"بے شرم لوگ "
جب سیاست کے کھلاڑیوں کی جامہ تلاشی ہونے لگی ، تو ہر کوئی خوش تھا ۔ ہر انتخاب پہ سیاسی لوگ مخالفین پر چوری چکاری اور ملک کے اثاثے دوسرے ممالک منتقل کرنے کی خبریں سناتے تھے ۔ یقین تھا کہ تھیلے کی بلی تھیلے ہی میں رہے گی ۔ سب سیاستدانوں کو ایک بھرم ہوتا ہے کہ ہر احتساب کرنے والا با اختیار افسر تو انکے احسانات تلے دبا ہوا ہے ۔ کسے جرات ہو گی کہ اپنے محسنوں کو ننگا کر دے ۔ پاکستان کی تاریخ میں جو شاذ شاذ اچنبھے ہوئے ، وہ احسانمندوں نے ہی کئے ۔ جیسے بھٹو کو پھانسی کے پھندے تک " پھلانگے " ہوئے آرمی چیف نے ہی پہنچایا ۔ نواز شریف کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ۔ بینظیر کو بھی اپنے ہی نمک خوار صدر سے زک پہنچی ۔ اب چیف جسٹس کو بھی نوازا گیا تھا اور نواز شریف ہی کا کمال تھا ۔ مگر کون جانے کہ کب کس کا ضمیر جاگ جائے ۔ ویسے بھی فرعون نے موسیؑ کو اپنے ہی گھر میں پروان چڑھایا تھا ۔
بے حسی اور بے شرمی کی جو تصویر سامنے آ رہی ہے ۔ وہ بھی قوم کو شعور نہیں دے رہی ۔ کچھ اسٹیبلشمنٹ کا کھیل کہہ رہے ہیں ، کچھ ذاتی مفادات کی چپقلش کا نام دے رہے ہیں ، کچھ سیاست کا اتار چڑھاو سمجھ رہے ہیں ۔ یہ کوئی نہیں دیکھ رہا کہ جن لوگوں کو بی بی جمہوریت نے ہمارے سروں پہ بٹھا دیا ہے ۔ وہ اسقدر کردار سے عاری لوگ تھے ۔ کہ اپنی " دھرتی " جو ماں کیطرح پالتی ہے ، اسی کو لوٹتے رہے ۔ یہ ہمارے حکمران تو بدیشی آقاوں کے غلام تھے ۔ یہ ہمارے تھے ہی نہیں ۔ اس پر بھی سیاسی اندھے کہے جا رہے ہیں کہ زیادتی ہو رہی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کھیل رہی ہے ۔ اگر اسٹیبلشمنٹ ایسا کھیل رہی ہے تو یہ کھیل تو بہت پہلے ہونا چاہئیے تھا ۔
خدا کی پناہ ، قوم سے اتنا بڑا دھوکہ کہ ہم پر حکومت کرنے والے بدیشی آقاوں کے غلام تھے ۔ ملک کو کتنا لوٹا ، اگر حساب کتاب کیا جائے تو جتنے قرضے واجب الادا ہیں ، اس سے کہیں زیادہ رقوم ان لوگوں کے بیرون ملک بنکوں میں ہیں ۔ دیگر جائیدادیں الگ ہیں ۔ یہ حساب تو ابھی چند سیاستدانوں کا ہے ۔ سب کا محاسبہ ہوا جن میں ملک سے باہر بیٹھے ریٹائرڈ فوجی افسران ، بیورو کریٹ ، جج صاحبان ، تاجر اور سیاستدانوں کا حساب کتاب دیکھا گیا تو پتہ چلے گا کہ ملک کی ترقی کا پہیہ کس کس نے روکا ۔ کیا ان تمام کو گھسیٹنے اور حساب مانگنے کا حق عوام کو نہیں ہونا چاہئیے ۔ یہ کام تو ان کو کرنا چاہئیے جنہوں نے ان پر اعتماد کیا ۔ اب اگر کوئی سر پھرا جج یا اسٹیبلشمنٹ کر رہی ہے تو اسے کرنے دیں ۔ گندی مچھلیاں ڈھونڈنے میں انکی مدد کریں تاکہ تالاب صاف ہو جائے ۔ اگر جج اور اسٹیبلشمنٹ نے یہ جہاد شروع کر ہی دیا ہے تو انجام تک پہنچنا لازم ہے ۔ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک اور قوم کا کام ہے کہ جو جو پکڑا جائے اسکا کڑا احتساب کرے ۔ یہ بے شرم لوگ ہیں ، انکو ننگا کرنا وطن کی بقاء کیلئے ضروری ہے ۔ بشرطیکہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اپریل ٢٠١٨
Friday, 27 April 2018
بے شرم لوگ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment