" کون سا اسلام ؟ "
یہ وہ سوال ہے جو اسوقت سننے کو ملتا ہے ، جب کوئی اسلامی نظام کی بات کرتا ہے ۔ ایک ایسا ہی احمقانہ سوال اور بھی ہوتا ہے کہ اسلامی نظام کس وقت کے حکمرانوں کی تقلید ہو گا ۔ اگر آپ کا واسطہ کسی لبرل سے پڑ جائے ، خاص طور پر اس لبرل سے جو یورپ کے کسی ملک میں اچھی نوکری پر ہو ، اور اسے کچھ گورے گھاس بھی ڈالتے ہوں تو اسلام کے خلاف نا قابل برداشت رویہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اگر ان لبرلز میں کچھ نے قرآن پڑھ لیا ہو ، کچھ احادیث بھی یاد ہوں ، تاریخ کے اوراق بھی الٹ رکھے ہوں تو سمجھ لو کہ اسلام پر ایسے ایسے دلائل دیں گے ، جس سے عام سطح کا علم رکھنے والا انکا مطیع ہو جائے گا ۔ ایسی ہی کیفیت میڈیائی دانشوروں کی ہے ۔ سنئے !
ہم اس اسلام کی بات کرتے ہیں جو ، دین ہے ، مذہب ہے ، نظام ہے ، شریعت ہے ، اللہ کی وحدانیت ہے اور نظام حیات ہے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں ، جو اللہ کی کتاب میں درج ہے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جو انبیاء کا مذہب ہے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس پر اسوہ حسنہ قائم تھا ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس کیلئے حسین علیہ السلام نے بیمثال قربانی دی ۔ وہ اسلام جو لاگو ہوا تو ہر کسی کو امان ملی ۔ جو لاگو ہوا تو قیصر و کسریٰ شکست ریز ہوئے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس کے سامنے بڑے سے بڑے طاغوت نے گھٹنے ٹیک دئیے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جو یکجہتی کا نام ہے ، جس میں تفریق نہیں ، جس میں عدل ہے ، انصاف ہے ، امن ہے ۔ اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے ، قانون صرف قران ہے ، قرآن کی تشریح اسوہ حسنہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ اپریل ٢٠١٨
Wednesday, 25 April 2018
کونسا اسلام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment