Friday, 27 April 2018

اقتدار اور ذلت

" اقتدار اور ذلت "
سورہ آل عمران میں اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا کہ
" کہو ! اے اقتدار کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے ، جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتاہے ۔ اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کر دیتا ہے ۔ تمام تر بھلائی تیرے ہی اختیار میں ہے ۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے "
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مان لیں اور اقرار کریں کی اقتدار کا مالک " مالک الملک " ہی ہے ۔ جب ہم یہ مان لیتے ہیں ، تو دماغ سے یہ فتور نکل جاتا ہے کہ اقتدار کسی انسانی خوبی کی بناء پر ملا ہے یا عوام کی طاقت پر ملا ہے ۔  اگر یہ ایمان پختہ کر لیا جائے تو اقتدار ملنے کے بعد جو فرعونیت آ جاتی ہے ، وہ کبھی نہیں آئے گی ۔ انکساری اور شکر عادت بن جائیگا ۔ اقتدار اور طاقت تو دنیا میں کسی کے ساتھ بھی سدا نہیں رہی ۔ جیسے ہی طاقت کا زعم آجاتا ہے ، اقتدار کی کرسی مضبوط دکھائی دینے لگتی ہے ، عوام کی طاقت کا فتور دماغ میں گھر کر لیتا ہے ۔ اللہ کے شکر اور احسان سے منہ پھیر لیا جاتا ہے تو زوال شروع ہوتا ہے ۔ انسانی تاریخ کے آغاز سے آج تک یہی سلسلہ جاری ہے ۔ فرعون غرق ہوا ، نمرود جوتے کھاتے کھاتے مر گیا ، شداد اپنی بنائی ہوئی جنت میں قدم نہ رکھ سکا ، یزید کی بے نام قبر بن کر رہ گئی ۔ معمر قذافی نہ رہا ، صدام پھانسی جھول گیا ، بھٹو بے کسی سے تختہ دار پر چڑھ گیا ۔ اقتدار کا چلا جانا اور ذلت دئیے بغیر چلا جانا ، الگ ایک تسلسل ہے ۔ مگر اقتدار جانے کے ساتھ ، رسوائی اور ذلت ملنا ، اس بات کی دلیل ہے کہ تکبر اور رعونت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ اللہ نے اقتدار بھی چھین لیا اور ذلت بھی نصیب میں لکھ دی ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں اللہ کے سامنے استغفار کا راستہ اپنا لینا چاہئیے ۔ باور رکھیں کہ جب اللہ اقتدار چھین لینا چاہے تو پھر عوام کی طاقت کا بھروسہ حماقت بھی ہے اور قدرت کے ساتھ ضد بھی ۔ یہی ضد اللہ کی رضا سے فرار ہے اور یہی ضد پھر رسوائی ہی رسوائی بن جاتی ہے ۔
اپنا احتساب کرنا چاہئیے کہ جو رحیم و کریم بار بار اقتدار جھولی میں ڈالتا رہا ، وہ اتنا خفا کیوں ہو گیا کہ اقتدار بھی لے لیا اور رسوائی ، ذلت بھی جھولی میں ڈال دی ۔
عزت اسی کا نصیب ہے جو اللہ کی نظر میں مقبول ہے ۔ یہی وہ حکم ہے جس کے بارے میں اس آیت میں وضاحت فرما دی گئی ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ اپریل ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment