Thursday, 31 August 2017

شہروں کے نام

As received.......

پاکستان کے بڑے شہروں کے نام کیسے پڑے، دلچسپ
اور حیران کن معلوماتد
🌻اسلام آباد:
1959ءمیں مرکفزی دارالحکومت کا علاقہ قرار پایا۔ اس کا نام مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد رکھا گیا۔
راولپنڈی:
یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری جھنڈے خان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی بنیاد رکھی۔
🌻کراچی:
تقریباً 220 سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اس کا نام کلاچی پڑگیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ 1925ءمیں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔1947ءسے 1959ءتک یہ پاکستان کا دارالحکومت رہا۔
🌻لاہور:
ائک نظریےکے مطابق ہندﺅں کے دیوتا راما کے بیٹے لاوا کے بعد لاہور نام پڑا، لاوا کو لوہ سے پکارا جاتا تھا اور لوہ (لاوا) کیلئے تعمیر کیا جانیوالا قلعہ ’لوہ، آور‘ سے مشہور ہوا
جس کا واضح معنی ’لوہ کا قلعہ ‘ تھا۔ اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر ’لوہ آور‘ لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا جس طرح 🌳سیوستان سبی اور 🌳شالکوٹ، 🌳کوٹیا اور پھر کوئٹہ میں بدل گیا۔
     اسی طرح ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور
   ایک اور نظریئے کے مطابق دو بھائی لاہور اور قاصو دو مہاجر بھائی تھے جو اس سرزمین پرآئے جسے لوگ آج لاہور کے نام سے جانتے ہیں، ایک بھائی قاصو نے پھر قصور آباد کیا جس کی وجہ سے اس کا نام بھی قصور پڑا جبکہ دوسرے بھائی نے اندرون شہر سے تین میل دور اچھرہ لااور کو اپنا مسکن بنایا اور بعد میں اسی لاہو کی وجہ سے اس شہر کا نام لاہور پڑ گیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اچھرہ کی حدود میں کئی ہندﺅوں کی قبریں بھی ملیں۔
🌻حیدر آباد:
اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدر آباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے 1768ءمیں رکھی۔
🌻پشاور:
پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑگیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔
🌻کوئٹہ:
لفظ کوئٹہ، کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔
🌻ٹوبہ ٹیک سنگھ:
            اس شہر کا نام ایک سکھ "ٹیکو سنگھ" کے نام پہ ہے "ٹوبہ" تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" بھی اسی شہر سے منسوب ہے
🌻سرگودھا:
         یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ 1930ءمیں باقاعدہ آباد ہوا۔
🌻بہاولپور:
          نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔
🌻ملتان:
کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ 4 ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام ”کیساپور“ بتایا جاتا ہے۔
🌻فیصل آباد:
اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔
🌻رحیم یار خاں:
بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔
🌻ساہیوال:
یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر ”منٹگمری“ کہلایا۔ نومبر 1966ءصدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا۔
🌻سیالکوٹ:
2 ہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔
🌻گوجرانوالہ:
ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے 1365ءمیں آباد کیا اور اس کا نام ”خان پور“ رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر گوجرانوالہ رکھ دیا۔
🌻شیخوپورہ:
مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے ”شیخو“ کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔
🌻ہڑپہ:
یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے 12 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو 5 ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ”ہری روپا“ لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے ”ہری روپا“ کو ہڑپہ بنا دیا۔
🌻ٹیکسلا:
گندھارا تہذیب کا مرکز۔ اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے 22 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ 326 قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا
🌻بہاولنگر:
        ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔
🌻مظفر گڑھ:
     والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ 1880ءتک اس کا نام ”خان گڑھ“ رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔
🌻میانوالی:
          ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر ”میانوالی“ سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔
🌻ڈیرہ غازی خان:
               پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔
🌻جھنگ:
        یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاقہ ”جھگی سیال“ کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔

🌻لیہ۔۔لئ نامی قیمتی جڑی بوٹی سے لیا گا جو بعد میں لیان نام سے مشہور ہوا اور کچھ ٹائم بعد اسکا نام لیہ میں تبدیل ہو گیا۔

Tuesday, 29 August 2017

شیطان پکڑا گیا

" شیطان پکڑا گیا "
بابا جی کو ملے کافی روز ہو گئے تھے ، سوچا علیک سلیک کر آوں ۔ بابا جی پکوڑوں کی ریہڑی پر خراماں خراماں کچھ گنگنا رہے تھے ۔
" کہاں تھے اتنے دنوں سے ۔ ایک اچھی خبر ہے ۔ آو سناتا ہوں "
بابا جی کا تپاک عروج پر تھا ۔ ایسے لگ رہا تھا ، جیسے لاٹری نکل آئی ہو ۔ پکوڑوں کی ریہڑی سے دور جا کر بیٹھ گئے تاکہ کوئی گاہک مخل نہ ہو ۔ میرا اشتیاق بڑھتا جا رہا تھا ۔
" یار اللہ کا بڑا خاص کرم ہو گیا ۔ میں نے شیطان کی شناخت پا لی  "
بابا جی کی خبر سن کر میں سمجھا کہ بابا جی کو  کوئی نفسیاتی چکر پڑ گیا ہے ۔ بیچارے اپنی دال روٹی کما رہے تھے ۔ اب اس سے بھی گئے ۔
" پتہ ہے ، یہ میری کٹیا کے باہر روز صبح نماز کے وقت ایک چڑیا آ کر اتنا شور مچاتی ہے کہ میں کتنی بھی گہری نیند میں ہوتا ہوں ، لازمی جاگ جاتا ہوں ۔ آج بھی چڑیا اپنی ڈیوٹی کر رہی تھی اور مرے دماغ میں آواز سی آرہی تھی ۔ تھوڑا اور سو جاو ، موسم اچھا ہے ۔ میں نے سستی کا مظاہرہ شروع کر دیا ۔ پھر دماغ سے آواز آئی کہ روز نماز پڑھتے ہو ، ایک دن نہیں پڑھو گے تو کونسی قیامت آجائے گی ۔ میرا دل کیا کہ آج دماغ کی بات مانتے ہیں ۔ سونے کی تیاری شروع کردی ۔ چڑیا کی آواز بھی بری لگنے لگی ۔ ادھر وہ معصوم پرندہ کبھی کٹیا کی ایک طرف کبھی دوسری طرف بیقراری سے چیخ چہاڑ کر رہا تھا ۔ مجھے ایسے لگا جیسے کہہ رہا ہو ۔ ہوش کرو بابا ہوش کرو ۔ شیطان کے بہکاوے میں مت آو ۔ اٹھو اللہ کا حکم پورا کرو ۔ آخر میں نے چڑیا کی بات سن لی ۔ "
میں بابا جی کی بات سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ ساری کہانی تو عام سی بات ہے ۔ بابا جی اتنے خوش کیوں ہیں اور اس ساری کہانی میں شیطان کیسے پکڑا گیا ۔
" تم سوچ رہے ہو گے ۔ اس میں شیطان کیسے پکڑا گیا ۔ ارے پگلے مجھے ایک شیطان نہیں سارے شیطانوں کی پہچان مل گئی ہے ۔ ذرا غور کرو ۔ ہر وہ خیال جو اللہ کے حکم سے روکے ، ہر وہ شخص جو اللہ کے احکام سے بھاگنے کی راہ دکھائے ، شیطان ہے ۔ اپنے دائیں بائیں غور کرو ۔ کتنے ہیں جو اللہ سے بغاوت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔ غور تو کرو کہ کتنے ہیں جو بتاتے ہیں کہ راحت کے سارے سامان دنیا کی پرستش میں ہیں ۔ کتنے ہیں جو کہتے ہیں یہ مذہب قدامت پرستی ہے ۔ کتنے ہیں جو حرام حلال کی تمیز سے دور کرنے میں لگے ہیں "
بابا جی کی بات کا کچھ مفہوم مجھے بھی سمجھ آنے لگا ۔ مجھے تو ایسے لگا جیسے ہمارے تمام سیاسی قائدین بھی اسی زمرے میں آجاتے ہیں ۔ بہت سارے دانشور بھی یہی سکھا رہے ہیں کہ ہماری خوشحالی تو یورپ کی تقلید میں ہیں ۔ ہمارے بہت سارے ملا بھی ہماری یکجہتی کو بکھیرنے میں کوشاں ہیں ۔ بہت سارے جدت پسندوں کو اذان بھی شور لگتی ہے ۔ لہو لعب کو ترجیح دینے والے بیشمار ہیں ۔ ایسے لگا جیسے بہت سارے معاملات زندگی میں ، میں خود بھی اپنے اندر شیطنت پال چکا ہوں ۔ میرے اندر کا انسان کانپ اٹھا ۔ مجھے ایسے لگا جیسے میں بھی شیطان کی فتح میں اسکا معاون ہوں اور اپنے کریم رب کو شکست دینے میں سرگرداں ہوں ۔ میں اپنی اتنی بڑی گستاخی ، سرکشی سے اگاہ ہی نہیں تھا ۔ اس خبر پر بابا جی کی خوشی یقیناً قابل تحسین تھی ۔ یہ نفسیاتی الجھن نہیں حق شناسی تھی ۔
ازاد ھاشمی