Tuesday, 25 September 2018

قرآن مجید اور علم و حکمت 6

" قرآن مجید اور علم و حکمت(٦ )  "
حشرات الارض میں چیونٹی بظاہر معمولی حیثیت رکھتی ہے ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ہاں اسکی اہمیت بھی ایک علم کی شاخ ہے ۔ قرآن وہ کتاب جس میں چودہ سو سال سے پہلے اس پر ایک موضوع پیش ہوا ۔ جو چیو نٹیوں کا طرز حیات اور باہمی روابط پر تحقیق ہے ۔ فرمایا گیا
"  جب یہ ( حضرت سلیمانؑ کا لشکر )   چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔ اے چیوٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جائو کہیں ایسا نہ ہو کہ سیلمان اور اس کے لشکر تمھیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔"
ہو سکتا ہے کہ ماضی میں بعض لوگوں نے قرآن پاک اس مکالمے پر سوچا ہو کہ چیونٹیاں تو صرف کہانیوں کی کتابوں ہی میں باتیں کرتی ہیں،  اور ہو سکتا ہے کہ چیونٹی پر تحقیق کی وجہ بھی اسی آیت کے پس منظر میں کی گئی ہو ۔ حالیہ برسوں کے دوران چیونٹیوں کے طرز حیات، باہمی روابط اور پیچیدہ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے بہت کچھ علم ہو چکا ہے ۔  جو پہلے  حاصل نہ تھیں۔ تحقیق سے انکشاف ہواہے کہ چیونٹی کا طرز حیات انسانی معاشرت سے غیر معمولی مما ثلت رکھتا ہے-
١) چیونٹیاں بھی اپنے مرنے والی ساتھوں  دفناتی ہیں۔
٢) ان میں کار کنوں کی تقسیم کا پیچیدہ نظام موجود ہے جس میں نگران،نگران کارکن اور مزدور وغیرہ شامل ہیں۔
٣)  وہ آپس میں ملتی ہیں اور گفتگوبھی کرتی ہیں۔
٤) ان میں باہمی تبادلہ کا ترقی یافتہ نظام موجود ہے۔
٥) ان کی کالونیوں میں باقاعدہ مارکیٹیس ہوتی ہیں جہاں وہ اشیاء کا تبادلہ کرتی ہیں۔
٦) سردیوں میں لمبے عرصے تک زیر زمین رہنے کے لیے وہ اناج کے دانوں کا ذخیرہ بھی کرتی ہیں۔ اور اگر کوئی دانہ پھوٹنے لگے، یعنی اس سے پودا بننے لگے تو وہ فوراً اس کی جڑیں کاٹ دیتی ہیں۔ جیسے انہیں یہ پتا ہو کہ اگر وہ اس دانے کو یونہی چھوڑ دیں گی تو وہ بڑھنا اور پکنا شروع کر دے گا۔ اگر انکا محفوظ کیا ہوا اناج کسی بھی وجہ سے مثلاً بارش سے گیلاہو جائے تو وہ اسے اپنے بل سے باہر لے جاتی ہیں اور دھوپ میں سکھاتی ہیں۔ جب اناج سوکھ جاتا ہے تبھی وہ اسے بل میں واپس لے کر جاتی ہیں۔ یعنی یوں لگتا ہے، جیسے انہی یہ علم ہو کہ نمی کی وجہ سے اناج کے دانے سے جڑیں نکل پڑیں گی جو دانے کو اس قابل نہیں چھوڑیں گی کہ اسے کھایا جا سکے۔
یہ وہ حقائق ہیں ، جو سائنس مان کر قرآن کے علم کی تصدیق کرتی ہے کہ قرآن علوم کا واحد مکمل خزانہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment