Tuesday, 29 August 2017

شیطان پکڑا گیا

" شیطان پکڑا گیا "
بابا جی کو ملے کافی روز ہو گئے تھے ، سوچا علیک سلیک کر آوں ۔ بابا جی پکوڑوں کی ریہڑی پر خراماں خراماں کچھ گنگنا رہے تھے ۔
" کہاں تھے اتنے دنوں سے ۔ ایک اچھی خبر ہے ۔ آو سناتا ہوں "
بابا جی کا تپاک عروج پر تھا ۔ ایسے لگ رہا تھا ، جیسے لاٹری نکل آئی ہو ۔ پکوڑوں کی ریہڑی سے دور جا کر بیٹھ گئے تاکہ کوئی گاہک مخل نہ ہو ۔ میرا اشتیاق بڑھتا جا رہا تھا ۔
" یار اللہ کا بڑا خاص کرم ہو گیا ۔ میں نے شیطان کی شناخت پا لی  "
بابا جی کی خبر سن کر میں سمجھا کہ بابا جی کو  کوئی نفسیاتی چکر پڑ گیا ہے ۔ بیچارے اپنی دال روٹی کما رہے تھے ۔ اب اس سے بھی گئے ۔
" پتہ ہے ، یہ میری کٹیا کے باہر روز صبح نماز کے وقت ایک چڑیا آ کر اتنا شور مچاتی ہے کہ میں کتنی بھی گہری نیند میں ہوتا ہوں ، لازمی جاگ جاتا ہوں ۔ آج بھی چڑیا اپنی ڈیوٹی کر رہی تھی اور مرے دماغ میں آواز سی آرہی تھی ۔ تھوڑا اور سو جاو ، موسم اچھا ہے ۔ میں نے سستی کا مظاہرہ شروع کر دیا ۔ پھر دماغ سے آواز آئی کہ روز نماز پڑھتے ہو ، ایک دن نہیں پڑھو گے تو کونسی قیامت آجائے گی ۔ میرا دل کیا کہ آج دماغ کی بات مانتے ہیں ۔ سونے کی تیاری شروع کردی ۔ چڑیا کی آواز بھی بری لگنے لگی ۔ ادھر وہ معصوم پرندہ کبھی کٹیا کی ایک طرف کبھی دوسری طرف بیقراری سے چیخ چہاڑ کر رہا تھا ۔ مجھے ایسے لگا جیسے کہہ رہا ہو ۔ ہوش کرو بابا ہوش کرو ۔ شیطان کے بہکاوے میں مت آو ۔ اٹھو اللہ کا حکم پورا کرو ۔ آخر میں نے چڑیا کی بات سن لی ۔ "
میں بابا جی کی بات سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ ساری کہانی تو عام سی بات ہے ۔ بابا جی اتنے خوش کیوں ہیں اور اس ساری کہانی میں شیطان کیسے پکڑا گیا ۔
" تم سوچ رہے ہو گے ۔ اس میں شیطان کیسے پکڑا گیا ۔ ارے پگلے مجھے ایک شیطان نہیں سارے شیطانوں کی پہچان مل گئی ہے ۔ ذرا غور کرو ۔ ہر وہ خیال جو اللہ کے حکم سے روکے ، ہر وہ شخص جو اللہ کے احکام سے بھاگنے کی راہ دکھائے ، شیطان ہے ۔ اپنے دائیں بائیں غور کرو ۔ کتنے ہیں جو اللہ سے بغاوت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔ غور تو کرو کہ کتنے ہیں جو بتاتے ہیں کہ راحت کے سارے سامان دنیا کی پرستش میں ہیں ۔ کتنے ہیں جو کہتے ہیں یہ مذہب قدامت پرستی ہے ۔ کتنے ہیں جو حرام حلال کی تمیز سے دور کرنے میں لگے ہیں "
بابا جی کی بات کا کچھ مفہوم مجھے بھی سمجھ آنے لگا ۔ مجھے تو ایسے لگا جیسے ہمارے تمام سیاسی قائدین بھی اسی زمرے میں آجاتے ہیں ۔ بہت سارے دانشور بھی یہی سکھا رہے ہیں کہ ہماری خوشحالی تو یورپ کی تقلید میں ہیں ۔ ہمارے بہت سارے ملا بھی ہماری یکجہتی کو بکھیرنے میں کوشاں ہیں ۔ بہت سارے جدت پسندوں کو اذان بھی شور لگتی ہے ۔ لہو لعب کو ترجیح دینے والے بیشمار ہیں ۔ ایسے لگا جیسے بہت سارے معاملات زندگی میں ، میں خود بھی اپنے اندر شیطنت پال چکا ہوں ۔ میرے اندر کا انسان کانپ اٹھا ۔ مجھے ایسے لگا جیسے میں بھی شیطان کی فتح میں اسکا معاون ہوں اور اپنے کریم رب کو شکست دینے میں سرگرداں ہوں ۔ میں اپنی اتنی بڑی گستاخی ، سرکشی سے اگاہ ہی نہیں تھا ۔ اس خبر پر بابا جی کی خوشی یقیناً قابل تحسین تھی ۔ یہ نفسیاتی الجھن نہیں حق شناسی تھی ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment