Wednesday, 2 May 2018

منشور اور جھوٹ

" منشور اور جھوٹ "
سیاسی کھلاڑیوں نے جھوٹ بولنا شروع کر دیا اور احمق لوگوں نے اعتبار کرنا ۔ ہم نے کلمہ پڑھ کر یہ اعلان کر رکھا ہے کہ ہم مسلمان ہیں ، خالق کائنات کو حاکم مطلق مانتے ہیں ۔ اقتدار کا مالک وہی ہے ، پھر اسکے قانون ، اسکے منشور اور اسکے دستور سے بغاوت کیسی ۔ اس نے قرآن بھیج دیا ، پھر ہم کونسا منشور تلاش کر رہے ہیں ۔ اس نے اپنے حبیبؐ کو بھیج دیا کہ عملی رہنمائی فرمائیں ۔ پھر کسی اور رہنمائی کی کیا ضرورت آن پڑی ۔ آپ چاہتے ہو کہ اللہ آپ کو پاکستان کی عوام کی خدمت کیلئے منتخب فرما لے ۔ آپ چاہتے ہو کہ ہر شہری کو اسکے حق کے مطابق حقوق ملیں ۔ بہت اچھا خیال ہے ۔ اسکی قبولیت بھی مل سکتی ہے ۔ مگر آپ تو کسی ایک ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بھی اسی حاکم مطلق کے سامنے مجبور ہو ۔ پھر یہ دعوے کیسے ؟؟ کہ میں حکمران بنا تو یہ کر دوں گا ، وہ کر دوں گا ۔ بھٹو نے بھی بہت وعدے کئے تھے ۔ نواز شریف نے بھی کشکول توڑا تھا ۔ ہر سیاستدان دعوے کرتا ہے ۔ مگر کبھی پورا نہیں کر پاتا ۔ صرف اسلئے کہ اللہ کی تائید حاصل ہوئے بغیر کچھ نہیں ہوتا ۔ عوام کو بھی اسی چیز کی سزا ملتی ہے ،کہ  وہ اللہ کو چھوڑ کر ایک انسان کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں ۔ وہ انسان جو اقتدار کا حلف اٹھاتے ہی دوسرے سفر پہ روانہ بھی ہو سکتا ہے ۔ جس کے پاس ایک سانس بھی اپنا نہیں ، اسکی باتوں پر یقین کیسا ۔ بھٹو کی طاقت دیکھ لی ، کہ اکیلا پھانسی کی کوٹھڑی میں پڑا رہا ۔ نہ کوئی ساتھی نہ مدد گار ۔
مسلمانوں کا منشور تو نہایت آسان اور سیدھا سا ہے ۔
" اللہ کا نظام "
پھر یہ جھمیلے کس لئے ؟ یہ دس ، گیارہ ، بارہ اور بیس نکات کس لئے ؟
جو شخص اور جو قوم اللہ سے جھوٹ بولے گی ، اسکے مسائل کیسے حل ہونگے ۔ اللہ پر یقین ہوتا تو اللہ کے نظام کی بات کرتے ۔ ایک نکتے کا منشور مانگو ، اگر اپنی فلاح چاہتے ہو ۔ وگرنہ وہی ہوگا ، پانچ سال بعد " کتے اور چور کی گردان شروع ہو جائے گی ۔ جو ایک نکتے کے منشور کی بات کرے ، اسکی سنو ۔ وگرنہ تمہارا ووٹ اللہ کی امانت ہے ۔ اللہ سے سرکشی کرو گے تو یہی مسائل ہونگے اور یہی ابتری ۔ اللہ کے منشور کے علاوہ کسی کو  بھی ووٹ دینا ، کبھی سود مند نہ ہو گا ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment