Wednesday, 26 September 2018

کربلا کے مسلمان

" کربلا کے مسلمان "
کربلا میں دو حریف آمنے سامنے تھے ۔ایک حریف پوری طاقت کے ساتھ میدان میں تھا ، دوسرا چند اہل خاندان کے ساتھ دین کی خاطر سفر میں تھا ۔ اس کمزور حریف کے ساتھ پردہ دار خواتین تھیں ، چند نوجوان تھے ، کچھ بچے تھے اور چند بوڑھے ۔ دوسرے حریف کے ساتھ حاکم وقت کے بہترین تیر انداز ، بہترین تلوار باز اور جنگی چالوں سے بہترین اگاہی رکھنے والے ہزاروں لوگ ۔ کمزور حریف کے قافلے میں بہت سارے ایسے بھی تھے ، جو آل رسولؐ تھے ۔ وہی آل رسولؐ جن پر درود بھیجے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔
اکثر سوچتا ہوں اور سوال کا جواب نہیں پاتا ہوں کہ آخر اس کربلا میں ہزاروں مسلمان جو آل رسولؐ کا راستہ روکے کھڑے تھے ۔ کیا وہ مسلمان تھے بھی کہ نہیں ۔ کیونکہ اگر مسلمان تھے تو نماز تو پڑھتے ہونگے ۔ اگر نماز پڑھتے ہونگے تو
" اللھم صل علی محمد و علی آل محمد " پڑھنا لازم ہے ۔ عرب تھے تو جانتے بھی ہونگے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ پھر نماز پڑھنے والوں نے " آل محمد " پر تیر کیسے برسا دئیے ؟ آل رسولؐ پر  تلواریں کیسے سونت لیں ؟ گردنیں کیسے کاٹ دیں ؟ جسموں پر گھوڑے کیسے دوڑا دئیے ؟ پانی کیسے بند کردیا ؟ نیزوں پہ سر کیسے ٹانگ ڈالے ؟ رسولؐ کے گھر کی خواتین کے ہاتوں میں رسیاں کیسے باندھ ڈالیں ؟
یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اسلام کے بھیس میں ، وہی پرانے مشرک تھے ۔ جو اللہ کے نام کو سننے سے گریزاں تھے ۔ انہوں نے فتح مکہ کے وقت مسلمان ہونے کا ایک ڈھونگ  رچایاتھا ۔ یہ انہی سرداروں کی اولاد تھی جنہوں نے رسولؐ کو قتل کرنے کیلئے کئی میدان سجائے ۔ معلوم نہیں جو مسلمان ہی نظر نہیں آ رہے ، ان پر اللہ کے راضی ہونے کا اعلان کیسے کیا جا سکتا ہے ۔ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ انہیں جنت کی بشارت رسولؐ نے دی ہوگی ۔ یہ تو آل محمدؐ کے دشمن تھے اور دشمنی کو ثابت کر دکھایا ۔ جن کے دل کی حالت" علیم بالذات الصدور " جانتا ہو ، ان سے رسولؐ کیسے بے خبر ہوگا ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment