" اللہ اور انسان کا قانون "
انسان کا شعور اللہ سبحانہ تعالی کا احسان عظیم ہے ۔ یہی شعور ہے جس سے انسان اشرف المخلوقات کہلایا ۔ یہی شعور ہے جس نے انسان کو فرشتوں پر برتری دلا دی ۔ شعور ملنے کے بعد انسان با اختیار ہو گیا کہ برائی کیطرف رخ کر کے پستی میں چلا جائے ، یا ہدایت کو اپنا کر عروج پا لے ۔ انسان کے سامنے دوزخ کی آگ بھی رکھ دی اور جنت کے میوے بھی ۔ دنیا کی چکا چوند بھی سجا ڈالی اور آخرت کے امتحانات بھی ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں شعور کا امتحان ہوتا ہے ۔ دیکھا جاتا ہے کہ اخروی زندگی کیطرف کو کون ترجیح دیتا ہے اور اس عارضی زندگی پر کون قربان ہوتا ہے ۔ شیطان کو کھلی اجازت مل گئی کہ جس کو چاہو اپنا بنا لو ۔ اور اعلان بھی فرما دیا کہ جو میرے ہونگے وہ کسی شیطانی بہکاوے میں نہیں آئیں گے ۔ اپنے دستور کو بھی بھیج دیا اور انسان کو اپنا دستور بنانے کا حق بھی دے دیا ۔
اللہ نے اپنے دستور میں انسان کی فلاح کی ساری راہیں کھول کھول کر بیان کر دیں ۔ دستور کی تشریح کیلئے رسول بھی بھیجے ۔
مگر انسان کی فطرت میں جلد بازی نے اسے اس انتظار سے دور کردیا کہ کون آخرت کی بھلائی دیکھے ۔ جو لطف یہاں ملتا ہے اس کے مزے اٹھا لو ۔ جہاں ایک سانس بھی اپنا نہیں تھا وہاں بڑے بڑے محل بنانے لگ گیا اور جہاں مستقل قیام کرنا تھا وہاں ایک سائے کی کوشش نہیں کی ۔ جو دوسروں کا تھا وہ جمع کرتا رہا ، جو اپنا زاد سفر تھا اسکی فکر نہیں کی ۔
کبھی غور کریں تو انسان نے اپنے لئے جو بھی قانون بنایا وہی قانون اپنے ہی گلے کا پھندا بن گیا ۔ اللہ کے قانون کو جبر کا دستور کہنے والوں نے اپنا قانون بنایا اور اسی کے ہاتھوں گلے میں پھندا پڑ گیا ۔ اپنا بنایا ہوا قانون ، تب کالا قانون لگنے لگا ۔
شعور کے منفی استعمال اور مثبت استعمال میں واضع فرق تھا ۔ مثبت استعمال تھا کہ جو اللہ کہتا مان لیتے ۔ منفی استعمال تھا کہ جو راہ شیطان دکھاتا اس پر چل پڑتے ۔ آج سارے فساد شیطان کی راہ پر چلنے کے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ اپریل ٢٠١٨
Wednesday, 2 May 2018
اللہ اور انسان کا قانون
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment