" بنیادی ضروریات کی ذمہ داری"
دنیا میں بیشمار نظام لائے گئے ، جن کا مقصد ہر شہری کے بنیادی حقوق کو پورا کرنا تھا ۔ ہر شہری کے حقوق کو پورا کرنے کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ ایک طبقے کو سہولت کیلئے دوسرے طبقے کا استحصال کیا جائے ۔ ایسا نظام جبر کی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔ ہم جن نظریات سے متاثر ہوئے ، وہ سب استحصال کی تعلیم ہیں ، جیسے کیمونزم ، سوشلزم ، فسطائیت ، بادشاہت اور جمہوریت ۔ جمہوریت کو نظام نہیں کہا جا سکتا ، کیونکہ اسکی بنیاد صرف ایک مخصوص طبقے کو حکمرانی تک پہنچانا ہے جسے اشرافیہ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو خواب دکھانا ہے کہ حکمرانی کا حق انہیں مل چکا ہے ، جنہیں عوام کہتے ہیں ۔ اب حکمران طبقوں کی بنیادی ضروریات کچھ اور ہوتی ہیں اور محکوم طبقوں کی بنیادی ضروریات کچھ اور ۔ صرف اسلام ایسا نظام ہے جس میں ایک توازن ہے ۔ حکومت ذمہ دار ہے کہ
زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے ۔ رسول صلی اللہ عليہ وسلم اللہ کا ارشاد پاک ہے :
" انسان کے لیے اس سے بہتر حق کوئی نہیں ہو سکتا کہ اس کے پاس رہنے کے لیے ایک مکان ہو اور کچھ کپڑا جس سے وہ اپنی ستر کو چھپا سکے اور کچھ روٹی اور کچھ پا نی۔ "
یہ وہ ضروریات ہیں جو ہر شہری کے زندہ رہنے کی بنیاد ہے ۔ اب ان تمام کی ذمہ داری کس پر ہے ؟
آپؐ نے مزید فرمایا کہ،
"حکومت ہر اس شخص کی نگہبان ہے جس کا کو ئی نگہبان نہیں۔ "
اللہ کے نبیؐ کے اس فرمان کی حکمت کا سوچیں کہ اس اصول کے مطابق ہر یتیم ، ہر عمر رسیدہ ، ہر معذور خود بخود بھیک کی لعنت سے بچ جاتا ہے ۔
باب العلم نے فرمایاکہ
"اللہ نے دولت مندوں اور حکومت پر یہ فرض کیا ہے کہ وہ غریبوں کی بنیادی ضروریات کو مہیا کریں۔ اگر یہ بھوکے یابرہنہ یا کسی دوسری معاشی تنگ دستی میں مبتلا ہیں تو یہ صرف اس لیے کہ دولت مندوں اور حکومت اپنا فریضہ پورا نہیں کر رہا ہے۔ اس لیے قیاُمت کے دن اللہ ان سے اس بارے میں پوچھے گا اور اسی کی مطابق سزا دے گا۔ "
باور رہنا چاہئے کہ خیرات کرنا ، صرف صوابدیدی اختیار نہیں ، بلکہ دولتمندوں کے فرائض کا حصہ ہے ۔
آزاد ہاشمی
٢٩ ستمبر ٢٠١٨
Saturday, 29 September 2018
بنیادی ضروریات کی ذمہ داری
Friday, 28 September 2018
علیؑ کا احتساب
علیؑ کا احتساب
حضرت علی کرم الله وجہہ کے دور خلافت میں ایک قاضی نے گھر خرید لیا - جب یہ معاملہ آپ کے علم میں آیا - تو آپ نے قاضی کو خط لکھا - جس میں چند اہم نکات پر استفسار فرمایا کہ آپ نے گھر کیوں خریدا ? کیا تمہارے وسائل بڑھ گیے ہیں ? یا تمہارا موجودہ گھر تمھارے مقام کے مطابق نہیں ? کہیں ایسا تو نہیں کہ تم نے اپنے عہدہ کا استعمال کر کے کم قیمت ادا کی ہے ? کہیں تم نے بیت المال کا استعمال تو نہیں کیا ? "
یہ ہے نظام اسلام -
مگر آج ایک کے حکمران اپنے ماتحت سے کیسے پوچھ سکتے ہیں - کیونکہ وہ انہی ماتحتوں کے ذریعے حرام اکٹھا کرتے ہیں - ہر محکمے میں ناجائز کمائی سربراہ تک تقسیم ہوتی ہے - کون کرے گا احتساب - کون پوچھے گا کہ یہ اربوں کے اثاثے اور بنک بلینس کہاں سے ملے -
کون پوچھنے والا ہے کہ یہ کک بیک والے منصوبوں میں دلچسپی کیوں ہے -
جج بک جاتے ہیں , محتسب بک جاتے ہیں , محافظ بک جاتے ہیں - پھر کون پوچھے گا - میڈیا , صحافی , دانشور , ملا اور لیڈر سب کے سب بک رہے ہیں -
پھر کون پوچھے گا ?
حکمران سوداگر ہو جاے تو سب کچھ بکاؤ ہو جاتا ہے - روایات اور کردار بھی منڈی میں آ جاتے ہیں - قلم اور دھرم بھی بکنے لگتا ہے -
اے الله ہم پر رحم کر دے.
آزاد ہاشمی
28 ستمبر 2017
Wednesday, 26 September 2018
تیس بتیس سال کا قاتل چھوکرا
" تیس بتیس سال کا قاتل چھوکرا "
اسلام کا نظام کوئی کھیل نہیں تھا . کفر , شرک , الحاد اور بغض و کینہ اگانے والے خطہ پہ بہت مشکل سے اسلام کی روشنی پھیلی تھی . ہدایت کے طرز بود و باش کو برقرار رکھنے کیلئے اللہ کے نبی اور اسکے ساتھیوں نے کیا کٹھن وقت گزارا . الفاظ کے احاطے سے بہت باہر ہے .
معاویہ کی ضد کہ اسی کا بیٹا خلافت کی مسند پر بیٹھے گا , خواہ اسلام کو کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانا پڑے . بنو ہاشم پر بنو عبد شمس کی برتری کا خواب اصل فساد تھا , جس بنا پر آپ صل اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تانا بانا بننا شروع ہوا . عدم استحکام کی صورت پیدا کی جاتی رہی , خلفاء کی شہادتیں اسی کشمکش کی کڑی تھی . حضرت علی کرم اللہ وجہہ , حضرت حسن علیہ السلام نے کبھی حق جتا کر مخاصمت کی راہ اختیار نہیں کی . جہاں جہاں ضرورت پڑی , خلیفہ وقت کے ساتھ کھڑے ہوتے رہے . مفاہمت کی کوشش ہی اصل ضرورت تھی , اسے اہل بیت اور آل رسول نے اپنائے رکھا . اقتدار کی بھوک , صرف بنو امیہ کو تھی , اسکے پیچھے کفر کے وقت کی وہ ضد تھی . حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی ہر ممکن کوشش کی کہ کربلا کی زمین خون سے نہ رنگی جائے . مگر کھلنڈری طبیعت , شکار اور لہو لعب کا شوقین , بنو امیہ کا نوجوان یزید . اس پر بضد تھا کہ بنو ہاشم کا سورج غروب کر کے رہے گا . آل رسول کا عبرت ناک انجام اسکے اقتدار کی ضرورت تھی . سو وہ کربلا کی زمین کو آل رسول کے خون سے رنگ کر رہا . بربریت کا یہ کھیل , یزید کی امنگ کے مطابق مثبت رہا کہ اسکے بعد اسلام کا نظام بنو امیہ کے ہاتھ میں آگیا . آل رسول میں جو بھی علم و عمل کی شمع روشن ہوئی , بنو امیہ اسے بجھاتے رہے . نئے نئے فقہ , نئی نئی منطق , اپنی مرضی کا اجتہاد , اور اپنی ضرورت کی احادیث اسی دور کی ایجاد ہیں . جس سے مسلمان فرقوں میں بٹ گئے . مسالک کی کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو گئی . جس سے اسلام کا نام لینے والے کمزور سے کمزور ہوتے چلے گئے .
آج اس کھلنڈرے قاتل کو حق ثابت کرنے کی سعی کا آغاز بھی ہو چکا ہے . ثبوت میں وہی تحریریں ہیں , جو بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں لکھی گئیں . وہی تصور تقویت پکڑ چکا ہے کہ قران کو سمجھنے کیلئے انہی تحریروں کا سہارا لیا جائے . جو بنو امیہ کو تقویت دیتی ہیں .
کیا قصور تھا کربلا کے شہیدوں کا , کیا جرم تھا آل رسول کے اماموں کا . آخر انکی تعلیمات کو ختم کرنے کی کوشش کیوں کی گئی .
ہے کوئی مفکر جو ثابت کر سکے کہ آل رسول نے کبھی فساد کیا . پھر انکا قتل کیوں .
ازاد ھاشمی
27 ستمبر 2018
کربلا کے مسلمان
" کربلا کے مسلمان "
کربلا میں دو حریف آمنے سامنے تھے ۔ایک حریف پوری طاقت کے ساتھ میدان میں تھا ، دوسرا چند اہل خاندان کے ساتھ دین کی خاطر سفر میں تھا ۔ اس کمزور حریف کے ساتھ پردہ دار خواتین تھیں ، چند نوجوان تھے ، کچھ بچے تھے اور چند بوڑھے ۔ دوسرے حریف کے ساتھ حاکم وقت کے بہترین تیر انداز ، بہترین تلوار باز اور جنگی چالوں سے بہترین اگاہی رکھنے والے ہزاروں لوگ ۔ کمزور حریف کے قافلے میں بہت سارے ایسے بھی تھے ، جو آل رسولؐ تھے ۔ وہی آل رسولؐ جن پر درود بھیجے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔
اکثر سوچتا ہوں اور سوال کا جواب نہیں پاتا ہوں کہ آخر اس کربلا میں ہزاروں مسلمان جو آل رسولؐ کا راستہ روکے کھڑے تھے ۔ کیا وہ مسلمان تھے بھی کہ نہیں ۔ کیونکہ اگر مسلمان تھے تو نماز تو پڑھتے ہونگے ۔ اگر نماز پڑھتے ہونگے تو
" اللھم صل علی محمد و علی آل محمد " پڑھنا لازم ہے ۔ عرب تھے تو جانتے بھی ہونگے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ پھر نماز پڑھنے والوں نے " آل محمد " پر تیر کیسے برسا دئیے ؟ آل رسولؐ پر تلواریں کیسے سونت لیں ؟ گردنیں کیسے کاٹ دیں ؟ جسموں پر گھوڑے کیسے دوڑا دئیے ؟ پانی کیسے بند کردیا ؟ نیزوں پہ سر کیسے ٹانگ ڈالے ؟ رسولؐ کے گھر کی خواتین کے ہاتوں میں رسیاں کیسے باندھ ڈالیں ؟
یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اسلام کے بھیس میں ، وہی پرانے مشرک تھے ۔ جو اللہ کے نام کو سننے سے گریزاں تھے ۔ انہوں نے فتح مکہ کے وقت مسلمان ہونے کا ایک ڈھونگ رچایاتھا ۔ یہ انہی سرداروں کی اولاد تھی جنہوں نے رسولؐ کو قتل کرنے کیلئے کئی میدان سجائے ۔ معلوم نہیں جو مسلمان ہی نظر نہیں آ رہے ، ان پر اللہ کے راضی ہونے کا اعلان کیسے کیا جا سکتا ہے ۔ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ انہیں جنت کی بشارت رسولؐ نے دی ہوگی ۔ یہ تو آل محمدؐ کے دشمن تھے اور دشمنی کو ثابت کر دکھایا ۔ جن کے دل کی حالت" علیم بالذات الصدور " جانتا ہو ، ان سے رسولؐ کیسے بے خبر ہوگا ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ ستمبر ٢٠١٨
Tuesday, 25 September 2018
رونا فطرت انسانی ہے
" رونا فطرت انسانی "
دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں , جو حقیقت میں انسانی جبلت سے آراستہ ہو , اور رویا نہ ہو . احساس کی انتہائی حد آنسو ہے . اللہ کے نبی اور رسول بھی روئے , اولیاء اور اصفیاء بھی روتے ہیں . عابد خضوع و خشوع کی حالت میں روتے ہیں . سجدوں میں گرنے والے آنسو اللہ کو محبوب ترین ہیں . مختصر یہ کہ رونا عیب کبھی نہیں تھا , ہر حال میں خوبی ہی تھا . انسان ہمیشہ عاجز رہے گا , عجز کا بہترین اظہار رونا ہے . اللہ سے مانگنے کا بہترین طرز رونا ہے .
کربلا , جبر و استبداد کا وہ نمونہ ہے کہ کوئی بھی باپ اسے اپنی اولاد پر رکھ کر سوچے تو روئے بغیر نہیں رہ سکے گا . کونسا دل ہے جس پر یہ قیامت ٹوٹے گی اور وہ روئے گا نہیں .
بات صرف احساس کی ہے , کہ کربلا کو ہم مسالک کی آنکھ سے دیکھتے ہیں . یہ نہیں سوچتے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی آل پی کیا گزری . کون ماں نہیں روئے گی , کون باپ نہیں روئے گا , کون بہن نہیں روئے گی . جب اسکا بھائی , اسکا بیٹا , اسکا باپ اسکی آنکھوں کے سامنے چھلنی کر دیا جائے , گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا جائے . کون نہیں روئے گا , جب اسکے گھر کی پردہ داروں کو بازاروں میں رسیوں سے جکڑ کر گھمایا جائے گا . اس بے بسی پہ اگر آنکھیں پر نم نہیں ہونگی - تو کسی یزید کی نہیں ہونگی , کسی ہلاکو کی نہیں ہونگی , کسی شیطنت سے اٹے ہوئے ذہن کی نہیں ہونگی .
جس دل میں درد ہو گا, احساس ہو گا , انسانیت ہو گی , حب رسول ہو گی , وہ دل ضرور تڑپے گا . وہ آنکھ ضرور برسے گی .
میری نظر میں , وہ آنسو جو آل رسول کے درد میں بہتے ہیں , اللہ کے ہاں محبوب آنسو ہیں . دعا کرو کہ اللہ ایسے ہی آنسو نصیب کرے جو آل رسول کے درد پہ بہیں . ایسے آنسووں سے پناہ مانگو جو اپنے درد پر بہانے پڑیں .
ازاد ھاشمی
25 ستمبر 2017
قرآن مجید اور علم و حکمت 6
" قرآن مجید اور علم و حکمت(٦ ) "
حشرات الارض میں چیونٹی بظاہر معمولی حیثیت رکھتی ہے ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ہاں اسکی اہمیت بھی ایک علم کی شاخ ہے ۔ قرآن وہ کتاب جس میں چودہ سو سال سے پہلے اس پر ایک موضوع پیش ہوا ۔ جو چیو نٹیوں کا طرز حیات اور باہمی روابط پر تحقیق ہے ۔ فرمایا گیا
" جب یہ ( حضرت سلیمانؑ کا لشکر ) چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔ اے چیوٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جائو کہیں ایسا نہ ہو کہ سیلمان اور اس کے لشکر تمھیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔"
ہو سکتا ہے کہ ماضی میں بعض لوگوں نے قرآن پاک اس مکالمے پر سوچا ہو کہ چیونٹیاں تو صرف کہانیوں کی کتابوں ہی میں باتیں کرتی ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ چیونٹی پر تحقیق کی وجہ بھی اسی آیت کے پس منظر میں کی گئی ہو ۔ حالیہ برسوں کے دوران چیونٹیوں کے طرز حیات، باہمی روابط اور پیچیدہ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے بہت کچھ علم ہو چکا ہے ۔ جو پہلے حاصل نہ تھیں۔ تحقیق سے انکشاف ہواہے کہ چیونٹی کا طرز حیات انسانی معاشرت سے غیر معمولی مما ثلت رکھتا ہے-
١) چیونٹیاں بھی اپنے مرنے والی ساتھوں دفناتی ہیں۔
٢) ان میں کار کنوں کی تقسیم کا پیچیدہ نظام موجود ہے جس میں نگران،نگران کارکن اور مزدور وغیرہ شامل ہیں۔
٣) وہ آپس میں ملتی ہیں اور گفتگوبھی کرتی ہیں۔
٤) ان میں باہمی تبادلہ کا ترقی یافتہ نظام موجود ہے۔
٥) ان کی کالونیوں میں باقاعدہ مارکیٹیس ہوتی ہیں جہاں وہ اشیاء کا تبادلہ کرتی ہیں۔
٦) سردیوں میں لمبے عرصے تک زیر زمین رہنے کے لیے وہ اناج کے دانوں کا ذخیرہ بھی کرتی ہیں۔ اور اگر کوئی دانہ پھوٹنے لگے، یعنی اس سے پودا بننے لگے تو وہ فوراً اس کی جڑیں کاٹ دیتی ہیں۔ جیسے انہیں یہ پتا ہو کہ اگر وہ اس دانے کو یونہی چھوڑ دیں گی تو وہ بڑھنا اور پکنا شروع کر دے گا۔ اگر انکا محفوظ کیا ہوا اناج کسی بھی وجہ سے مثلاً بارش سے گیلاہو جائے تو وہ اسے اپنے بل سے باہر لے جاتی ہیں اور دھوپ میں سکھاتی ہیں۔ جب اناج سوکھ جاتا ہے تبھی وہ اسے بل میں واپس لے کر جاتی ہیں۔ یعنی یوں لگتا ہے، جیسے انہی یہ علم ہو کہ نمی کی وجہ سے اناج کے دانے سے جڑیں نکل پڑیں گی جو دانے کو اس قابل نہیں چھوڑیں گی کہ اسے کھایا جا سکے۔
یہ وہ حقائق ہیں ، جو سائنس مان کر قرآن کے علم کی تصدیق کرتی ہے کہ قرآن علوم کا واحد مکمل خزانہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ ستمبر ٢٠١٨
Monday, 24 September 2018
قرآن مجید اور علم و حکمت 5
قرآن مجید اور علم و حکمت(٥) "
گذشتہ تحریر میں ہم نے شہد کی مکھی پر اللہ سبحانہ تعالیٰ کی نازل
کی گئی آیت کا ترجمہ لکھا تھا ۔ ایک اور توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات مبارکہ میں شہد کی مکھی کے لیے جو صنف استعمال کی گئی ہے،
وہ مادہ کی ہے ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غذا کی تلاش میں نکلنے والی شہد کی مکھی مادہ ہوتی ہے۔ بالفاظ دیگر سپاہی یا کارکن شہد کی مکھی بھی مادہ ہی ہوتی ہے۔
سائنس کا خیال تھا کہ شہد کی کارکن مکھیاں نر ہو تی ہیں اور وہ شہد کی بادشاہ مکھی (نر) کو جو ابدہ ہوتی ہیں۔ لیکن یہ درست نہیں۔ شہد کی کارکن مکھیاں مادہ ہوتی ہیں اور وہ شہد کی بادشاہ مکھی کو نہیں بلکہ ملکہ مکھی کو اپنی کارگزاری پیش کرتی ہیں۔پچھلے تین سو سال تک یہی تحقیق تھی مگر اب قرآن کی اس آیت کے مطابق تحقیق ثابت کرتی ہے کہ قرآن نے جو لکھا ، وہی درست ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٣ ستمبر ٢٠١٨
Sunday, 23 September 2018
میری منفی سوچ
" میری منفی سوچ"
مجھے تو فخر ہے اور اسے اللہ کا فضل سمجھتا ہوں . کہ میری سوچ میں چودہ سو سال پرانا نظام آج کے تمام نظاموں سے بہتر ہے . مجھے فخر ہے کہ مظلوم آج بھی میری نظر میں معزز ہے اور میرا دوست ہے . ظالم کے ظلم کے سامنے کھڑا ہو جانے کو حماقت نہیں سمجھتا ہوں , اللہ کا کرم خیال کرتا ہوں . اسلامی روایات کو دقیانوسی نہیں سمجھتا ہوں , آج کی روایات کو دیوانگی خیال کرتا ہوں . مجھے اپنی منفی سوچوں پر قائم رہ کا دل کا اطمینان ملتا ہے , موسیقی سے دل لبھانے کی ضرورت نہیں پڑتی . اپنی علمی قابلیت کو اللہ کے احکامات تک محدود رکھنے میں استراحت محسوس کرتا ہوں . کفر اور طاغوت کے معرکوں کی داستانیں ڈھونڈھنے سے گریزاں رہتا ہوں . اپنی زبان بول کر فخر ہوتا ہے اور چبا چبا کر بولی جانے والی انگریزی مجھے مرعوب نہیں کرتی . میری منفی سوچ میرا اعزاز ہے , اسے تادم مرگ قائم رکھنا چاہتا ہوں . مجھے فخر ہے کہ میری اولاد کی سوچ میں میرا ہی رنگ ہے . میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ مجھ جیسے پتھر کے زمانے کی سوچ والے کو بے لگام اولاد نہیں دی . اطاعت اور تابعداری سے سجے ہوئے بچے , میری قدامت پرستی کا انعام ہیں .
دوست کہتے ہیں , میں دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہوں , میں سمجھتا ہوں , کہ جو انعامات مجھے ملے , وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں . اللہ نے ہر اس نعمت سے نوازا , جس کیلئے دعائیں کی جاتی ہیں .
اس منفی سوچ , اس قدامت پرستی , اس اسلامی شعار سے وارفتگی اور اس پر قائم رہنے کی ھٹ دھرمی میرا سکون اور اطمینان قلب ہے .
ازاد ھاشمی
23 ستمبر 2017
کربلا کے بعد تاریخ کس نے لکھی؟
" کربلا کے بعد تاریخ کس نے لکھی؟ "
ایمان کے اساسی پہلو یہی ہیں کہ ہم جو قرآن میں لکھا ہے ، اسے قبول کریں اور اسکے متوازی کوئی دوسری توجیہ تلاش نہ کریں ۔ قرآن میں فاسق کسے کہا گیا اور اس پر اللہ نے کیا حد مقرر کی ، اس پر دوسری کوئی رائے قائم کرنا " کفر " ہے ۔ دوسرا اساسی پہلو یہ ہے کہ جو اللہ کے رسولؐ نے کہا ، اسے بعینہ مان لیا جائے ۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ " انا من الحسین و حسین منی " اس حدیث پر کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کرتا ۔ اگر اس حدیث کو بنیاد نہ بھی بنایا جائے تو رسولؐ پاک کی جو محبت " حسنین " سے تھی ، وہ مسلمہ بھی ہے اور فطری طور پر بھی تسلیم شدہ ہے ۔
حضور پاکؐ کے بعد ، خلافت راشدہ نہایت ہم آہنگی سے برقرار رہی ۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا دور شروع ہوا ، تو بنو امیہ کے جانشین ، بنو ہاشم سے انتقام اور مخاصمت کی راہ پر چل نکلے ۔ اول تینوں خلفاء قبائلی روایت میں بنو امیہ کا حدف نہیں تھے ، مگر حضرت علیؑ کا براہ راست تقابل بنا کر شورش اور سازش کی فضا قائم کر دی گئی ۔ معاویہ پوری طاقت سے میدان میں کود پڑے ۔ سیاسی چپقلش کو اگر سیاسی حد تک رکھا جائے تو بھی مصالحانہ حل نکل آتے ہیں ۔ مگر حضرت علیؑ پر مساجد میں طعن و تشنیع اور خطبہ جمعہ میں توہین کرنا ، ایک واجب کیطرح اختیار کر لیا گیا ۔ بنو امیہ نے پوری طرح شہنشاہت قائم کردی اور نام امیرالمومنین ہی رکھا اور اسے خلافت کا نام ہی دیا ۔ آل رسولؐ ہی نہیں ، کئی دیگر صحابہؓ کی اولاد بھی ستم رسیدہ ہوئی ۔ خلافت شام نے مکہ اور مدینہ پر بھی چڑھائی کی ۔ سوال یہ ہے کہ اس چڑھائی کے اسباب کیا تھے اور سلطنت بنو امیہ کے اہداف کیا تھے ؟ واقعہ حرہ ، مکہ اور مدینہ پر یلغار کرنے سے کونسی اسلام کی خدمت ہو رہی تھی ۔ تاریخ لکھنے والوں نے ان تمام حالات و واقعات پر کیوں چپ سادھ لی ؟ تاریخ لکھنے والوں نے کیوں نہیں لکھا کہ اسلام میں احادیث کے حوالے سے کتنا مواد شامل کردیا جو صرف بنو امیہ کی تقویت کیلئے کیا گیا ۔ آل رسولؐ کی امامت سے اعراض کر کے عراق ، شام اور ایران کے محققین کو سند امامت کیسے مل گئی ؟
تاریخ لکھنے والوں نے یہ اہم سوال حل کیوں نہیں کئے ؟ ان اہم موضوعات پر خاموشی اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ بنو امیہ کی مرضی اور منشاء ہی سے سب کچھ لکھا گیا ۔ بیعت یزید کو ، یزید کے حق پر ہونے کی دلیل لکھنے والوں نے یہ کیوں نہیں لکھا کہ بیعت کیلئے جبر نہیں کیا جا سکتا ، لابنگ نہیں کی جا سکتی ۔ یہ ایک صوابدیدی اختیار ہے ، جسے بنو امیہ نے کلی طور پر ختم کردیا ۔ تاریخ دانوں نے کیوں نہیں لکھا کہ جس جس نے بیعت نہیں کی ، اسکا کیا حشر ہوا ۔ تاریخ کیوں نہیں بتاتی کہ جب مکہ پر حملہ ہوا تو کتنے غیر مسلم لشکر یزید میں شامل تھے ۔
یہ تاریخ لکھنے والے کون تھے ؟ انہوں اسلام کی خدمت کی یا ملوکیت کو پروان چڑھایا ؟ اسلام کی ہیئت بدل کر ساری دنیا بھی فتح کر لی جاتی تو کونسا کمال تھا ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ ستمبر ٢٠١٨