" تیس بتیس سال کا قاتل چھوکرا "
اسلام کا نظام کوئی کھیل نہیں تھا . کفر , شرک , الحاد اور بغض و کینہ اگانے والے خطہ پہ بہت مشکل سے اسلام کی روشنی پھیلی تھی . ہدایت کے طرز بود و باش کو برقرار رکھنے کیلئے اللہ کے نبی اور اسکے ساتھیوں نے کیا کٹھن وقت گزارا . الفاظ کے احاطے سے بہت باہر ہے .
معاویہ کی ضد کہ اسی کا بیٹا خلافت کی مسند پر بیٹھے گا , خواہ اسلام کو کوئی بھی قیمت کیوں نہ چکانا پڑے . بنو ہاشم پر بنو عبد شمس کی برتری کا خواب اصل فساد تھا , جس بنا پر آپ صل اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تانا بانا بننا شروع ہوا . عدم استحکام کی صورت پیدا کی جاتی رہی , خلفاء کی شہادتیں اسی کشمکش کی کڑی تھی . حضرت علی کرم اللہ وجہہ , حضرت حسن علیہ السلام نے کبھی حق جتا کر مخاصمت کی راہ اختیار نہیں کی . جہاں جہاں ضرورت پڑی , خلیفہ وقت کے ساتھ کھڑے ہوتے رہے . مفاہمت کی کوشش ہی اصل ضرورت تھی , اسے اہل بیت اور آل رسول نے اپنائے رکھا . اقتدار کی بھوک , صرف بنو امیہ کو تھی , اسکے پیچھے کفر کے وقت کی وہ ضد تھی . حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی ہر ممکن کوشش کی کہ کربلا کی زمین خون سے نہ رنگی جائے . مگر کھلنڈری طبیعت , شکار اور لہو لعب کا شوقین , بنو امیہ کا نوجوان یزید . اس پر بضد تھا کہ بنو ہاشم کا سورج غروب کر کے رہے گا . آل رسول کا عبرت ناک انجام اسکے اقتدار کی ضرورت تھی . سو وہ کربلا کی زمین کو آل رسول کے خون سے رنگ کر رہا . بربریت کا یہ کھیل , یزید کی امنگ کے مطابق مثبت رہا کہ اسکے بعد اسلام کا نظام بنو امیہ کے ہاتھ میں آگیا . آل رسول میں جو بھی علم و عمل کی شمع روشن ہوئی , بنو امیہ اسے بجھاتے رہے . نئے نئے فقہ , نئی نئی منطق , اپنی مرضی کا اجتہاد , اور اپنی ضرورت کی احادیث اسی دور کی ایجاد ہیں . جس سے مسلمان فرقوں میں بٹ گئے . مسالک کی کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو گئی . جس سے اسلام کا نام لینے والے کمزور سے کمزور ہوتے چلے گئے .
آج اس کھلنڈرے قاتل کو حق ثابت کرنے کی سعی کا آغاز بھی ہو چکا ہے . ثبوت میں وہی تحریریں ہیں , جو بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں لکھی گئیں . وہی تصور تقویت پکڑ چکا ہے کہ قران کو سمجھنے کیلئے انہی تحریروں کا سہارا لیا جائے . جو بنو امیہ کو تقویت دیتی ہیں .
کیا قصور تھا کربلا کے شہیدوں کا , کیا جرم تھا آل رسول کے اماموں کا . آخر انکی تعلیمات کو ختم کرنے کی کوشش کیوں کی گئی .
ہے کوئی مفکر جو ثابت کر سکے کہ آل رسول نے کبھی فساد کیا . پھر انکا قتل کیوں .
ازاد ھاشمی
27 ستمبر 2018
Wednesday, 26 September 2018
تیس بتیس سال کا قاتل چھوکرا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment