" دل عجب تماشا ہے "
یہ دل بھی عجب تماشہ ہے
کونے پہ پڑا ہے
اک ضد پہ اڑا ہے
جو مانگوں وہ لے دو
جو اچھا لگے اسے دے دو
نہ مانو تو روٹھ جاتا ہے
جو مان لو تو چھوٹ جاتا ہے
یہ دل بھی عجب تماشا ہے ۔
نہ عقل کی مانتا ہے
میرے سینے میں دھڑکتا ہے
پر نہ مجھے جانتا ہے
سمجھانے پہ بولتا ہے
دھڑکنا چھوڑ دوں گا
سب ناطے توڑ دوں گا
آزاد رہتا ہوں
مانو جو کہتا ہوں
یہ دل بھی عجب تماشا ہے ۔
ہر ناز اٹھائے رکھتا ہوں
سینے میں چھپائے رکھتا ہوں
نظاروں سے بہلائے رکھتا ہوں
ہر دوا پلائے رکھتا ہوں
مگر یہ
کبھی بیٹھنے لگتا ہے
کبھی مچل جاتا ہے
عجب کردار ہے اسکا
کیا اعتبار ہے اسکا
دل بھی عجب تماشا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Tuesday, 24 April 2018
دل بھی عجب تماشا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment