" صادق اور امین کی تکرار "
ایک سوال گردش میں ہے کہ کونسا سیاسی لیڈر , اسمبلی کا ممبر , عدالت کا جج اور قیادت صادق و امین ہے .
ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات سے پہلے , وطن , دین اور قومی فرائض کو ترجیح دیں .
اس اصول کے تحت کوئی بھی سیاستدان امین نہیں رہ جاتا . کیونکہ ہر سیاستدان , کسی نہ کسی رنگ میں , اپنے مفادات کو اولیت دے رہا ہے . اسمبلیوں کے تمام ممبران وہ مراعات حاصل کر رہے ہیں , جو انکی خدمات سے کئی گنا زاید ہیں . ان مراعات کا ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثر ہے . قومی ترقی کی خاطر وصول کئے جانے والے ٹیکس , ان ممبران کی جیب میں چلے جاتے ہیں . جو کسی قانون و قاعدے مطابق ملکی مفاد نہیں . کچھ ایسا ہی حال باقی مقتدر لوگوں کا ہے . قوم ان سیاستدانوں کو اپنی نمائیندگی کا امین بناتی ہیں اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بھی سیاستدان نے مکمل امانتداری بنھائی ہو .
ان میں وہ سیاستدان جو مذہبی حلقوں کی نمائیندگی کرتے ہیں , وہ دہری بد دیانتی کے مرتکب ہیں . وہ مذہب کی ترویج کے لیے کبھی کچھ نہیں کرتے . جانتے ہوئے کہ جس راہ کا وہ انتخاب کئے بیٹھے ہیں , وہ اللہ کے راستے کے مخالف ہے . جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ راہ تھوڑا آگے جا کے اسلام کی راہ بن جائے گی . یہ صداقت کی نفی اور منافقت کی تائید ہے .
گویا امانت اور صداقت کے ترازو پر کوئی ایک بھی پورا نہیں . بس فرق ہے کہ کوئی زیادہ جھوٹا ہے کوئی کم . کوئی مکمل بد دیانت ہے کوئی آدھا .
انکی بد دیانتی اور جھوٹ کا ثبوت کہ جس کو آج بد دیانت کہتے ہیں کل اسی سے سیاسی گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں . جو بد دیانتی کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات کرتے ہیں , ان کے جلو میں بد دیانتوں کی فوج نظر آتی ہے .
باتوں اور عمل میں تضاد , امین اور صادق نہ ہونے کا بین ثبوت ہے اور ہر سیاستدان اسی کردار کا حامل ہے .
جو کہتے ہیں اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام , اور کوشش میں ہیں کہ جمہوریت پھلتی پھولتی رہے , ان سے بڑا جھوٹا کون ہو گا .
اگر یہ کہا جائے کہ سیاست میں جھوٹ اور خیانت کے سوا کچھ نہیں رہ گیا تو شاید حقیقت سے قریب تر ہو گا .
ازاد ھاشمی
Thursday, 26 April 2018
صادق اور امین کی تکرار
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment