بھی شعور اور عقل سے متصادم ثبوت کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا .
یہ سب کیوں ہوا , اسکے پیچھے کیا محرکات تھے , یہ جسارت کرنے والے علماء تھے یا کسی کی ایماء پر کرنے والے دین دشمن . کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا .
البتہ ایک بات واضع ہے کہ اس سے مسلمان گروہوں میں بٹ گئے , تفریق کی ایسی دیواریں کھڑی ہو گئیں , جن کو اب گرانا ممکنات میں سے نہیں .
ہر کوئی اپنے مکتبہ فکر کی پوجا میں لگا ہے . تحقیق کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی , کہ جانا جائے کیا غلط ہے اور کیا صحیح . حد تو یہ ہے کہ قران کو تعظیم کے غلاف میں بند کر کے اوطاق میں سجا دیا اور اختلافی کتب کی تعلیم کو ایمان کا درجہ دے ڈالا . اللہ کی کتاب سے زیادہ حضرت , علامہ , محقق , مفسر , محدث کی تحریریں اہم بن کر رہ گئیں .
سوشل میڈیا پہ تو کمال ہو گئی ہے کہ جس کا جو دل چاہتا ہے کسی بھی نام سے منسوب کر کے لکھ ڈالتا ہے . اب تو کئی علماء ایسے ایسے لیکچر دیتے ہیں , ایسی ایسی روایات دھراتے ہیں کہ الامان . سمجھ نہیں آتا کہ کس حوالے سے کہانی گڑھ لی گئی ہے . عقل و فہم سے بالاتر باتیں , دیگر مذاہب کو ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ ہم مسلمان توہمات کا شکار امت ہیں . ہم قدیم زمانے کے پسماندہ ذہن رکھنے والے لوگ ہیں . جبکہ قران ان علوم کا منبع ہے , جن کی ضرورت انسان کو قیامت تک رہے گی . حکم ربی ہے کہ قران کو فکر کے ساتھ پڑھو , یہ آسان ہے , واضع ہے , مدلل ہے اور عام فہم ہے . مگر ہمارے سامنے کیا رکھا گیا , کس نے رکھا , کیوں رکھا . انہی لوگوں نے جو من گھڑت روایات کو فروغ دینا چاہتے تھے . جو فروقوں کی ترویج کرنے میں مستعد تھے . جو امت کو پارہ پارہ کرنے کے درپے تھے . جو اللہ کے حکم کو " اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ بندی نہ کرو " اپنی سوچ کے تابع کرنے پر مصر تھے . ان منسوب روایات کو پورے انہماک سے پرکھنے کی ضرورت ہے . تا کہ امت کا اتحاد بن سکے .
ازاد ھاشمی
4 مئی 2017
پانی کس نے بیچا
" پانی کس نے بیچا "
ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں قوم کو اگاہ کیا تھا کہ ہمارے رہنماوں نے وطن کا پانی بھی بیچ دیا ہے ، دریا بھی سوکھ گئے ہیں ۔ دس لاکھ ٹیوب ویل چلائے جا رہے ہیں تاکہ زراعت قائم رہ سکے ۔ ان ٹیوب ویل سے بجلی اور پٹرول کا بھی ضیاع ہے اور کسان بھی کچھ حاصل نہیں کرتا ۔ ہمارے سیاستدانوں کو اسکا کوئی حل منشور کا حصہ بنانا چاہئیے ۔ کچھ دوستوں نے پوچھا کہ کھل کر بتائیں کہ کس حکمران کے وقت یہ ہوا ۔ کچھ نے کہا کہ منافقت ہو گی اگر اسے ظاہر نہ کیا گیا ۔
یہ آغاز سندھ طاس معاہدے سے ہوا جو ایوب خان کے وقت کیا گیا ۔(
اگر میری معلومات درست ہیں )
مگر یہ ابتداء تھی حماقت کی ۔بھارت نے معاہدے کے متن سے ہٹ کر پانی تقسیم کرنے کی بجائے اس پر ڈیم بنانے شروع کر دئیے اور پورے پانی پر قبضہ جما دیا ۔ یہ ایک اہم ایشو تھا جس پر آنے والی تمام حکومتیں مصلحتوں کا شکار رہیں ۔ بیشمار سیکرٹری لیول پر اجلاس ہوئے مگر ہمارے لوگ پیسے لیکر معاملے کو التوا کا شکار کرتے رہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت نے ڈیم مکمل کر لئے ۔ ہماری بے حسی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کوئی ملک پانی کے ذرائع کو مکمل روکنے کا حق نہیں رکھتا ۔ ہماری خارجہ ترجیہات میں کشمیر کے مسئلے کے سوا کبھی کوئی دوسرا مسلہ نہیں رہا ۔ وہ بھی ہم آج تک منوانے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔
جو لوگ پوچھتے ہیں کہ پانی بیچنے کا اصل ذمہ دار کون ہے تو میری ذاتی رائے کے مطابق تمام حکمران جو اس مسئلے پر خاموش رہے ، تمام اسمبلی کے ممبران جو آج تک اسمبلیوں میں آئے اور اس پر نہ کبھی سوال کیا ، نہ کوئی بل لائے اور نہ کوئی قانون بنایا ۔
میری نظر میں وہ تمام لوگ اس جرم میں شامل ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ یہ سانحہ ملکی معیشت پر کاری ضرب ہے اور خاموش ہیں ۔
جو یہ کر کے چلے گئے اب ان پر چیخنا یا شور مچانا بے سود ہے ۔ سانپ جانے کے بعد رسی پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ جو آ رہے ہیں انکو اس پر لازمی متحرک ہونا ہو گا ۔ کیونکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق بھارت پانی کو روکنے کا حق نہیں رکھتا ۔ پانی کو تقسیم کر سکتا ہے کیونکہ اسکی حدود میں بھی آتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ مئی ٢٠١٨
Wednesday, 2 May 2018
اللہ اور انسان کا قانون
" اللہ اور انسان کا قانون "
انسان کا شعور اللہ سبحانہ تعالی کا احسان عظیم ہے ۔ یہی شعور ہے جس سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا ۔ یہی شعور ہے جس نے انسان کو فرشتوں پر برتری دلا دی ۔ شعور ملنے کے بعد انسان با اختیار ہو گیا کہ برائی کیطرف رخ کر کے پستی میں چلا جائے ، یا ہدایت کو اپنا کر عروج پا لے ۔ انسان کے سامنے دوزخ کی آگ بھی رکھ دی اور جنت کے میوے بھی ۔ دنیا کی چکا چوند بھی سجا ڈالی اور آخرت کے امتحانات بھی ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں شعور کا امتحان ہوتا ہے ۔ دیکھا جاتا ہے کہ اخروی زندگی کیطرف کو کون ترجیح دیتا ہے اور اس عارضی زندگی پر کون قربان ہوتا ہے ۔ شیطان کو کھلی اجازت مل گئی کہ جس کو چاہو اپنا بنا لو ۔ اور اعلان بھی فرما دیا کہ جو میرے ہونگے وہ کسی شیطانی بہکاوے میں نہیں آئیں گے ۔ اپنے دستور کو بھی بھیج دیا اور انسان کو اپنا دستور بنانے کا حق بھی دے دیا ۔
اللہ نے اپنے دستور میں انسان کی فلاح کی ساری راہیں کھول کھول کر بیان کر دیں ۔ دستور کی تشریح کیلئے رسول بھی بھیجے ۔
مگر انسان کی فطرت میں جلد بازی نے اسے اس انتظار سے دور کردیا کہ کون آخرت کی بھلائی دیکھے ۔ جو لطف یہاں ملتا ہے اس کے مزے اٹھا لو ۔ جہاں ایک سانس بھی اپنا نہیں تھا وہاں بڑے بڑے محل بنانے لگ گیا اور جہاں مستقل قیام کرنا تھا وہاں ایک سائے کی کوشش نہیں کی ۔ جو دوسروں کا تھا وہ جمع کرتا رہا ، جو اپنا زاد سفر تھا اسکی فکر نہیں کی ۔
کبھی غور کریں تو انسان نے اپنے لئے جو بھی قانون بنایا وہی قانون اپنے ہی گلے کا پھندا بن گیا ۔ اللہ کے قانون کو جبر کا دستور کہنے والوں نے اپنا قانون بنایا اور اسی کے ہاتھوں گلے میں پھندا پڑ گیا ۔ اپنا بنایا ہوا قانون ، تب کالا قانون لگنے لگا ۔
شعور کے منفی استعمال اور مثبت استعمال میں واضع فرق تھا ۔ مثبت استعمال تھا کہ جو اللہ کہتا مان لیتے ۔ منفی استعمال تھا کہ جو راہ شیطان دکھاتا اس پر چل پڑتے ۔ آج سارے فساد شیطان کی راہ پر چلنے کے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ اپریل ٢٠١٨
انصاف کرنے والے بنو
" انصاف قائم کرنے والے بنو "
کتاب مبین میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
" اے ایمان والو! انصاف قائم کرنےوالے ، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے بنو ۔ چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو ، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ۔ وہ شخص ( جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہو ) امیر یا غریب ، اللہ دونوں کا خیر خواہ ہے ۔ لہذا اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرنا جو تمہیں انصاف کرنے سے روکتی ہو ۔ اگر تم تروڑ مروڑ کرو گے یا پہلو بچاو گے تو اللہ تمہارے کاموں سے با خبر ہے ۔ سورہ نساء ١٣٥ "
قرآن پاک کے احکامات کا واضع فلسفہ برائی کا خاتمہ ہے ۔ کیونکہ اللہ اپنی مخلوق کی بھلائی چاہتا ہے ۔ یہ شیطان ہے جو انسان کو طرح طرح کی الجھنوں میں دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس آیت کریمہ میں واضع حکم ہے کہ تم تمام ایمان والے انصاف کرنے والے بنو ۔ انصاف ، برائی اور اچھائی کو الگ الگ کرنے کا نام ہے ۔ اس میں اگر ایک تلچھٹ کی بھی آمیزش باقی رہ جائے گی تو انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہو گا ۔ سزا اور جزا اسکے بعد کا عمل ہے ۔ انصاف چونکہ معاشرتی خوشحالی ، امن اور بھلائی کی ضمانت ہوتا ہے ۔ اسلئے اللہ نے واضع حکم صادر فرمایا کہ تم اہل ایمان ، گواہی دیتے وقت کسی رشتہ داری ، ذاتی مفادات ، تعلق اور مصلحت کا شکار ہوئے بغیر گواہی دیا کرو تاکہ انصاف کا عمل ضرورت کے تقاضے پورے کر سکے ۔ یہ گواہی اگر تمہاری اپنی ذات کے خلاف بھی ہو تو دریغ مت کرنا ۔ تمہارے والدین کے خلاف جائے تو بھی حق کے ساتھ گواہی دینا ۔ امیر غریب کا تفاوت بھی مت رکھنا ۔ ساتھ ہی تنبیہہ بھی فرما دی ۔ یہ مت سوچنا کہ تمہیں کوئی دیکھ نہیں رہا ۔ اگر تروڑ مروڑ کرو گے ، یا تکنیکی گواہی دو گے تو اللہ تمام صورت حال سے با خبر ہے ۔
اللہ کے کسی بھی حکم سے انکار یا فرار کفر ہوتا ہے ۔ اسلئے ہمیں ذہن میں رکھنا چاہئیے کی گواہی میں جھول اللہ کے حکم کی سرتابی ہے ۔
دین سے اگاہی کے انحطاط نے ہمیں کفر کے کنارے لا کھڑا کیا ہے ۔ برائی کو چھپانے کو نظریہ ضرورت کا نام دیا جاتا ہے ۔ برائی پہ خاموش رہنے کو مصلحت کہا جاتا ہے ۔ کسی کے جرم کو اس لئے قبول کر لیا جائے کہ اس نے کبھی ایک نیکی کی تھی ۔یہ انصاف بھی نہیں اور اس گواہی کا انکار بھی ہے ، جسکی قران میں وضاحت فرمائی گئی ۔ قرآن کے احکامات کو واضع نہ کیا گیا تو برائی بڑھتی رہے گی ۔ ہم سب کا فرض ہے کہ قرآن کو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ اپریل ٢٠١٨
اسمبلی ممبران کی حدود کا تعین
" اسمبلی ممبران کی حدود کا تعین "
اسمبلی میں جو لوگ پہنچتے ہیں ، انکا اصل کام یہ ہے کہ قانون سازی کریں تاکہ ابہام سے پاک معاشرہ جنم لے ۔ مگر جتنا ابہام اس اسمبلی کی کارکردگی سے پیدا ہوا ہے ۔ جتنی کرپشن ان لوگوں کے توسط سے پھیلی ہے ، وہ عام حالات سے کبھی نہ پھیلتی ۔ اداروں میں اقرباء پروری سے جو ماحول پیدا ہوا ہے کہ تمام ادارے غیر فعال ہو گئے ہیں ۔ اب مراعات کی مد میں جو لوٹ کھسوٹ ہو رہی ہے اور جو ہونے جا رہی ہے ، وہ رہی سہی معیشت کو بھی تباہی کے دھانے تک پہنچا دے گی ۔ ان سے پوچھا جائے کہ
١- آپ لوگ پاکستان کے کس قانون کے تحت پینشن کا حق رکھتے ہیں ، جبکہ آپ پاکستان کے قانون ملازمت کے تحت ملازم ہی نہیں ہے ۔
٢- آپ جو تنخواہ وصول کرتے ہیں ، وہ پاکستان کے کس گریڈ کے مطابق لیتے ہیں ۔ جبکہ قابلیت کے اعتبار سے شاید چند ممبران کے پندرہ گریڈ سے زیادہ کسی کی اہلیت ہی نہیں ۔ کیا یہ ملک کی خدمت ہے یا دھوکہ ؟ اور اس دھوکے میں چور اور سادھ سب ایک ساتھ ہیں ۔ اس میں کوئی حب الوطنی نہیں بلکہ حب الشکم ہے ۔
٣ ۔ایک اسمبلی ممبر بھی ویسا ہی گوشت پوست کا انسان ہے ، جیسا دوسرا شہری ۔ پھر ان ممبران کو حکومت کی طرف سے علاج معالجے کی خصوصی سہولتیں کس ضابطے کے تحت دی جاتی ہیں ۔ اگر ملک اندر علاج معالجے کا معیار درست نہیں تو ان قانون سازوں نے اس پر تحریک کیوں نہیں چلائی ۔ اگر معیار درست ہے تو پھر یہ علاج کے نام پر ملک کی دولت باہر کیوں لٹاتے ہیں ۔
٤ ۔ انتخابات پر اٹھنے والے اخراجات کے بعد اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کوئی ممبر اسمبلی طے شدہ طریقے کے مطابق اسمبلی میں نہیں آیا تو ملک کا ضائع کردہ سرمایہ اس پر تاوان ہونا چاہئیے ۔ اس نے ملک سے دھوکہ کیا اسکی سزا انتہائی سنگین ہونا لازم ہے ۔ نا اہل قرار دے دینا قرین انصاف نہیں ہے ۔
٥ ۔ ہر ممبر اسمبلی اسی ملک کا عام شہری ہے ، قانون کا اطلاق مساوی ہونا چاہئیے ، اسے کوئی بھی استثناء دینا ملک کے مفادات اور معاشرتی آداب کے منافی ہے ۔ بلکہ اپنے عہدے کے اعتبار سے ممبر اسمبلی کی سزا عام شہری سے زیادہ ہونا چاہئیے ، کیونکہ اس نے دہرا جرم کیا ہے ۔
٦ ۔ جب ایک شخص وہ تمام مراعات حاصل کر رہا ہے ، جو اسکا حق نہیں اور دوسرے کسی شہری کو حاصل نہیں تو پھر پیٹرول ، آمدورفت ، بجلی ، پانی اور دیگر بلز میں رعایت کیوں دی جائے ۔ جو کہ تمام ممبران لے رہے ہیں ۔
٧ ۔ ناقابل فہم ہے کہ ہر ملازم کی عمر کا ایک تعین ہے ، تعلیم کا ایک معیار ہے ، پیشہ ورانہ تجربہ کی قید ہے اور ایک ضابطہ کے تحت اسے خدمت کا موقع دیا جاتا ہے ۔ قانون سازی اور وہ بھی ایک ریاست کیلئے ، نہ تعلیم کا معیار ہے ، نہ تجربہ ، نہ پیشہ ورانہ قابلیت ۔ جس کا دل چاہے حرام ، حلال کی دولت خرچ کرے اور ملک کو لوٹتا رہے ۔
قوم کو ہوش کرنا ہوگی۔ کیونکہ سب کے سب چور ہیں ۔ اور سب کے ان مراعات پر ایک ہیں ۔ نہ قوم کی فکر ہے اور نہ وطن سے لگاو ہے ۔
آزاد ھاشمی
منشور اور جھوٹ
" منشور اور جھوٹ "
سیاسی کھلاڑیوں نے جھوٹ بولنا شروع کر دیا اور احمق لوگوں نے اعتبار کرنا ۔ ہم نے کلمہ پڑھ کر یہ اعلان کر رکھا ہے کہ ہم مسلمان ہیں ، خالق کائنات کو حاکم مطلق مانتے ہیں ۔ اقتدار کا مالک وہی ہے ، پھر اسکے قانون ، اسکے منشور اور اسکے دستور سے بغاوت کیسی ۔ اس نے قرآن بھیج دیا ، پھر ہم کونسا منشور تلاش کر رہے ہیں ۔ اس نے اپنے حبیبؐ کو بھیج دیا کہ عملی رہنمائی فرمائیں ۔ پھر کسی اور رہنمائی کی کیا ضرورت آن پڑی ۔ آپ چاہتے ہو کہ اللہ آپ کو پاکستان کی عوام کی خدمت کیلئے منتخب فرما لے ۔ آپ چاہتے ہو کہ ہر شہری کو اسکے حق کے مطابق حقوق ملیں ۔ بہت اچھا خیال ہے ۔ اسکی قبولیت بھی مل سکتی ہے ۔ مگر آپ تو کسی ایک ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بھی اسی حاکم مطلق کے سامنے مجبور ہو ۔ پھر یہ دعوے کیسے ؟؟ کہ میں حکمران بنا تو یہ کر دوں گا ، وہ کر دوں گا ۔ بھٹو نے بھی بہت وعدے کئے تھے ۔ نواز شریف نے بھی کشکول توڑا تھا ۔ ہر سیاستدان دعوے کرتا ہے ۔ مگر کبھی پورا نہیں کر پاتا ۔ صرف اسلئے کہ اللہ کی تائید حاصل ہوئے بغیر کچھ نہیں ہوتا ۔ عوام کو بھی اسی چیز کی سزا ملتی ہے ،کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر ایک انسان کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں ۔ وہ انسان جو اقتدار کا حلف اٹھاتے ہی دوسرے سفر پہ روانہ بھی ہو سکتا ہے ۔ جس کے پاس ایک سانس بھی اپنا نہیں ، اسکی باتوں پر یقین کیسا ۔ بھٹو کی طاقت دیکھ لی ، کہ اکیلا پھانسی کی کوٹھڑی میں پڑا رہا ۔ نہ کوئی ساتھی نہ مدد گار ۔
مسلمانوں کا منشور تو نہایت آسان اور سیدھا سا ہے ۔
" اللہ کا نظام "
پھر یہ جھمیلے کس لئے ؟ یہ دس ، گیارہ ، بارہ اور بیس نکات کس لئے ؟
جو شخص اور جو قوم اللہ سے جھوٹ بولے گی ، اسکے مسائل کیسے حل ہونگے ۔ اللہ پر یقین ہوتا تو اللہ کے نظام کی بات کرتے ۔ ایک نکتے کا منشور مانگو ، اگر اپنی فلاح چاہتے ہو ۔ وگرنہ وہی ہوگا ، پانچ سال بعد " کتے اور چور کی گردان شروع ہو جائے گی ۔ جو ایک نکتے کے منشور کی بات کرے ، اسکی سنو ۔ وگرنہ تمہارا ووٹ اللہ کی امانت ہے ۔ اللہ سے سرکشی کرو گے تو یہی مسائل ہونگے اور یہی ابتری ۔ اللہ کے منشور کے علاوہ کسی کو بھی ووٹ دینا ، کبھی سود مند نہ ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
عمران خان کے نام
" عمران خان کے نام "
اللہ آپ کے نیک ارادے پورے فرمائے ۔ خیال رکھیں کہ دنیا میں جب کسی سیاستدان کو زوال آیا ہے تو اسکے حواریوں کی بے جا خوشامد کی وجہ سے ۔ مفاد پرست لوگ عام طور پر خوشامدی ہوتے ہیں اور ہر احمق لیڈر کو وہی لوگ سب سے زیادہ اچھے لگتے ہیں ۔ آپ کے گرد ایسے لوگوں کا گھیرا بہت مضبوط اور بہت تنگ ہو گیا ہے ۔ مجال کوئی آپ کی کسی حماقت پر بھی تنقید کر سکے ۔ یہ اچھا شگون نہیں ہے ۔ یہ آپ کو لے ڈوبے گا ۔ بےحد اکڑ ویسے بھی آپ کے مزاج کا حصہ ہے ۔ جس سے آپ چھٹکارا نہیں پا سکے ۔ خیر ! آپ نے اپنے منشور کے گیارہ نکات بیان کئے ۔ جو کچھ یوں ہیں ۔
١۔ ایک تعلیمی نصاب
٢۔ صحت کاخیال
٣ ۔ ٹیکس سسٹم کی بہتری
٤ ۔ کرپشن پرقابو
٥ ۔ انویسٹمنٹ لانے کا وعدہ
٦ ۔ بےروزگاری کا خاتمہ
٧ ۔ نظامِ حکومت اور گورننس کی درستگی
٨ ۔ زرعی ایمرجنسی کا نفاذ
٩ ۔ ایک جیسا بلدیاتی نظام
١٠ ۔ پولیس نظام میں اصلاحات
١١ ۔ خواتین کو تعلیم، قانونی تحفظ، جائیداد میں حق ۔
یہ ہیں وہ گیارہ نکات ، جو آپ کا منشور ہے ۔ حالانکہ یہ سارے کام ایک حکومت کے عمومی کام ہوتے ہیں ۔ آپکی پارٹی کے دانشوروں نے قوم سے مذاق کو بھی آسمان پر بٹھا دیا ہے ۔ باور رہے کہ ایسے مذاق سنتے سنتے میرے جیسے کتنے لوگ بوڑھے ہوگئے ۔ ان تمام نکات میں کوئی بھی انقلابی پیغام نہیں ہے ۔ بھٹو نے روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا ، کیا کرایا کچھ نہیں مگر آج بھی زندہ ہے ۔ نواز شریف نے کشکول توڑنے کی بات کی اور پھر سڑک پر چادر بچھا کےمانگنے لگا ، آج بھی " شیر " کہلا رہا ہے ۔ جماعت اسلامی نے اسلام کے نظام کی بات کی ، گو کندھے پر جمہوریت کی سیڑھی اٹھائے بیٹھے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ آپ نے تو قوم سے ایسا مذاق کیا ہے کہ میرے پاس کوئی پیغام نہیں ۔ یہی کچھ ہے میری پٹاری میں ۔
کہنا یہ ہے کہ جو اس پر بھی آپ کی واہ واہ کر رہے ہیں ، سب کے سب آپ کی ٹانگ کھینچنے والے ہونگے ۔ ہوش سے کام لیں ، اور منشور پر نظر ثانی کریں ۔ یہ کوئی قابل تعریف منشور نہیں ۔ اگر قوم کو شعور آگیا تو آپ بہت بری شکست سے دوچار ہونگے ۔ یہ تمام نکات ایک مقتدر پارٹی کی ڈیوٹی ہے اور اس سے کوئی ترقی اور تبدیلی نظر نہیں آ رہی ۔
آزاد ھاشمی