" غدار یا ہیرو "
ہم مسلمانوں کی سوچ کا بھی عجب تماشا ہے . جسے کفر کا میڈیا اور اسکے حواری آشیر باد دے دیں , اسے ہم ہیرو بنا ڈالتے ہیں . اپنے بچوں کے نام تک ان ہیروز کے نام پہ رکھ دیتے ہیں . یہ ہیروز مسیحا بھی لگتے ہیں اور مسلمانوں کے نجات دھندہ بھی . مسلم میڈیا انہیں سر آنکھوں پر بٹھا لیتا ہے . کالم نگار لمبے لمبے کالم لکھتے نہیں تھکتے , دانشور ایسے ایسے قصے منسوب کر دیتے ہیں کہ سننے والا گرویدہ ہو جاتا ہے . اس سلسلے کی کڑیاں بڑے بڑے رہنماوں سے ملتی ہیں .
پھر دیکھتے ہی دیکھتے , یورپ کے اخبارات , کہانیوں کا رخ موڑنے لگ جاتے ہیں . کچھ ہی عرصے میں الٹی ہوا چلنے لگتی ہے اور پھر ہم مسلمان ہراول دستوں میں شامل ہو کر ان لیڈرز کو امت کے غدار , کفر کے ایجنٹ , سازشی اور مسلمانوں کے اولین دشمن بنا ڈالتے ہیں .
جو عبرت ناک انجام ان ہیروز کا ہوا , جن لوگوں کے ہاتھوں ہوا , وہ اپنے ہم وطن , کلمہ گو , ایک رسول کی امت , ایک کتاب کے ماننے والے تھے . ان کی پشت پر کون تھا . اس سب سے ہر کوئی اگاہ ہے . مگر یہ تسلسل ابھی جاری ہے . ہم اپنے آج کے ہیروز کو کل پھر معتوب کریں گے . کس لئے , کس کے کہنے پر , کس کی رضا حاصل کرنے خاطر . میں بھی جانتا ہوں , ہمارا میڈیا بھی اور ہمارے دانشور بھی جانتے ہیں .
جب کوئی قوم بے حس ہو جائے تو یہ سب معمول بن جاتا ہے . شو کیس میں سجی ہوئی شے بکتی ہے اور ہمارا میڈیا , دانشور , میں اور آپ سب شو کیس میں سجے بیٹھے ہیں . کسی خریدار کے انتظار میں . اسلئے ہمارا کوئی بھی ہیرو , کسی بھی وقت غدار بنایا جا سکتا ہے .
کیونکہ ہم عادی ہو چکے ہیں , دوسری قوموں کی پرستش کے . انکے لوگوں کی خامیاں بھی خوبیاں لگتی ہیں اور اپنی خوبیاں بھی خامیاں نظر آتی ہیں . اللہ نے ہم سے وہ نظر ہی چھین لی ہے , جس سے پہچان کی جاسکتی ہے .
ازاد ہاشمی
3 مئی 2017
Wednesday, 2 May 2018
غدار یا ہیرو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment