Tuesday, 24 April 2018

شب معراج

" شب معراج "
جسے ہم معراج کہتے ہیں , وہ ایک دعوت ہے کائینات کے مالک کی , کائینات کے سرور کو . میزبان ہے عالمین کا رب , مہمان ہے عالمین کی رحمت .
دعوت کی معراج ہے کہ میزبان ,
مہمان کے سفر , زاد سفر اور آرام و سکون کا خیال رکھے ہوئے ہے .
سواری بھیجی اور خدمت کو فرشتوں کے سردار کی ذمہ داری لگا دی .
عروج ہی عروج .
یہ معراج کی شب نہیں , شب کی معراج ہے  اس رات کی معراج ہے جس میں  ایسی دعوت کا اہتمام ہوا .
ایسی  دعوت نہ چشم چرخ نے کبھی پہلے دیکھی اور نہ کبھی پھر دیکھے گی .
شعور کو کتنا بھی بلندی پہ لے جاو , سمجھ نہیں آئے گی کہ مالک مطلق نے کیا کیا اہتمام کیا ہو گا . بحث کا مقام ہی نہیں کہ حبیب نے محب سے کوئی سوال کیا ہو گا .
دینے والا غنی ہو اور لینے والا حبیب تو دینے والا اپنے پاس کیا رکھے گا .
کیا دیا  , کیا لیا . انسانی سوچ کیسے پیمانہ مقرر کرے گی .
کلیم اللہ ع نے کہا , اے رب تجھے دیکھنا ہے . منع فرما دیا کہ تیرے پاس وہ آنکھ نہیں جو مجھے دیکھ سکے . ادھر بن دعا مانگے , بن خواہش کئے  , بلایا اور قریب تر بلایا . عرش کو پیارے کے قدموں کے لئے بچھا دیا .
کہتے ہیں , وہ لمحے ایسے تھے کہ پوری کائنات کا سفر رک گیا تھا . یقینی طور پر رک گیا ہو گا .
کہتے ہیں آسمان کی ہر منزل پہ انبیاء اپنے سردار کو دیکھ رہے تھے . بے شک دیکھ رہے ہوں گے , شاداں ہونگے کہ تمام انبیاء کا سردار کس عظمت کے درجے پر فائز ہے .
ازاد ھاشمی
24 اپریل 2017

No comments:

Post a Comment