" اگر زندہ ہو "
تھیلے کی بلی باہر آگئی ، کہ سیاست کے تمام کردار ، کم یا زیادہ قوم سے بیوفائی کے مجرم ہیں ۔ وہ جنہوں نے جرم کیا ، وہ جو جرم ہوتا دیکھتے رہے ، وہ جو جرم میں معاونت کرتے رہے ، وہ جن کی ڈیوٹی تھی کہ جرم نہ ہونے دیں ۔ سب کے سب مجرم ہیں ۔ قوم اگر زندہ قوم ہے تو بلا سیاسی تفریق سب کے حتمی انجام کیلئے اٹھ کھڑی ہو تو اس بلی کے تھیلے سے باہر آنے کا فائدہ ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ نے ، عدالت نے قبر کھود دی ہے ، اب مجرموں کا کفن دفن کرنا قوم کا کام ہے ۔ میں ان تمام لوگوں سے کہنے کی جسارت کرتا ہوں ، جو حب الوطنی کا راگ الاپتے ہیں کہ اب ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ راگ اصلی تھا ۔ یہ ملکی دولت کس کس نے لوٹی ، ابھی بہت سارے جبہ پوش سامنے نہیں آئے ۔ انکو بھی سامنے لانا لازم ہے ۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس سارے کھیل میں کون کون کھلاڑی شامل تھا ۔ اور کس کس پوزیشن پہ کھیلتا رہا ۔ انقلاب کی راہ ہموار ہو رہی ہے ۔ برائی جب اپنے انجام کو پہنچا دی جائے اور اچھائی غلبہ کر لے تو یہی انقلاب ہوتا ہے ۔
اب جو بھی مصلحت کا شکار ہو گا ، وہ قوم سے ، وطن سے غداری کرے گا ۔ اگر زندہ ہو تو اپنی نسلوں کو ان بھیڑیوں سے محفوظ کر لو ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اپریل ٢٠١٨
Friday, 27 April 2018
اگر زندہ ہو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment