Friday, 27 April 2018

اگر زندہ ہو

" اگر زندہ ہو "
تھیلے کی بلی باہر آگئی ، کہ سیاست کے تمام کردار ، کم یا زیادہ قوم سے بیوفائی کے مجرم ہیں ۔ وہ جنہوں نے جرم کیا ،  وہ جو جرم ہوتا دیکھتے رہے ، وہ جو جرم میں معاونت کرتے رہے ، وہ جن کی ڈیوٹی تھی کہ جرم نہ ہونے دیں ۔ سب کے سب مجرم ہیں ۔  قوم اگر زندہ قوم ہے تو بلا سیاسی تفریق سب کے حتمی انجام کیلئے اٹھ کھڑی ہو تو اس بلی کے تھیلے سے باہر آنے کا فائدہ ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ نے ، عدالت نے قبر کھود دی ہے ، اب مجرموں کا کفن دفن کرنا قوم کا کام ہے ۔ میں ان تمام لوگوں سے کہنے کی جسارت کرتا ہوں ، جو حب الوطنی کا راگ الاپتے ہیں کہ اب ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ راگ اصلی تھا ۔ یہ ملکی دولت کس کس نے لوٹی ، ابھی بہت سارے  جبہ پوش سامنے نہیں آئے ۔ انکو بھی سامنے لانا لازم ہے ۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس سارے کھیل میں کون کون کھلاڑی شامل تھا ۔ اور کس کس پوزیشن پہ کھیلتا رہا ۔ انقلاب کی راہ ہموار ہو رہی ہے ۔ برائی جب اپنے انجام کو پہنچا دی جائے اور اچھائی غلبہ کر لے تو یہی انقلاب ہوتا ہے ۔
اب جو بھی مصلحت کا شکار ہو گا ، وہ قوم سے ، وطن سے غداری کرے گا ۔  اگر زندہ ہو تو اپنی نسلوں کو ان بھیڑیوں سے محفوظ کر لو ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اپریل ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment