" سراج الحق صاحب آپ نے بولا ہے "
سادہ لوح امیر جماعت اسلامی نے فرمایا ۔
"مغرب ، اسلامی اقدار اور تہذیب و تمدن پر حملہ آور ہے۔ سنت رسول ﷺ کی پیروی اور خاندانی نظام کی مضبوطی اور حفاظت ہی میں ہماری بقا اور فلاح ہے۔"
بہت دیر کر دی مہربان آتے آتے ۔ آپ کا بیان اگر سیاسی نہیں تو نہایت خوش آئیند ہے ۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ، آپکی جماعت نہایت منظم جماعت رہی ۔ پوری قوم کو آپ کی جماعت سے امید رہی کہ جب بھی ہوا آپ کی جماعت ہی وطن عزیز میں اسلامی نظام لاگو کرنے کا ہراول دستہ ثابت ہو گی ۔ آپ کے جلو میں نہایت پڑھے لکھے اور مخلص لوگ شامل رہے ۔ مگر آپ کی جماعت نے جمہوریت کی بیساکھی کو ایسا پکڑا کہ پوری قوم آپ لوگوں سے بد ظن ہو گئی ۔ آپ وہ جماعت رہے جو جمہوریت کی اصل آبیاری کرتے رہے ۔ اگر آپ لوگ شروع ہی سے راستہ روک لیتے اور آپ راستہ روک بھی سکتے تھے ۔ آج نہ مغرب کے غلبے کا رونا ہوتا اور سنت رسولؐ کے مطابق نظام بھی چل رہا ہوتا ۔ سمجھ نہیں آئی کہ اتنی سوجھ بوجھ والے لوگ چند سیٹوں کے لالچ میں کیوں بھول گئے کہ آپ کا اصل ہدف کیا تھا ۔
خیر " دیر آید درست آید " ابھی بھی آپ کے بیان میں خلوص ہوا اور آپ نے عملی طور پر ثابت کر دیا کہ آپ کے بیان میں اور عمل میں یکسانیت ہے ۔ تو جو آپ کہہ رہے ہیں وہ پورا ہو گا ۔ مجھے یاد ہے کہ بھٹو کو پاکستان میں صرف جماعت اسلامی سے خطرہ رہا ۔ جب سے جماعت نے حکومت کی جھولی میں بیٹھنا شروع کر دیا ، قوم کا عام ذہن جماعت سے بد ظن ہو گیا ۔ حد یہ ہے کہ عام سطح کا شخص بھی " منافق " جیسے القاب دینے لگا ہے ۔
اے کاش ! آپ اس انتخاب میں ، اللہ پر بھروسہ رکھ کے جمہوریت کے خلاف اسلام کے نظام کا نعرہ لگا دیں ۔ آپ اللہ کی نصرت پر توکل کر کے تو دیکھیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ اپریل ٢٠١٨
Thursday, 26 April 2018
سراج الحق صاحب آپ نے بولا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment